نوپور شرما کی حمایت: سوشل میڈیا پر تبصرہ پر بہار میں نوجوانوں میں تصادم، راجستھان میں وکیل کوسرقلم کرنے کی دھمکیاں

44

نئی دہلی:6۔جولائی (ایجنسیز) سوشل میڈیا پر نوپور شرما کی حمایت کو لے کر ملک کے مختلف حصوں سے کئی چونکا دینے والے واقعات سامنے آرہے ہیں۔ تازہ ترین معاملہ بہار اور راجستھان کا ہے۔ بہار میں جہاں نوپور شرما کی حمایت میں ایک پوسٹ کو لے کر دو نوجوان آپس میں لڑ پڑے۔ اسی دوران راجستھان کے اجمیر میں ایک وکیل کو سر قلم کرنے کی دھمکی بھی ملی۔

اگر بہار کے واقعہ کی بات کریں تو معاملہ بھوجپور کے آرا کا ہے۔ اس واقعہ میں ملوث نوجوان کو پولیس نے منگل کی شام کو اپنی تحویل میں لے لیا ہے۔ معاملے کی جانچ کر رہی پولیس کے مطابق ملزم نوجوان نے کچھ دن پہلے نوپور شرما کی حمایت میں ایک سوشل میڈیا پوسٹ لکھی تھی۔ معاملہ اس وقت بڑھ گیا جب اسی پوسٹ پر ایک اور نوجوان نے تبصرہ کیا۔ اس تبصرے کی وجہ سے دونوں کے درمیان جھگڑا شروع ہوگیا جو بعد میں مارپیٹمیں بدل گیا۔ افسر کے مطابق معاملے کی اطلاع ملتے ہی پولیس ٹیم موقع پر پہنچی اور حالات کو قابو میں کیا۔

اس معاملے کے بارے میں آرا کے ڈی ایم راجکمار نے کہا کہ یہ واقعہ ایک چائے کی دکان پر پیش آیا۔ کچھ لوگ دکان پر چائے پی رہے تھے۔ اسی دوران سوشل میڈیا پوسٹ پر دونوں نوجوانوں کے درمیان جھگڑا شروع ہوگیا اور دیکھتے ہی دیکھتے آپسی لڑائی مارپیٹ میں بدل گئی۔ راج کمار نے کہا کہ لوگوں کو ایسی افواہوں پر دھیان نہیں دینا چاہیے۔ یہ صرف دو لوگوں کی لڑائی تھی۔ دونوں کو فی الوقت امن و امان برقرار رکھنے کے لیے تحویل میں لیا گیا ہے۔

دوسری جانب ادے پور میں کنہیا لال قتل کیس کے بعد اجمیر میں ایک وکیل نے دعویٰ کیا ہے کہ انہیں سوشل میڈیا پر دھمکیاں ملی ہیں کہ ان کے ساتھ بھی ادے پور جیسا واقعہ کروایا جائے گا۔ بار ایسوسی ایشن نے وکیل کی جانب سے اجمیر کے ایس پی کو ایک میمورنڈم بھی پیش کیا ہے۔ اس میمورنڈم میں وکلاء کی جانب سے ملزمان کے خلاف سخت کارروائی کا مطالبہ کیا گیا ہے۔ اس معاملے کے حوالے سے متاثرہ کے وکیل بھانو پرتاپ سنگھ چوہان نے کہا کہ کچھ دن پہلے میں نے سوشل میڈیا پر ایک ویڈیو دیکھی جو نوپور شرما کے بیان پر تھی لیکن ٹیپو سلطان کو لے کر بحث چل رہی تھی۔اس ویڈیو کو دیکھنے کے بعد چوہان نے ایک تبصرہ کیا۔ چوہان نے کہا کہ سوشل میڈیا پر ہونے والی بحث صرف ایک عام بحث تھی۔ لیکن جب میں نے اگلے دن آ کر یوٹیوب کھولی تو مجھے سہیل سید نامی شخص نے سر قلم کرنے کی دھمکی دی تھی۔ اس دھمکی کے بعد چوہان نے راجستھان حکومت کے ‘سمپرک پورٹل پر شکایت بھی کی۔