ناندیڑ:11جون۔ (ورق تازہ نیوز)ناندیڑشہر میں میونسپل کارپوریشن کی جانب سے مختلف سرکاری اسپتال چلائے جاتے ہیں جس میں قدیم شہر کے دیگلورناکہ پر پانی کی ٹاکی کے قریب واقع حیدرباغ شہری اسپتال میںعلاج کروانے آرہے مریضوں کوکافی دنوںسے پریشانیوں ودقتوں کاسامناکرنا پڑرہا ہے۔بالخصوص حاملہ خواتین کوبہت پریشانی ہورہی ہے۔فی الحال یہاں پر حاملہ خواتین سب سے زیادہ علاج کیلئے آتی ہیں مگر گزشتہ کئی مہینوں سے یہاں کا سونوگرافی سنٹربند ہونے سے ان خواتین کو مشکلات پیش آرہی ہیں اسلئے انھیں دیگر خانگی سونوگرافی سنٹرس کارخ کرناپڑرہا ہے۔

حالانکہ حیدرباغ اسپتال میں چند ماہ قبل ہی سونوگرافی مشین لائی گئی تھی مگر حالیہ دنوں کورونا وباءکے پیش نظر مشین کوبند رکھنے کایہاں کے ملازمین کہہ رہے ہیں ۔ یہاں علاج کیلئے آرہی کچھ خواتین کے رشتہ داروں نے بتایا کہ علاج کیلئے آرہی خواتین کو کچھ ادویات کے علاوہ دیگر چھوٹے چھوٹے طبی آلات باہر میڈیکل سے خرید کرلانا پڑرہا ہے۔ حاملہ خواتین میں پانی کی ہوجانے سے انھیں پانی کی کمی دو رکرنے کیلئے انجکشن دئےے جاتے ہیں جو پانچ سو روپے میں باہر میڈیکل سے لانا پڑرہا ہے ۔

یہاں کام کرنیوالی نرسیس کا کہنا ہے کہ ابھی انکے پاس اسٹاک نہیں ہے ۔ا سکے علاوہ گلوکوز کی بوتل بھی باہر سے خرید کرلانا پڑرہا ہے۔ جب بھی یہاں کی خواتین ملازمین سے ادویات و طبی سازوسامان کی دستیابی کے بارے میں پوچھاجاتا ہے وہ بس کوروناوباءکا بہانہ بناکرجواب دے رہے ہیں ۔اور کہہ رہے ہیں کہ آئندہ چند دنوں میںتمام ادویات دستیاب ہوں گی اور سونوگرافی سنٹر دوبارہ کھول دیاجائے گا۔ مگر فی الحال حاملہ خواتین کو سونوگرافی کیلئے خانگی اسپتالوں کا رُخ کرنا پڑرہا ہے جہاں پر عام سونوگرافی ٹیسٹ کیلئے 700تاایک ہزار روپے ادا کرناپڑرہے ہیں ۔

دیگلور ناکہ کے جس علاقہ میں حیدرباغ اسپتال قائم ہے و ہاں کے اطراف واکناف کی بستیوںمیںزیادہ تر غریب و متوط طبقہ کے افراد رہتے ہیں۔ اسلئے یہاں کے افراد اس اسپتال کا رخ کرتے ہیں تاکہ انکا علاج مفت کیاجائے مگر الٹا انھیں پیسے ہی لگ رہے ہیں ۔اس علاقہ کے لوگوں کاکہنا ہےکہ یہاں کاسونو گرافی سنٹر فی الفور شرو ع کیاجائے اور جو ادویات کی قلت ہے اسے دور کریں ۔علاقہ کے کارپوریٹرس کو اس جانب توجہ دینے کی ضرورت ہے۔