مرکزی و ریاستی حکومتوں کے خلاف ونچت کی گھن گرج
ناندیڑ (نمائندہ) آر ایس ایس نظریہ والی حکومت کی جانب سے ، مزدور ، کسان اور مسلمانوں کے خلاف قانون بنائے جا رہے ہیں ۔ حکومت کی ان پالیسیوں کے خلاف ونچت بہوجن آگھاڑی نے ناندیڑ میں ایک روزہ دھرنا احتجاج کیا۔ ضلع کلکٹر دفتر کے باہر کسان باغ کے نام سے اس احتجاج کو منظم کیا گیا۔ ونچت بہوجن آگھاڑی کے ریاستی ترجمان فاروق احمد نے احتجاج کے دوران حکومت کو خوب آڑے ہاتھوں لیا۔ انھوں نے کہا کہ آر ایس ایس نظریات کے ماننے والے اقتدار میں آنےکے بعد سے دستور  ہند کو حاشیہ پر کردیا گیا ہے ۔ ونچت جے قائدین نے کہا کہ ایک وی ایم مشین گھوٹالہ کرکے اقتدار میں آکر عوام کو دھوکہ دیا گیا۔
احتجاجیوں کا الزام ہے کہ حکومت عوام کے خلاف جاکر عوام مخالف قوانین بنانے میں مصروف ہے۔ حکومت نے خواتین، مزدور۔ کسان اور مسلمانوں کے سخت خلاف قوانین بنائے جو دستور کے خلاف ہے جس سے اندازا ہوتا ہے کہ ملک میں منووادی سوچ کو زندہ کرنے کی کوشش کی جارہی ہے۔ شہریت ترمیمی قانون سی اے اے کے خلاف جس طرح شاہین باقی احتجاج کیا گیا اسی طرز پر کسانوں کے احتجاج کو مسلمانوں کی حمایت دینے کیلئے یہ کسان باغ احتجاج کیا گیا۔ کسان باغ احتجاج کے ذریعے کسانوں کے خلاف بنائے گئے تینوں کالے قانون کو رد کرنے کی مانگ کی گئی شاہین باغ کی طرز پر ہی اس کسان باغ احتجاج میں مسلمانوں کی ملی اور سماجی تنظیموں نے حصہ لیا۔
ان میں خصوصی طور پر جمعیت علماء ، آل انڈیا امام کونسل، مومنٹ فار پیس اینڈ جسٹس، تنظیم انصاف، ہیپی کلب، اقصی گروپ، الخیر گروپ، پی ایف آئی، ناندیڑ یوتھ میمن کمیٹی، ایس ڈی پی آئی، صفا بیت المال، مہاراشٹر اردو سنگھرش سمیتی، ٹوئٹر آٹو یونین،  سی پی ایم، راشٹروادی ودیارتھی آگھاڑی،لنگایت آندولن سمیتی، اے ٹی ایم برادری، رضا اکیڈمی، خانقاہ قادریہ کاظمیہ، برائٹ مائنارٹی اسوسی ایشن، گوداوری جیو رکشک دل، حضرت سیلانی بابا ٹرسٹ، صرافہ اسوسی ایشن، سوراجیہ ہاکر یونین، ماینارٹی میڈیا اسوسی ایشن، و دیگر شامل ہیں۔ اس کسان باغ احتجاج میں خواتین نے بھی حصہ لیا۔
یہ احتجاج ونچت بہوجن آگھاڑی کے ریاستی ترجمان فاروق احمد، ریاستی ترجمان گویند دڑوی،ضلع صدر پرشانت انگولے ، ضلع صدر شیوا نرنگلے،شہر صدر ایوب خان ، جہانگرلو صدر وٹھل گائیکواڑ،اور جنرل سیکریٹری شیخ بلال، کی رہنمائی میں منعقد ہوا۔ احتجاج کو کامیاب بنانے میں محمد قاسم، سید انصار، رؤف لالہ، احمد خان، عبدالستار، قاضی اعجاز، شیخ ثاقب، معز خان، احمد لال، حافظ عبدالغنی، ایشان خان، عبدالسمیع، محمد فیضان، سید مشتاق،  شہزاد جعفری ، شادجعفری، حیدر پٹیل، عبید لالہ، سمیر خان، حزیفہ شاہد، شعیب، محمد ارباز، سرفراز ناندیڑ کر، یوسف خان، شیخ نواب، و دیگر کا اہم رول ہے۔