• 425
    Shares

بلولی 🙁 ابرار بیگ ) بلولی شہر کے ایک مسلم بستی میں گزشتہ 6 ستمبرکو پولا تہوار کے دن گائے کے گوشت ہونے کی شک میں ایک مسلم گھر میں بجرنگ دل کے کارکنان گائے کی حفاظت کے نام پر داخل ہوئے تھے جس کے بعد یہاں پرحالات کشیدہ ہوگیے تھے۔اور دوگروپ میں معمولی جھگڑابھی ہواتھا جس میں کچھ نوجوان زخمی ہوئے تھے لیکن پولیس موقع واردات پر پہونچنے سے حالات مزید خراب نہیں ہوئے ۔

بعد ازاں پولس کی جانب سے دونوں ہی سماج کے 20 سے زائد نوجوانوں پر مقدمات درج کئے گئے۔ اور زائد مسلم نوجوانوں کو گرفتار کیا گیا اور بجرنگ دل کے چنندہ کارکنان گرفتار کیے گئے جبکہ شہر کے حالات خراب کرنے و الے اصل ملزمین کو پولس نے ابھی تک گرفتار نہیں کیا ہے۔

اسی سلسلہ میں آج 11 ستمبر کو صبح گیارہ بجے ڈاکٹر بابا صاحب امبیڈکر کے مجسمہ سے تحصیل آفس تک ایک احتجاجی ریلی نکالی گئی اسریالی سے مفتی ایوب صاحب، مولانا مبین صاحب،سماجی کارکن ولی اولدین فاروقی، کونسلر جاوید قریشی، شیخ سلیمان، ساجد قریشی،سابق سدر بلدیہ بھیم راوجٹے، سندیپ کٹارے، لاکھیے ، ودیگر افراد نے خطاب کیا اور ان سماج دشمن عناصر پر روک لگاتے ہوئے اصل ملزمین کو جلد سے جلد گرفتار کرنے کا مطالبہ تحصیلدار کو دیے گئے میمورنڈم میں کیاگیا۔ اس احتجاجی ریالی میں دو ہزار سے زائد مسلمانوں نے شرکت کی ۔یادرہے کہ بلولی شہر کی تاریخ میں آج تک کوئی فرقہ وارانہ فساد رونماء نہیں ہوا مگر بجرنگ دل ‘وی ایچ پی کے کارکنان کی جانب سے شہر کے پر امن ماحول کوخراب کرنے کی ہرممکن کوشش کی جارہی ہے۔چندچھ ماہ قبل بھی تعلقہ کے متنیال گاوں میں معمولی جھگڑے کو فساد میں تبدیل کرنے کی واردات پیش آئی تھی۔ سماج دشمن عناصر کی ان حرکتوں سے نہیں رکاگیاتو مستقبل میں بلولی میں حالات مزید خراب ہونے کا خدشہ ہے۔ اس واقع کے دو دن بعد ہندو تنظیم کی جانب سے بلولی میں ایک جلسہ لیا گیا تھا جس میں مسلمانوں کے خلاف نفرت انگیز بیان بازی کرتے ہوئے ماحول کو بگاڑنے کی کوشش کی گئی تھی۔

 

ورق تازہ نیوز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں  https://t.me/waraquetazaonlineاور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔