تقریباً نصف اسرائیلیوں نے اس رائے کا اظہار کیا ہے کہ امریکہ کے نومنتخب صدر جو بائیڈن کو فلسطینیوں کے ساتھ مذاکرات کی دوبارہ بحالی میں اپنا کردار ادا کرنا چاہیے۔ اسرائیلی، فلسطینی تنظیم ’جنیوا اقدام‘ کے زیرانتظام رائے عامہ کے ایک نئے جائزے کے مطابق ’’49 فی صد اسرائیلیوں نے امریکہ کی آیندہ بائیڈن انتظامیہ کی ثالثی میں فلسطینیوں کے ساتھ دوبارہ مذاکرات شروع کرنےکی حمایت کا اظہار کیا ہے۔‘‘

یورپی یونین کی فنڈنگ سے جنیوا اقدام نے اسرائیل میں یہ سروے 16 اور 17 نومبر کو کیا تھا۔اس میں 500 سے زیادہ اسرائیلیوں سے سوال پوچھے گئے تھے۔

اس سروے کے شرکاء سے ایک سوال یہ پوچھا گیا تھا کہ اسرائیل کو متحدہ عرب امارات اور بحرین کے بعد کس عرب ملک کے ساتھ معمول کے تعلقات استوار کرنے چاہییں؟اس کے جواب میں 29 فی صد نے کہا کہ سعودی عرب جبکہ 28 فی صد نے فلسطینیوں کے ساتھ امن قائم کرنے کی رائے دی ہے۔

سروے کے شرکاء سے یہ بھی پوچھا گیا تھا کہ اسرائیلی ، فلسطینی تنازع کے چار ممکنہ حل کیا ہوسکتے ہیں؟ ان میں سے 48 فی صد کے نزدیک دو ریاستی حل ہی سب سے زیادہ ترجیحی آپشن ہے۔صرف 11 فی صد نے یک ریاستی حل کے حق میں رائے دی ہے۔یعنی فلسطینیوں اور اسرائیلیوں کی ایک ہی ریاست ہونی چاہیے اور اس میں دونوں عوام کو مساوی حقوق حاصل ہونے چاہییں۔

جبکہ مزید 11 فی صد کا کہنا تھا کہ دونوں کے لیے ریاست تو ایک ہی ہو لیکن اس میں فلسطینیوں کو کم حقوق حاصل ہونے چاہییں ۔ 20 فی صد شرکاء نے مذکورہ تین میں سے کسی ایک بھی حل کا انتخاب نہیں کیا ہے۔

فلسطینی علاقوں میں حال ہی میں ایک سروے میں بھی بیشتر شرکاء نے دیرینہ تنازع کے دوریاستی حل کے رائے میں دی تھی۔فلسطینی مرکز برائے پالیسی اور سروے ریسرچ نے غربِ اردن ، مشرقی القدس اور غزہ کی پٹی میں آباد 1200 فلسطینیوں سے اگست میں انٹرویو کیے تھے۔ان میں سے 43 فی صد فلسطینیوں نے دوریاستی حل کی حمایت کا اظہار کیا تھا۔

اسرائیلی اور فلسطینی تجزیہ کاروں نے قبل ازیں العربیہ سے گفتگو کرتے ہوئے کہا تھا کہ جوزف بائیڈن کی صدارت کے آیندہ چار سال اسرائیلی ، فلسطینی امن عمل کو سنوار دیں گے یا ختم کردیں گے۔

فلسطینی قانون ساز کونسل کے مقبوضہ بیت المقدس سے تعلق رکھنے والے رکن برنارڈ سبیلا کا کہنا ہے کہ بائیڈن کے زیر قیادت امریکہ موجودہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے مقابلے میں کہیں زیادہ قابل اعتماد ثالث کار ثابت ہوگا۔

بشکریہ العربیہ ڈاٹ نیٹ