سردار سمان سنکلپ سمیتی اور پاٹیدار انامت آندولن سمیتی کے لیڈروں کو اتوار کو اس وقت حراست میں لے لیا گیا جب وہ گجرات کے احمد آباد میں نریندر مودی اسٹیڈیم کا نام تبدیل کرنے کا مطالبہ کرتے ہوئے اپنی ریلی شروع کر رہے تھے۔ موٹیرا اسٹیڈیم کا نام 2021 میں نریندر مودی اسٹیڈیم رکھا گیا تھا۔

دونوں تنظیموں نے باردولی ستیہ گرہ آشرم (سورت دیہی-جنوبی گجرات) سے اپنے مطالبات کو لے کر دباؤ ڈالنے کے لیے ایک ریلی کا انعقاد کیا تھا، لیکن اس سے پہلے کہ تنظیم کے اراکین ستیہ گرہ آشرم میں جمع ہوتے، سورت دیہی پولیس نے انہیں اپنی تحویل میں لے لیا۔ سورت پولیس نے یہ کہہ کر کار ریلی کی اجازت دینے سے انکار کر دیا تھا کہ اس سے بھیڑ بڑھے گی، جس سے دوسرے شہریوں کو تکلیف ہو گی۔

اس کے باوجود ایس ایس ایس ایس اور پی اے اے ایس رہنماؤں نے اپنے پروگرام کو آگے بڑھانے کا فیصلہ کیا، لیکن یہ بے سود رہا۔ پولیس کی کارروائی پر تنقید کرتے ہوئے پی اے اے ایس کے کنوینر الپیش کتھیریا نے کہا کہ "جمہوریت میں ہر کسی کو مدوں پر احتجاج کرنے کا حق ہے، لیکن آج ہمیں احتجاج کرنے کی اجازت نہیں دی گئی، یہ شرمناک ہے کہ لوگوں کی آواز کو دبانے کے لیے پولیس فورس کا استعمال کیا گیا ہے۔ یہاں جو لوگ آئے تھے ان کا صرف ایک ہی مطالبہ ہے کہ موٹیرا اسٹیڈیم کا نام بدل کر سردار ولبھ بھائی پٹیل اسٹیڈیم کر دیا جائے۔

بتادیں کہ 24 فروری 2021 کو گجرات کرکٹ ایسوسی ایشن نے موٹیرا اسٹیڈیم کا نام تبدیل کرکے نریندر مودی اسٹیڈیم کر دیا تھا۔ اس اقدام کی پاٹیداروں کے ایک حصے نے مخالفت کی تھی، خاص طور پر سردار ولبھ بھائی پٹیل کی جائے پیدائش کرمساد کے پاٹیدار، اور بعد میں ریاست بھر کے پاٹیدار ان کے ساتھ شامل ہوگئے۔ کتھیریا نے کہا کہ مستقبل کے پروگراموں کا فیصلہ ایس ایس ایس ایس کے ذریعہ کیے جائیں گے اور پی اے اے ایس ممبران اس میں حصہ لیں گے اور ان کی حمایت کریں گے۔