ناندیڑ کے شاہین باغ کوبدنام کرنے قومی الیکٹرانک میڈیا کی سازش

ناندیڑ :23فروری ۔(ورق تازہ نیوز)شہریت ترمیمی قانون ،این آرسی اور این پی آر کےخلاف ناندیڑ میںکل جماعتی تحریک کی جانب سے شروع کی گئی احتجاجی تحریک آج 38 ویں دن میں شامل ہوگئی ہے ۔پچھلے 38دنوں سے ناندیڑ کے ”شاہین باغ ناندیڑ کی آواز “کے عنوان سے بے مدت احتجاجی دھرنا جاری ہے ۔

روزانہ سیکڑوں کی تعدادمیں مرد وخواتین اس دھرنے میں شریک ہورہے ہیں ۔اس دھرنے کی تائید میں نہ صرف سیاسی جماعتیں بلکہ مختلف سماجی و ملی تنظیموں کے ذمہ داران نے شرکت کر اپنی تائید کا اظہار کیا ہے ۔ناندیڑ کے شاہین باغ میں خواتین کا جوش و خروش دیکھنے کے قابل ہے ۔روزانہ تپتی اور چلچلاتی دھوپ میں بھی خواتین اپنے چھوٹے چھوٹے بچوں کے ساتھ کثیر تعداد میں شریک ہورہی ہے ۔یہ اس بات کی علامت ہے کہ ان کے جو ش میں کسی بھی طرح کی کوئی کمی نہیں ہے ۔ناندیڑ کے شاہین باغ میں روزانہ مختلف تنظیموں کے ذمہ داران شریک ہوکر اپنے خیالات کا اظہار کررہے ہیں ۔جس میںٹیپو سلطان برگیڈ کے قومی صدر شیخ سبحان علی ، جمعتہ علماءمحمود مدنی کے ریاستی صدر حافظ ندیم صدیقی ،معروف ادیب اشوک ڈھولے ،ڈاکٹر سنگھ رتن کررے،لندن سے واپس ہندوستان آئے ہوئے ایم جے شاہین ،ایڈوکیٹ اشوک کاپسیکر ،ڈاکٹرایس ایم ایچ قادری ،کرن چدراوار ،گنگادھر گائیکواڑ کے نام شامل ہے۔اس سے قبل کانگریس کے سرکردہ لیڈر و ریاستی کابینی وزیر اشوک چوہان نے بھی دھرنے میں شریک ہوکر اپنی تائید کا اعلان کیا تھا اور اس معاملے میں جلد ہی وزیر اعلی ادھو ٹھاکرے سے گفتگو کر کے سی اے اے اور این پی آ رکو ریاست میں لاگو نہ کرنے کی مانگ کریں گے ۔لیکن مختلف پارٹیوں کے مختلف خیالات ہوسکتے ہیں لیکن ریاست میں کانگریس ،این سی پی اور شیوسینا کے اہم ذمہ داران مل بیٹھ کر اس کے لئے کیا راستہ نکالا جاسکتا ہے ہم اس کے بارے میں تبادلہ خیال کریںگے ۔

♨️Join Our Whatsapp 🪀 Group For Latest News on WhatsApp 🪀 ➡️Click here to Join♨️

ناندیڑ کے شاہین باغ احتجاجی میں مرد و خواتین کے علاوہ طلبہ بھی شریک ہورہے ہیں اور اپنی صلاحیتوں کا مظاہرہ پیش کرتے ہوئے تقریریں ،نظمیں اور گیت پیش کررہے ہیں ۔وہیں دوسری طرف قومی سطح کے چند اشتعال پسندٹی وی چینلوں کی جانب سے تعصبانہ ذہنیت کا مظاہرہ کرتے ہوئے ناندیڑ کے پرامن اور دستوری طریقے سے جاری احتجاجی دھرنے کو بد نام کرنے کی ہر ممکن کوشش کررہے ہیں اور لگاتار جھوٹی افواہیں پھیلارہے ہیں ۔اسکے ذریعہ ناندیڑ کے شاہین باغ کو ختم کرنے ناکام کوششیں کی جارہی ہے ۔اس بارے میں کل جماعتی تحریک کے ذمہ داران نے کہا کہ ایسے فرقہ پرست ذہنیت رکھنے والے انڈیا ٹی وی اور نائمس ناو¿ چینلوں کو ہم یہ بتانا چاہتے ہیں کہ آپ ہمارے بارے میں کتنا بھی غلط دکھائیں لیکن ہم دستور کے دائرے میں ہمارا احتجاج اس وقت تک جاری رکھے گے جب تک مودی حکومت یہ کالا قانون واپس نہیں لے لیتی ۔

الیکٹرونک میڈیا کے چند چینلس مسلسل ناندیڑ کے شاہین باغ کو آکر کوریج کے بہانے الٹے سیدھے باتیں اپنے چینل کے ذریعہ لوگوں تک پہنچانے کی کوشش کررہے ہیں ۔ہم ایسے چینلوں کی شدید مذمت کرتے ہیں ۔جب کہ جس دن سے ناندیڑ کا شاہن باغ احتجاجی مظاہرہ شروع ہوا ہے اس وقت سے پولیس اور ان کے اعلی افسران مسلسل اس شاہین باغ پر نظر رکھے ہوئے ہیں ۔اور ابھی تک ان کی جانب سے کسی بھی قسم کی شکایت دستیا ب نہیں ہوئی ہے یہ بھی اس بات کا ثبوت ہے کہ میڈیا کی جانب سے کس طرح بے بنیاد جھوٹی خبریں پھیلارہاہے ۔حالانکہ ناندیڑ کا شاہین باغ پرامن اور دستوری طریقے سے چل رہاہے ۔

یہ بھی پڑھیں:  سوشل میڈیا پر دوڑتا ہواجھوٹ اور لنگڑاتا ہوا سچ

WARAQU-E-TAZA ONLINE

I am Editor of Urdu Daily Waraqu-E-Taza Nanded Maharashtra Having Experience of more than 20 years in journalism and news reporting. You can contact me via e-mail waraquetazadaily@yahoo.co.in or use facebook button to follow me