نظامِ خاندان _ مشترکہ یا جداگانہ؟

محمد رضی الاسلام ندوی

موجودہ دور کے سماجی مسائل میں سے ایک اہم مسئلہ خاندان کی بناوٹ (Structure) کا ہے۔آئے دن اس موضوع پر مباحثہ ہوتا رہتا ہے کہ مشترکہ خاندان پسندیدہ ہے یا جداگانہ؟ بعض حضرات مشترکہ خاندان کی خرابیاں اور مسائل خوب بڑھا چڑھا کربیان کرتے ہیں۔ ان کے نزدیک وہ خرابیاں ناقابلِ اصلاح ہوتی ہیں،چنانچہ وہ ہر حال میں مشترکہ خاندان کو ترک کرنے کا مشورہ دیتے ہیں۔دوسری طرف بعض حضرات کی نظر جداگانہ خاندان کی کم زوریوں اور اس سے افرادِ خاندان کو لاحق ہونے والی پریشانیوں پر رہتی ہے، چنانچہ وہ مشترکہ خاندان کو پسندیدہ قرار دیتے ہیں۔

♨️Join Our Whatsapp 🪀 Group For Latest News on WhatsApp 🪀 ➡️Click here to Join♨️

معاملہ اس وقت پیچیدگی اختیار کر لیتا ہے جب یہ بحث شریعت کے دائرے میں ہونے لگتی ہے۔ چنانچہ دونوں فریق اپنے اپنے موقف کو شریعت سے قریب تر اور دینی اعتبار سے مطلوب قرار دیتے ہیں۔ اسلام خاندان کی خوش گواری اور استحکام پر بہت زور دیتا ہے اور اسے کم زور کرنے والے عوامل سے سختی سے روکتا ہے۔ وہ تمام افرادِ خاندان کے حقوق اور فرائض تفصیل سے بیان کرتا ہے اور انھیں پابند کرتا ہے کہ وہ اپنے فرائض کی انجام دہی میں ذرا بھی کوتاہی نہ کریں اور کسی کا حق مارنے سے بچیں۔ اگر ہر ایک کی توجہ اپنے فرائض پر ہوگی تو کسی کا حق غصب نہ ہوگا، بلکہ کسی کو اپنے حق کا مطالبہ کرنے کی ضرورت ہی نہیں پیش آئے گی۔ خاندان کیسا ہو؟ مشترکہ یا جداگانہ؟

اسلام نے اس کو موضوع نہیں بنایا ہے اور اس کے بارے میں کوئی بات قطعیت سے نہیں کہی ہے۔زمانۂ قدیم سے خاندان کے دونوں طرح کے نظام – مشترکہ اور جداگانہ – رائج رہے ہیں۔قرآن مجید میں دونوں کے اشارے پائے جاتے ہیں۔ایک جگہ اللہ تعالی کا ارشاد ہے:”تمھارے اوپر اس میں کوئی مضایقہ نہیں کہ اپنے گھروں سے کھاؤ،یا اپنے باپ دادا کے گھروں سے، یا اپنی ماں نانی کے گھروں سے، یا اپنے بھائیوں کے گھروں سے، یا اپنی بہنوں کے گھروں سے، یا اپنے چچاؤں کے گھروں سے،یا اپنی پھوپھیوں کے گھروں سے،یا اپنے ماموؤں کے گھروں سے،یا اپنی خالاؤں کے گھروں سے،یا ان گھروں سے جن کی کنجیاں تمھاری سپردگی میں ہوں،یا اپنے دوستوں کے گھروں سے۔ اس میں بھی کوئی حرج نہیں کہ تم لوگ مل کر کھاؤ یا الگ الگ۔“(النور:61)اس سے معلوم ہوتا ہے کہ مذکورہ افراد الگ الگ رہائشیں اختیار کیے ہوئے ہیں۔دوسری جگہ قرآن میں اللہ کی نعمتوں میں اس چیز کو بھی شمار کیا گیا ہے کہ کسی شخص کے بیٹے اس کے ساتھ رہتے ہوں اوراس کی خدمت اور مدد کے لیے ہر وقت حاضر رہتے ہوں۔ (المدّثّر: 13) رسول اللہ ﷺ کی بعثت کے وقت عرب کے سماج میں بھی دونوں طرح کے خاندان پائے جاتے تھے۔ صحابۂ کرام میں سے بعض مشترکہ رہائش اختیار کیے ہوئے تھے تو بعض الگ الگ رہتے تھے۔آپؐ نے نہ کسی طرزِ رہائش کو بہتر قرار دیا نہ کسی کو مبغوض۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ دونوں نظاموں میں سے کسی کو بھی اختیار کیا جا سکتا ہے۔ ساتھ ہی اس بات کی کوشش کی جائے کہ اس نظام میں پائی جانے والی خرابیاں دور کی جائیں اور اسے اختیار کرنے کے نتیجے میں جو غیر شرعی کا م ہوتے ہوں ان سے اجتناب کیا جائے۔

یہ بھی پڑھیں:  سوشل میڈیا پر کاپی پیسٹ کا ماحول

مشترکہ خاندان کی ایک بڑی خرابی یہ ہے کہ اس میں مالی معاملات میں شفافیت نہیں رہتی۔ کمانے کی ذمے داری ایک فرد یا چند افراد پر ہوتی ہے، جب کہ فائدہ اٹھانے والے زیادہ افراد ہوتے ہیں۔ان کے درمیان کاموں کی مناسب تقسیم نہیں ہوتی۔اس بنا پر شکایات، تلخیاں اور دوریاں پیدا ہوتی ہیں۔ مال اور اشیائے ضرورت مشترک ہونے کی وجہ سے ان کے استعمال میں لاپروائی اور بے احتیاطی برتی جاتی ہے۔پرایا مال سمجھ کر فضول خرچی کی عادت پڑ جاتی ہے، اپنی ذمے داریوں سے فرار کا جذبہ پروان چڑھتا ہے اور خود کمانے کے بجائے دوسروں پر انحصار کا مزاج بن جاتا ہے۔ اس خرابی کو یوں دور کیا جا سکتا ہے کہ تمام معاملات میں شفافیت لائی جائے،ذمے داریاں متعین کی جائیں،مصارف کو تقسیم کر لیا جائے اور ان کے سلسلے میں ایک ضابطہ بناکر ہر ایک کو اس کا پابند کیا جائے۔ زیادہ کمانے والوں کو سمجھایا جائے کہ ان کے مال سے اگر افرادِ خانہ فائدہ اٹھائیں گے تو اس کا انھیں اجر ملے گا۔ زیر دست لوگوں کو تلقین کی جائے کہ فضول خرچی سے بچیں اور اشیائے ضرورت کو احتیاط کے ساتھ استعمال کریں۔

دوسری خرابی مشترکہ خاندان کی یہ ہوتی ہے کہ اس میں پردہ کے احکام پر صحیح طریقے سے عمل نہیں ہو پاتا۔ شریعت نے مردوں اور عورتوں، دونوں کو نامحرم سے پردہ کا حکم دیا ہے اور تنہائی میں ملنے جلنے سے سختی سے منع کیا ہے۔ایک حدیث میں ہے کہ اللہ کے رسول ﷺ نے فرمایا: ”جن عورتوں کے شوہر یا محرم موجود نہ ہوں ان کے پاس نہ جاؤ، اس لیے کہ شیطان تم میں سے ہر ایک کے اندر خون کی طرح دوڑ رہاہے۔“(ترمذی:1172) دوسری حدیث میں ہے کہ جب ایک موقع پر اللہ کے رسول ﷺ نے ایسی عورتوں کے پاس جانے سے منع کیا تو ایک شخص نے دریافت کیا: ”اے اللہ کے رسول: سسرالی رشتے دار کے بارے میں آپ کا کیا خیال ہے؟(کیا وہ جا سکتا ہے؟)“ آپ نے فرمایا: ”وہ تو موت ہے۔“(بخاری:5232، مسلم:2172)جب ایک مکان میں کئی خاندان ساتھ رہتے ہوں تواس صورتِ حال میں پردہ کی پابندی دشوار ہوتی ہے۔

تیسری خرابی یہ سامنے آتی ہے کہ افرادِ خانہ کے ذاتی سامان پر ان کی ملکیت اور قبضہ باقی نہیں رہتا، بلکہ وہ پورے خاندان کی مشترکہ پراپرٹی بن جاتی ہے اور ہر شخص اس کے آزادانہ استعمال کو اپنا حق سمجھتا ہے۔اس معاملے میں خاص طور سے خواتین کی حق تلفی ہوتی ہے۔وہ نکاح کے وقت جہیز کی صورت میں گھریلو استعمال کی جو چیزیں اپنے ساتھ سسرال لے کر آتی ہیں وہ ان کی اپنی نہیں رہتیں،بلکہ گھر کے تمام لوگوں کے تصرّف میں آجاتی ہیں۔ شرعی اعتبار سے یہ درست نہیں ہے۔ عورت کو اس کے والدین یا رشتے داروں کی طرف سے جو کچھ تحفے تحائف ملتے ہیں وہ اس کی ذاتی ملکیت ہوتے ہیں۔ اس کی اجازت یا مرضی کے بغیر کسی دوسرے کا انہیں استعمال کرنا جائز نہیں ہے۔ اللہ کے رسولﷺ کا ارشاد ہے:”سن لو! کسی دوسرے کا مال اس کی مرضی کے بغیر لینا حلا ل نہیں ہے۔“ (احمد:20695)

یہ بھی پڑھیں:  21 دن تک لاک ڈاؤن, حکومت کا غیر ذمہ دارانہ فیصلہ

چوتھی خرابی یہ ہے کہ مشترکہ خاندان میں زوجین کی خلوت (Privacy) متاثر ہوتی ہے اور ان کے لیے بے تکلف ازدواجی زندگی گزارنی دشوار ہوجاتی ہے۔ خاص طور سے نئے شادی شدہ جوڑے اس صورت حال کا بری طرح شکار ہوتے ہیں۔ اسلام کی تعلیم یہ ہے کہ عورت اپنے شوہر کے لیے بناؤ سنگھار کرے، نیز انھیں حسبِ منشا جنسی تسکین کے مواقع حاصل ہوں، لیکن مشترکہ خاندان میں دیوروں، نندوں اور دیگر افراد کی موجودگی میں وہ تکلّف محسوس کرتے ہیں۔

ان خرابیوں سے بچنے کا واحد راستہ یہ نہیں ہے کہ مشترکہ خاندان کو بالکلّیہ نامطلوب قرار دیا جائے اور نئے شادی شدہ جوڑے کے لیے علیٰحدہ گھر کی وکالت کی جائے، بلکہ ایک بڑے مکان کے الگ الگ حصے خاص کرکے بھی ضرورت پوری کی جا سکتی ہے۔

جداگانہ نظامِ خاندان کے سماجی مفاسد بھی کم نہیں ہیں۔اس کی سب سے بڑی خامی یہ ہے کہ اس میں آدمی خود غرض بن کر رہ جاتا ہے،اس کے تعلقات اپنے قریبی رشتہ داروں سے بہت کم ہو جاتے ہیں، یا بسا اوقات بالکل ختم ہوجاتے ہیں۔وہ صرف اپنے اور اپنے بیوی بچوں کے بارے میں سوچتا ہے اور انہی کے لیے جدّوجہد کرتا ہے اور اسے ماں باپ،چھوٹے بھائیوں بہنوں،بیوہ بہنوں اور ان کے یتیم بچوں اور دیگر زیر کفالت افراد کی بالکل فکر نہیں رہتی۔ اس طرح ان کا کوئی پرسانِ حال نہیں رہتا اور وہ سب بالکل تنہا اور بے سہارا ہوجاتے ہیں۔ماں باپ ہنسی خوشی اپنے پانچ بچوں کو پال پوس کر بڑا کردیتے ہیں، لیکن پانچ بچوں میں سے کوئی بھی اپنے ماں باپ کو مستقل طور پر اپنے پاس رکھنے پر تیار نہیں ہوتا،بلکہ ان کی باری لگاتے ہیں،کہ وہ اپنے ہر بچے کے یہاں کچھ دن گزاریں۔یہ صورتِ حال حسّاس والدین کے لیے بہت تکلیف دہ ہوتی ہے۔موجودہ دور میں بوڑھوں کے عافیت کدوں (Old age homes) کا تصور، جو مغربی ممالک سے آگے بڑھ کر اب مشرقی ممالک میں بھی تیزی سے پھیل رہے ہیں،اسی کا نتیجہ ہے۔

مشترکہ نظامِ خاندان سے تنفّر اور جداگانہ رہائش پر اصرار عموماً لڑکیوں اور بسا اوقات ان کے والدین کی طرف سے ہوتا ہے۔ شوہر کے ماں باپ اور بھائی بہن ہوں توشادی شدہ لڑکیاں سوچتی ہیں اور اس کا اظہار بھی کرتی ہیں کہ ان لوگوں کی خدمت کرنا ان کی ذمے داری نہیں ہے اور شوہر کا ان پر خرچ کرنا بھی انہیں ناگوار ہوتا ہے۔ ان کے پیش نظر یہ بات نہیں رہتی کہ ان کا شوہر کسی کا بیٹا اور کسی کا بھائی ہے اور دوسرے رشتوں سے بھی وہ جڑا ہوا ہے۔ ان کی خدمت کرنا، ان کے کام آنا، ان کی ضرورتیں پوری کرنا اوران کی مشکلات کو حل کرنا اس کی ذمے داری میں شامل ہے۔ اسی طرح ان لڑکیوں کے ذہن میں یہ بات بھی نہیں رہتی کہ اس کے ساس سسر اس کے قریبی اعزّا ہیں اور اس کی سسرال میں رہنے والے دیگر افراد اس کے رشتے دار ہیں،ان کے ساتھ خوش گوار تعلّقات رکھنا اوران کے کچھ کام کردینا صلہ رحمی ہے، جس کا دین تقاضا کرتاہے۔ان کے ساتھ رہ کر اپنی زندگی کو خوش گوار بنایا جا سکتا ہے اور دوسروں میں بھی خوشیاں بانٹی جا سکتی ہیں۔

یہ بھی پڑھیں:  ۲ بائے ۲ کے روم سے جنگ کی تیاری

امورِ خانہ داری عورت کی ذمے داریوں میں شامل ہیں یا نہیں؟اس سلسلے میں فقہا کا اختلاف ہے۔ بعض فقہا اسے عورت کی ذمے داری نہیں قرار دیتے، بعض اسے واجب قرار دیتے ہیں، بعض کہتے ہیں کہ یہ قانونی طور پر واجب نہیں، البتہ اخلاقی طور پر واجب ہے۔اس بحث سے قطع نظراس سلسلے میں صحابیات کی زندگیوں کو اسوہ بنایا جا سکتا ہے۔حضرت ابو بکر ؓ کی صاحب زادی حضرت اسماءؓ خوش حال گھر کی تھیں۔ ان کا نکاح حضرت زبیر بن العوّام ؓ سے ہوا، جو غریب تھے۔ سسرال میں وہ نہ صرف گھر کا کام کرتی تھی، بلکہ شوہر کے گھوڑے کے لیے چارہ لانے کے لیے کئی میل کا پیدال سفر کرتی تھیں۔ حضرت جابر بن عبد اللہؓ کے والد کا انتقال ہوا تو ان کی سات(اور بعض روایات میں نو) بیٹیاں تھیں۔ حضرت جابرؓ نے ان سب کی کفالت اپنے ذمے لی اور بڑی عمر کی ایک ایسی خاتون سے نکاح کیا جو ان کو قاعدے سے اپنی سرپرستی میں رکھ سکے۔

خلاصہ یہ کہ خاندان کیسا ہو؟ مشترکہ یا جداگانہ؟ اس کو بحث کا موضوع بنانے کے بجائے افرادِ خاندان کے حقوق اور فرائض پر توجہ دینی چاہیے۔ ہر شخص کو فیصلہ کرنے کی آزادی ہوکہ اس کے مخصوص حالات کے پیش نظر اس کا مشترکہ خاندان میں رہنا مناسب ہے، یا اپنی فیملی کیے لیے جداگانہ رہائش فراہم کرنا زیادہ موزوں ہے؟ وہ جو بھی صورت اختیار کرے،اپنے والدین، بھائی بہنوں اور دوسرے رشتے داروں کے حقوق پہچانے اور ان کے معاملے میں اپنے فرائض کی انجام دہی میں کوئی کوتاہی نہ کرے ۔ اس معاملے میں بیوی کو بھی شوہرکا ساتھ دینا چاہیے۔

[ ماہ نامہ حجاب نئی دہلی ،
فروری 2020 ، خصوصی شمارہ کونسلنگ ]

٭٭٭

WARAQU-E-TAZA ONLINE

I am Editor of Urdu Daily Waraqu-E-Taza Nanded Maharashtra Having Experience of more than 20 years in journalism and news reporting. You can contact me via e-mail waraquetazadaily@yahoo.co.in or use facebook button to follow me