• 425
    Shares

اسرائیل میں آباد عرب شہریوں اور مکینوں پر 2003 ءسے اپنے فلسطینی شریکِ حیات سے ملنے پرعاید پابندی ختم ہو گئی ہے اور اسرائیلی پارلیمان اس متنازع قانون میں توسیع کی منظوری دینے میں ناکام رہی ہے۔

اسرائیل کے نئے وزیراعظم نفتالی بینیٹ کی پارلیمان میں یہ پہلی شکست ہے اور وہ اپنے حکومتی اتحاد میں شامل یہودی بائیں بازو کی جماعتوں اور عرب قدامت پسندوں کی حمایت حاصل کرنے میں ناکام رہے ہیں۔ان دونوں گروپوں نے اس قانون کی شدید مخالفت کی ہے۔

پارلیمان میں اس متنازع قانون پر رائے شماری کے وقت 59 ارکان نے اس کے حق میں ووٹ دیا اور 59 ارکان ہی نے اس کی مخالفت کی ہے۔اس طرح یہ قانون ختم ہو گیا ہے۔اس سے یہ بھی ظاہر ہوتا ہے کہ 120 ارکان پر مشتمل پارلیمان میں نفتالی بینیٹ کو عددی برتری حاصل نہیں اور ان کی قیادت میں آٹھ جماعتوں پر مشتمل نیا اتحاد تمام سیاسی امور میں یک سونہیں ہے۔

واضح رہے کہ اسرائیل نے دوسری فلسطینی انتفاضہ تحریک کے دوران میں پہلی مرتبہ عرب شہریوں پر یہ پابندی عاید کی تھی۔اس کے حامیوں نے اس کو سلامتی کی بنیاد پر جائز قرار دیا تھا لیکن ناقدین نے اسے اسرائیل کی عرب اقلیت کو نشانہ بنانے کے لیے ایک امتیازی اقدام قرار دیا تھا۔

اس پابندی کی وجہ سے اسرائیل میں آبادعربوں اور 1967 سے اس کے زیر قبضہ فلسطینی علاقوں میں رہنے والے فلسطینیوں کے لیے لامتناہی پیچیدگیاں پیدا ہوگئی تھی اور وہ گوناگوں خاندانی مسائل سے دوچار ہوگئے تھے۔اس قانون سے متاثرہ افراد کی ایک بڑی تعداد اسرائیل کے مقبوضہ مشرقی بیت المقدس میں رہتی ہے،انھیں اسرائیل کی اقامت حاصل ہے لیکن وہ اسرائیلی ریاست کے شہری نہیں ہیں اور نہ اس نے انھیں دوسرے اسرائیلیوں کے مساوی شہری حقوق دیے ہیں۔

پیر کو اسرائیلی پارلیمان کے باہر اس اقدام کے خلاف متاثرہ فلسطینیوں نے احتجاج کیا اوراسرائیلی علاقوں میں آباد عرب شریکِ حیات (خاوند یا بیوی) سے ملنے کے لیے اجازت نامہ کے حصول کی مشکلات کواجاگر کیا۔ وہ اس اجازت نامے کے بغیر اسرائیلی علاقے میں داخل نہیں ہوسکتے۔

علی مِتعب نے اے ایف پی سے گفتگو کرتے ہوئے کہا ان کی اہلیہ کو اسرائیل کے اقامتی حقوق حاصل نہیں۔اس وجہ سے ان کا خاندان ’’مسلسل جیل‘‘کی سی زندگی گزار رہا ہے اور ایک طرح سے مقید ہے۔انھوں نے مطالبہ کیا کہ ’’میری اہلیہ کو بھی اسرائیلی شناختی کارڈ، رہائش کے حقوق اور نقل و حرکت کی آزادی حاصل ہونی چاہیے۔‘‘

فلسطینیوں کو قانونی خدمات فراہم کرنے والے اسرائیل کی انسانی حقوق کی تنظیم حاموکیڈ کی سربراہ جیسیکا مونٹیل کا کہنا تھا کہ ’’اس قانون سے ہزاروں خاندان متاثر ہوئے ہیں اور انھیں بے پایاں مشکلات کا سامنا کرنا پڑا ہے۔‘‘

ورق تازہ نیوز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں  https://t.me/waraquetazaonlineاور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔