بیرسٹر اسد الدین اویسی، وزیر کے ٹی آر، ایم ایل سی کے کویتا، ایم ایل اے شکیل عامر سے مدد کی اپیل
نظام آباد:8 / مارچ (ای میل)یوکرین میں ایم بی بی ایس کی تعلیم حاصل کرنے والی شہر نظام آباد کے مالاپلی کی طالبات ثانیہ صفورہ، بشریٰ نے آج اپنے والد حافظ عبدالحفیظ، قائد کانگریس سید قیصر کے ہمراہ اُردو پریس کلب نظام آباد میں صحافیوں کے ہمراہ بات چیت کرتے ہوئے کہا کہ 25/ فروری کے روز انہیں یونیورسٹی میں اطلاع دی گئی تھی حالات بگڑسکتے ہیں جو طالبات اپنے وطن جانا چاہتے ہیں یہ چلے جاسکتے ہیں اور ان کے آن لائن میں کلاسس لی جائے گی۔ 27/ فروری کا فلائٹ بک کرایا گیا تھا لیکن اس سے قبل ہی بمباری شروع ہوگئی۔

ترکی میں 900 طلباء جو ایم بی بی ایس کے تھے جدوجہد کے بعد اپنے وطن کو واپس لوٹے ہیں اور ان کے سامنے بمباری کے منظر چل رہے تھے اور جان ہتھیلی میں لیکر پید ل چلتے ہوئے ریلوے اسٹیشن پہنچا گیا اور یہاں سے ٹرین کے ہنگری پہنچ کر ذریعہ جہاز دہلی سے حیدرآباد پہنچا گیا انڈین ایمبسی کی جانب سے بھی کوئی اطلاع وقت پر فراہم نہیں کی گئی اور کئی مسائل کا سامنا کرنا پڑا۔

انہوں نے ان کے ساتھ تعاون کرنے والے تمام افراد اور ذرائع ابلاغ سے بھی اظہار تشکر کیا اور کہا کہ یوکرین کے حالات انتہائی ابتر ہے اب ان کی تعلیم ادھوری ہوچکی ہے میڈیسن کی تعلیم حاصل کرنے کی غرض سے یوکرین میں داخلہ لیا گیا لیکن حالات خراب ہونے کی وجہ سے واپس آنا پڑا لہذا ان کی تعلیم کو مکمل کرنے کیلئے تلنگانہ کی حکومت یہاں کے میڈیکل کالجوں میں بالخصوص دکن میڈیکل کالج یا شاداں میڈیکل کالج میں داخلہ دلاتے ہوئے ان کی تعلیم کو مکمل کرنے کیلئے حکومت سے اپیل کی اور صدر مجلس بیرسٹر اسد الدین اویسی بھی اس خصوص میں فوری جائزہ لیتے ہوئے ان کی تعلیم کو جاری رکھیں۔ ثانیہ صفورہ اور بشریٰ نے صدر کل ہند مجلس بیرسٹر اسد الدین اویسی، وزیر انفارمیشن ٹکنالوجی، ایم ایل سی نظام آباد کے کویتا، رکن اسمبلی بودھن محمد شکیل عامر سے ایم بی بی ایس کی تعلیم کو جاری رکھنے میں مدد کی اپیل کی ہے۔