• 425
    Shares

رملہ: فلسطین کے غرب اردن کے علاقے راملہ سے تعلق رکھنے والی ایک خاتون قیدی انہار الدیک جو نو ماہ کی حاملہ ہیں نے اسرائیلی دیمون جیل کے اندر سے اپنے اہل خانہ کو ایک دردناک پیغام بھیجا ہے۔اس کے اہل خانہ کی طرف سے شائع کردہ ایک خط میں اسیرہ انہار الدیک نے اسرائیلی جیل کے اندر اپنے درد اور خوف کا اظہار کیا۔اس نے اپنے خط میں لکھا ہے کہ میں جولیا کو غیر فطری انداز میں یاد کرتی ہوں۔میرے دل اس کے لیے بہت روتا ہے۔میں نے اسے گلے لگایا اور اسے اپنے دل سے تھام لیا۔ میرے دل میں درد کو لکیروں میں نہیں لکھا جا سکتا۔

اس نے کہا کہ میں کیا کروں اگر میں اآپ سے بہت دور زچی کے عمل سے گذروں اور میں بچے کو جنم دیتے وقت تکلیف سے گذروں توآپ کیا کریں گے۔ آپ جانتے ہیں کہ سیزیرین ڈیلیوری کیا ہے؟۔الدیک نے دعا کی کہ اے رب میں تیری رحمت کے لیے ترس رہی ہوں۔ میں بہت تھکی ہوئی ہوں اور مجھے ’فرش‘ پر سونے کے نتیجے میں کمر میں شدید درد ہے۔ میں نہیں جانتی۔ میں آپریشن کے بعد اس پر کس طرح سوسکوں گی۔اس نے درد بھرے الفاظ میں کہا کہ میں آپریشن کے بعد اپنے پہلے قدم کیسے اٹھاؤں گی اور وارڈن کس طرح نفرت میں رکھتا ہے۔

اسیرہ الدیک کے مطابق وہ مجھے اور میرے بیٹے کو تنہائی میں نہیں ڈالنا چاہتے۔ کرونا وائرس کی وجہ سے میرا دل صدمے سے دوچار ہے۔اس نے مزید کہا کہ میں نہیں جانتی کہ میں کس طرح اس پر اپنا ذہن پھیروں گی اور اسے ان کی خوفناک آوازوں سے بچاؤں گی جب اس کی ماں مضبوط نہیں ہوگی وہ اس کے سامنے کمزور ہو جائے گی۔

ورق تازہ نیوز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں  https://t.me/waraquetazaonlineاور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔ 


اپنی رائے یہاں لکھیں