ناک کا اکثر بند رہنا کس شکایت کی علامت ہے؟

بند ناک کا مسئلہ عام ہو چکا ہے جس سے چھٹکارہ حاصل کرنے کے لیے اکثر افراد نیزل اسپرے کا استعمال کرتے ہیں لیکن یہ صرف ایک وقتی علاج ہے جبکہ یہ جاننا نہایت لازمی ہے کہ نیزل اسپرے کا مسلسل استعمال مسائل کا باعث بھی بن سکتا ہے۔بند ناک کو طبی زبان میں Sinusitis کہتے ہیں، ایسی صورتحال میں سانس لینے میں سخت دشواری کا سامنا کرنا پڑتا ہے اور انسان مکمل طور پر اذیت محسوس کر رہا ہوتا ہے۔

طبی ماہرین کے مطابق نیزل اسپرے دِن میں صرف ایک یا دو بار استعمال کیا جانا چاہیے جس کے بعد یہ وقفہ ایک دو گھنٹے تک آجاتا ہے جبکہ بعض افراد اس شکایت سے نجات حاصل کرنے کے لیے ناک کی ہڈی کا آپریشن کروا لیتے ہیں۔ماہرین کا کہنا ہے کہ آپریشن والے متعدد کیسز میں دیکھا گیا ہے کہ ہڈی دوبارہ بڑھ جاتی ہے، یوں بار بار آپریشن کروانے کے باوجود بھی افاقہ نہیں ہوتا۔

طبی ماہرین کے مطابق نزلہ، زکام اور الرجی سے ناک کی رگیں پھول جانا بھی ناک کی بندش کا سبب بنتا ہے، بعض افراد میں ناک کی درمیانی ہڈی کا ٹیڑھا پَن بھی وجہ بن سکتا ہے۔
طبی ماہرین کے مطابق ناک بند ہونےکا سبب ہمیشہ نزلہ، زکام ہی تصوّر کیا جاتا ہے جبکہ اس مرض کے کئی اور بھی اسباب ہو سکتے ہیں، مثلاً گردوغبار کے ذرّات، دُھواں، ایئرکنڈیشنڈ ماحول میں زیادہ دیر تک رہنا، مصنوعی خوشبوئیں، ٹھنڈی اشیاء کا کثرت سے استعمال، ورزش نہ کرنا وغیرہ۔

ناک کی بند رگیں کھولنے کا طریقہ:
ماہرین کی جانب سے تجویز کیا جاتا ہے کہ ناک کی بندش کے لیے ایک برتن میں ڈیڑھ یا دو کلو پانی لے کر اس میں نیم کے تازہ پتّے ( دھلے ہوئے) دو تولے کے برابر ڈال کر جوش آنے دیں۔پھر اس پانی کو چھان کر چٹکی بَھر نمک ملا کر رکھ دیں۔دِن میں دو بار یہ محلول نیم گرم ناک میں ڈال کر دھولیں (جس طرح وضو میں کیا جاتا ہے) ہر بار نیا پانی بنائیں۔طبی ماہرین کے مطابق اس عمل کے چند دِنوں میں بہتر نتائج سامنے آتے ہیں۔ماہرین کا کہنا ہے کہ اس عمل کے علاوہ کوشش کریں کہ تازہ ہوا میں سانس لیں، تمباکو نوشی سے اجتناب برتیں، موسمی تازہ غذائیں استعمال کریں اور ورزش کو معمول کا حصّہ بنالیں۔ماہرین کے مطابق سوتے ہوئے تکیہ اونچا رکھنے کے نتیجے میں بھی اس شکایت سے نجات حاصل کی جا سکتی ہے۔