سمیع اللہ خان،ممبئی

میں اپنے گھر کی طرف سفر کررہاہوں، چونکہ بیماری سے اٹھنے کے بعد بھی ابھی دوائیں چل رہی ہیں اور سختی سے مجھے گرم پانی پینے کی تاکید ہے، لہذاٰ آج گجرات کے ایک ریلوے اسٹیشن پر اپنے ایک ساتھی کو میں نے گرم پانی لانے کی درخواست کی تھی، ہمارے اس دوست کے ذریعے کچھ مزید لوگوں کو خبر ہوگئی تو، وہ لوگ بھی ان کے ساتھ اسٹیشن آگئے، ان کےساتھ مقامی کارپوریٹر بھی آگئے، تین چار منٹ ہی ٹرین کا وقفہ رہا لیکن بڑی اچھی ملاقات رہی، سارے ایمانی برادران کا بیحد شکریہ ۔

اسٹیشن پر ملاقات کے دوران ہماری ٹرین کے ٹی۔سی صاحبان دور کھڑے غور سے دیکھتے رہے پھر جب ٹرین چل پڑی تو وہ ٹی۔سی میرےپاس آئے اور پوچھنے لگے کہ ” صاحب ۔ آپ کونسے سنت ہیں؟ ” میں اور میرا ساتھی اس غیرمتوقع سوال سے ہڑبڑا گئے، میں نے کہا نہیں نہیں، میں کوئی سنت ونت نہیں ہوں، لیکن ان کا سوال جاری رہا دوسرے ٹی۔سی جو مسلمان بھی تھے انہوں نے پوچھا، آپ مولانا ہو یا عالم؟ اس پر میں نے تو بڑی مشکل سے اپنی ہنسی روک لی اور میرا ساتھی منہ موڑ کر ہنسی مکمل کرلیا، میں نے انہیں جواب دیا کہ، ہاں میں عالم ہوں، دیگر ٹی۔سی غیرمسلم تھے، اور ایک مسلمان، وہ لوگ اپنی نشستوں پر واپس چلے گئے، پھر اس کےبعد ان کے درمیان کیا گفتگو ہوئی نہیں معلوم،،، مسلمان ٹی سی نے لفظ عالم کی کیا تشریح کی نہیں معلوم،

میں نے اپنے ساتھی کے ذریعے ان لوگوں کو گوشت کے کچھ ٹکڑے بھیجے جسے غیرمسلم ٹی۔سی نے بڑی محبت کےساتھ قبول کرلیا اور اس کےبعد وہ دو بار واپس آئے، ایک ٹی سی مراٹھی نکلے تو ان سے مراٹھی میں بھی گفتگو ہوئی، جس سے انہیں مزید مناسبت ہوگئی، دوران گفتگو وہ بار بار اپنی روایات کےمطابق احترام کا اظہار بھی کرتے جاتے اور کہتے کہ، دھرم گرو کسی بھی دھرم کا ہو، اس کا آدر نہیں کرو تو پاپ لگتا ہے، جبکہ میں نے فورا نفی کی کہ بھائی میں دھرم گرو وغیرہ بالکل نہیں ہوں، اور مجھے بڑی کوفت ہورہی تھی اس لفظ سے کہ کہاں فِٹ کررہاہے بندہ، لیکن وہ تو اپنی ہی دھن میں بس شروع تھے، لاکڈاؤن کرفیو کے وقت میں اتنے لوگوں کے آجانے سے بھی متاثر ہوئے۔ آخری دفعہ جب آئے تو مزدوروں کے بارے میں اسلامی تعلیمات کے بارے میں پوچھا اور جماعت تبلیغ کےمتعلق بھی، میں نے اللہ کی مدد سے جوکچھ مجھے معلوم تھا سمجھانے کی کوشش کی، پتا نہیں سمجھا سکا کہ نہیں.

اس دوران جس چیز کا مجھے شدت سے احساس ہوا وہ ان غیرمسلموں کے دلوں میں لفظ مولانا اور عالم کا احترام، وہ کئی بار دونوں ہاتھ نمسکار والے انداز میں جوڑ کر میرے سامنے باقاعدہ سر جھکائے اور کہا کہ ۔ صاحب جی آشیرواد دیجیے گا ۔ ہمارے لیے دعا کیجیے گا۔ میں کسی غیرمسلم ٹی۔سی جوکہ عمر میں بظاہر میرے والد سے بھی بڑے لگ رہےتھے اور میں بالکل نوجوان، ان کی طرف سے ایسے اپنے سامنے ہاتھ جوڑ کر اور گردن جھکا کر محبت کے اظہار کی توقع نہیں رکھتا تھا، ان کی بار بار گزارش سے میں الگ شرمندہ ہوا جارہا تھا کہ مجھ جیسے ناکارہ انسان سے آشیرواد کے لیے کہہ رہےہیں! ۔

جب کہ چاروں طرف سے بس، نفرت ہی نفرت اور آگ بھڑک رہی ہے، ہندوستان کی حکومت اپنی مشنریوں کےساتھ ریاستی سطح پر نفرت بھڑکا رہی اور اسلام دشمنی کو فروغ دینے میں لگی ہوئی ہے، ایسے وقت میں غیرمسلم ٹی۔سی کےساتھ اس تجربے نے دل کو بہت ٹھنڈا کیا، دوران گفتگو اندازہ بھی ہوا کہ بھاجپا اور آرایس ایس سے زیادہ ان تک ہندوستان کی فسادی گودی میڈیا کا اثر پہنچا ہے* لیکن یہ لوگ قدرے سمجھدار اور پختہ معلوم پڑتے تھے اسلیے ان پر میڈیا کا زہر اثرانداز نہیں ہوا، البتہ ان کو اسلام کی کچھ تعلیمات بتا کر، بہت ہی اچھا اور سکون سا محسوس کرتاہوں، محبتیں اور انسانیت کبھی مر نہیں سکتی، انہیں کوئی ختم نہیں کرسکتا، اللہ جلدازجلد ہمارے ملک بلکہ پوری دنیا میں ایسی حسین اور محبت آمیز بین المذاہب معاشرت کو قائم فرمائے _
کاش کہ علمائے کرام کو بھی سمجھ آئے کہ ان کا مقام و منصب کس قدر محترم ہے، ابھی بھی غیرمسلموں کے درمیان ان کی کیا وقعت ہے، اور اس کےمطابق اپنی ذمہ داریوں کا احساس کریں_
✍: سمیع اللّٰہ خان
ksamikhann@gmail.com