ناندیڑ پاٹ بندھارے نگر بم دھماکہ 2007 کیس : سنگھ پریوار کے سابق رکن یشونت شندے کاناندیڑ عدالت میں اہم حلفیہ بیان

1,362

ناندیڑ:30اگست(ورق تازہ نیوز)یشونت شندے 49سال ساکن ممبئی نے 29اگست 2022 کو ناندیڑکی زائد جوائنٹ ڈسٹرکٹ اینڈ سیشن کورٹ میںناندیڑ پاٹ بندھارے نگر بم بلاسٹ کیس میں اپنا ایک اہم بیان قلمبند کیا ہے ۔ماضی میں یشونت شندے کاتعلق وشوہندو پریشد ‘آر ایس ایس اور بجرنگ دل جیسی انتہاپسند و فرقہ پرست عسکری تنظیموں سے رہا ہے ۔ اس نے اپنا اہم بیان قلمبندکرواتے ہوئے انتہائی اہم انکشاف کیا ہے کہ سال 2007 میںپاٹ بندھارے نگر میں بم سازی کے دوران شدید دھماکہ ہوا تھا ۔

بم سازی کے لئے آر ایس ایس‘بجرنگ دل اوروشوہندو پریشد(وی ایچ پی) نے بم دھماکے کے ملزمین پر دباو ڈالاتھا ۔بم تیار ہونے کے بعدانھیں سارے ملک میں دھماکے کروانے کی ترغیب دی گئی تھی تاکہ فرقہ وارانہ ماحول پید ا ہو جس کافائدہ سنگھ پریوار کی سیاسی جماعتوں کو پہنچے ۔ شندے نے اس کیس سے متعلق اہم وثائق بھی عدالت میں پیش کئے ہیں ۔ وہ سرکاری گواہ بھی بننا چاہتاہے ۔

اس نے بتایا کہ ملزمین ملند پرانڈے ‘راکیش دھاوڑے ‘ اور روی دیو(متھن چکرورتی ) سے اس کے قریبی تعلقات رہے ہیں۔وہ اُن کے بارے میں اہم معلومات رکھتا ہے ۔ انھوں نے کس طرح بم سازی کی تربیت حاصل کی ۔ انھیں کس نے ‘ کہاں اورکب بم سازی کی تربیت دی ۔اس واقعہ کی سازش کے ا صل ملزمین کون ہیں۔شندے کا یہ بیان بالکل اسی طرح ہے جس طرح ہندو کارکن اسیمانند نے اپنے حلفیہ بیان میں قبول کیاتھا کہ حیدرآباد کی مکہ مسجد ‘اجمیر شریف درگاہ اورمالیگاوں میں ہوئے بم دھماکوں کی سازش ہندوتوادی انتہا پسند اورفرقہ پرست تنظیموں نے رچی تھی اس نے ملزمین اورسازش کرنے والے افراد کے بارے میں مکمل جانکاری دی تھی ۔

یشونت شندے کا عدالت میں دئے گئے بیان اہم اقتباس

یشونت شندے نے اہم انکشاف کرتے ہوئے حلفیہ بیان میں کہا کہ کیمپ کے بعد وہ کئی بارناندیڑ گیا اورہمانشو پانسے کو اس پرراضی کرنے کی کوشش کی کہ وہ بم بلاسٹ نہ کریں کیونکہ سنگھ پریوار کی سازش ہے تاکہ الیکشن میں بی جے پی کو کامیابی ہوسکے ۔شندے نے بتایا کہ ٹریننگ ختم ہونے کے بعد ہمانشونے مہاراشٹر کے علاقہ مراٹھواڑہ میں بم کے تین دھماکے کئے ۔اُس نے منصوبہ بنایاتھا کہ اورنگ آباد کی اہم بڑی مسجد میںزوردار دھماکہ کرے ۔ سن 2007ءمیں ناندیڑ بم سازی کے دوران ہیمانشو پانسے کا دوست راج کونڈاوار ہلاک ہوگیاتھا اورایک ملزم ہیمانشو پانسے شدیدزخمی ہواتھا ۔

ناندیڑ کورٹ نے سی بی آئی اور مذکورہ تینوں ملزمین کو نوٹس روانہ کرتے ہوئے انھیں اپنی بات رکھنے کاحکم دیا ہے ۔یشونت شندے نے عدالت میں حلفیہ بیان میں کہاہے کہ وہ آرا یس ایس ‘بجرنگ دل اور وی ایچ پی میں مختلف عہدوں پربراجمان رہے کر کارکردگی انجام د ی ہے ۔ اس نے بتایا کہ سماج میں کچھ ایسی طاقتیں موجوود ہیںجو دہشت گرد کاروائیاں انجام دے کر پورے ہندو سماج کوبدنام کرنے کی کوشش مسلسل کرتی رہتی ہیں۔یشونت شندے کے بیان سے ہندوتوادی تنظیموں میں کھلبلی مچی ہوئی ہے ۔ پاٹ بندھارے نگر بم دھماکہ مقدمہ نمبرSession case/0100014/2007 کی آئندہ سماعت 22 ستمبر 2022 کو مقرر ہے ۔

یہ کیس کی نوعیت مہاراشٹراسٹیٹ مقابلہ راہول منوہر شندے اوردیگر ہے ۔واضح ہو کہ اسیمانند کی جانب سے ہندوتوادی تنظٰموں کی دہشت گردانہ سرگرمیوں پرسے نقاب اُلٹنے کے بعد اسیمانند پر زبردست دباو ڈالاگیاتھا بالآخر اسیمانند مجبوراً اپنے حلفیہ بیان سے منحرف ہوگیا تھا۔اب دیکھنا یہ ہے کہ یشونت شندے کے تعلق سے انتہاپسندتنظیمیں کیا رُخ اختیارکرتی ہیں۔