نیوزی لینڈ: گائیوں کے ڈکار کو ماحول دوست بنانے کے لیے محلول تیار

85

گائیں اپنے ڈکار کے ساتھ ماحول دشمن میتھین گیس کا اخراج کرتی ہیں، جسے کم کرنے کے لیے اب نیوزی لینڈ کے سائنس دانوں نے کوبوچا نامی ایک خاص محلول بنایا ہے۔

خبر رساں ادارے روئٹرز کے مطابق فونٹیرا ریسرچ سینٹر کی پرنسپل سائنس دان شلومی باسیٹ کا کہنا ہے کہ ’کوبوچا ایک قدرتی محلول ہے جو نہ صرف نیوزی لینڈ کے فارمز میں بلکہ دنیا بھر میں میتھین گیس کے اخراج کو کم کر سکتا ہے۔‘

شلومی نے کہا: ’میرے لیے کامیابی کا لمحہ وہ تھا جب ہمیں اس محلول کے مویشیوں پر آزمائشی استعمال کے نتائج ملے اور ہم یہ بتا سکے کہ میتھین گیس کا اخراج 20 فیصد کم ہوا تھا اور مزید کم ہو رہا تھا۔ مزید تجربات ابھی جاری ہیں لیکن یہ کامیابی کا احساس دلانے والا لمحہ تھا۔‘

اس محلول کو پانی یا دودھ میں ملا کر تیار کیا جاتا ہے جو 2024 میں مارکیٹ میں دستیاب ہو گا یعنی مجوزہ ٹیکس کے لاگو ہونے سے ایک سال پہلے۔

گذشتہ ماہ ہی نیوزی لینڈ نے ملک میں موجود تین کروڑ 60 لاکھ گائیوں اور بھیڑوں کے جسمانی افعال کے نتیجے میں خارج ہونے والی ان گیسوں پر ٹیکس عائد کرنے کی تجویز دی تھی، جو آلودگی کا سبب بن رہی ہیں۔تاہم نیوزی لینڈ کے طاقتور فارمنگ کے شعبے نے فوری طور پر اس تجویز کی مذمت کی تھی۔

زرعی صنعت کے مرکزی لابی گروپ فیڈریٹڈ فارمرز سے وابستہ کاشت کاروں نے متنبہ کیا تھا کہ اس تجویز سے اندرون ملک خوراک کی پیداوار کو نقصان پہنچنے کا خطرہ ہے۔

کاشت کاروں کا کہنا ہے کہ اس منصوبے سے ’نیوزی لینڈ جیسے چھوٹے ملک کو بری طرح نقصان پہنچے گا‘ اور مویشیوں کے باڑوں کی جگہ درخت لے لیں گے۔

نیوزی لینڈ کی فارمنگ کی صنعت اس کی معیشت کے لیے انتہائی اہم ہے، لیکن وہ ملک کے گرین ہاؤس گیسوں کے اخراج میں سے تقریباً نصف کا سبب ہے۔

اس ملک کی آبادی صرف 50 لاکھ ہے لیکن یہاں بڑے گوشت اور ڈیری مصنوعات کے لیے ایک کروڑ کے لگ بھگ مویشی اور دو کروڑ 60 لاکھ بھیڑیں پائی جاتی ہیں۔

نیوزی لینڈ کی حکومت نے گرین ہاؤس گیسوں کے اخراج کو صفر کرنے کا منصوبہ بنا رکھا ہے۔ اس منصوبے کے تحت یہ عزم بھی شامل ہے کہ باڑوں میں پالے جانے والے مویشیوں کے میتھین گیس کے اخراج میں 2030 تک 10 فیصد اور 20250 تک 47 فیصد کمی لائی جائے گی۔