نئی دہلی 8 نومبر (سیاست ڈاٹ کام) وزیر فینانس ارون جیٹلی نے آج کہاکہ نوٹ بندی کے نتیجہ میں معیشت باقاعدہ ہوئی اور ٹیکس نیٹ ورک میں اضافہ ہوا جس کے باعث حکومت کو غریبوں کے لئے اور انفراسٹرکچر ڈیولپمنٹ کے لئے زیادہ وسائل مختص کرنے میں مدد ملی۔ نوٹ بندی کے دو سال کی تکمیل کے موقع پر فیس بُک پر پیش کردہ ایک پوسٹ میں جیٹلی نے کہاکہ نیشنل ڈیموکریٹک الائنس (این ڈی اے) حکومت کے ابتدائی چار سالوں میں انکم ٹیکس ریٹرنس داخل کرنے والوں کی تعداد مئی 2014 ء میں 3.8 کروڑ سے بڑھ کر 6.86 کروڑ تک پہونچ گئی ہے۔ اِس حکومت کے پہلے پانچ سال مکمل ہونے تک ہم انکم ٹیکس اسسمنٹ کرانے والوں کی تعداد کو دوگنا کرنے کے قریب ہوجائیں گے۔ اُنھوں نے نوٹ بندی کا اثر کے زیرعنوان اپنے پوسٹ میں اِس بڑے اقدام کا پوری طرح دفاع کیا۔ 8 نومبر 2016 ء کو 500 روپئے اور 1000 روپئے کے کرنسی نوٹوں پر پابندی عائد کردی گئی تھی۔ وزیر موصوف نے کہاکہ اِس دوررس نتائج کے حامل فیصلے کے نتیجہ میں معیشت کو زیادہ باقاعدہ بنانے میں مدد ملی، وصولیات میں اضافہ ہوا، غریبوں کے لئے اور بہتر انفراسٹرکچر کے ساتھ ساتھ ہمارے شہریوں کے لئے بہتر معیار کی زندگی فراہم کرنے کے لئے زیادہ وسائل اکٹھا کئے جاسکے۔ اُنھوں نے مزید کہاکہ گڈس اینڈ سرویسس ٹیکس (جی ایس ٹی) پر عمل آوری کے ساتھ اب ٹیکس سسٹم سے بچنا مشکل تر ہوچکا ہے اور بالواسطہ محاصل اور مجموعی دیسی پیداوار (جی ڈی پی) کا تناسب بڑھ کر 5.4 فیصد ہوچکا ہے جو جی ایس ٹی سے قبل 2014-15 ء میں 4.4 فیصد تھا۔ نوٹ بندی کے اقدام پر ہونے والی تنقیدوں کو عدم معلومات کا نتیجہ قرار دیتے ہوئے جیٹلی نے کہاکہ کرنسی کو قرق کرلینا نوٹ بندی کا مقصد نہیں رہا۔ تاہم یہ حقیقت ہے کہ نوٹ بندی کے بعد بینکوں میں لگ بھگ ساری رقم جمع کردی گئی۔ اُنھوں نے بتایا کہ باقاعدہ معیشت کا حصول اور متعلقین کو ٹیکس ادا کرنے کی ترغیب دینا وسیع تر مقصد رہا۔ موجودہ سسٹم کو بڑے پیمانے پر ردوبدل کے ذریعہ سدھارنے کی ضرورت ہے تاکہ ہندوستان کیش سے ڈیجیٹل معاملتوں کی طرف بڑھ سکے۔ اِس سے ظاہر ہے ٹیکس کی زیادہ وصولیات اور ٹیکس کا بڑا نیٹ ورک حاصل ہوں گے۔ نوٹ بندی کا اعلان کرتے ہوئے کہا گیا تھا کہ سسٹم میں کالے دھن کو ختم کرنا مقصود ہے۔ 8 نومبر 2016 ء کو زیرگشت 500 روپئے اور 1000 روپئے کے نوٹس مالیتی 15.41 لاکھ کروڑ روپئے میں سے 99.3 فیصد یا 15.31 لاکھ کروڑ روپئے مالیت کے نوٹس بینکنگ سسٹم میں واپس ہوگئے۔ اِس کا مطلب یہ ہوا کہ غلط کرنسی کے صرف 10,720 کروڑ روپئے بینکنگ سسٹم میں واپس نہیں ہوئے۔ نوٹ بندی کے بعد پرانے نوٹوں کو جنھیں مخصوص بینک نوٹس کا نام دیا گیا، بینکوں میں جمع کرانے کی اجازت دی گئی۔ جبکہ انکم ٹیکس تنقیح کے دوران خلاف معمول ڈپازٹس دیکھنے میں آئے۔ جیٹلی نے کہاکہ نوٹ بندی نے نقدی رکھنے والوں کو بینکوں میں رقم جمع کرادینے پر مجبور کیا۔







اپنی رائے یہاں لکھیں