ناندیڑ میں مسلم خواتین نے انسانی زنجیر بناکر کیا احتجاج

ناندیڑ :(ورق تازہ نیوز)شہریت ترمیمی قانون ،این آرسی اور این پی آر کےخلاف ناندیڑ میں کل جماعتی تحریک کی جانب سے چلائی جارہی احتجاجی تحریک کے تحت آج خواتین نے ایک انوکھا احتجاج کرتے ہوئے انسانی زنجیر بنائی ۔شاہین باغ ناندیڑ کی آواز کے عنوان سے شہر میں بے مدت احتجاج دھرنا دیا جارہاہے ۔۳۱ جنوری سے شروع کئے گئے احتجاجی دھرنے کو دو ماہ مکمل ہوچکے ہیں ۔دو ماہ کی تکمیل کے موقع پر آج حکومت اور انتظامیہ کو اپنے احتجاج کی جانب سے متوجہ کرنے کےلئے انسانی زنجیر بنائی گئی ۔خواتین کے لئے مختص دوپہر کے وقت میں دھرنے میں شریک خواتین کو دیگلور ناکہ برکت کامپلیکس سے دیگلور ناکہ چوراہے تک سڑک کی دونوں جانب قطاروں میں کھڑ ا کیا گیا

انسانی زنجیر کے احتجاج میں ہزاروں کی تعداد میں خواتین شریک ہوئی ۔ایک لمبی قطار میں خواتین اپنے ہاتھو میں شہریت ترمیمی قانون کےخلاف تحریر کردہ پلے کارڈ ہاتھوں میں اٹھائے احتجاج کررہی تھی ۔خواتین کی لمبی قطار تا حد نظر دیکھ کر سڑک سے گذرنے والے لوگ متوجہ ہوتے رہے ۔اس موقع پر احتجاجی مظاہرے میں شریک خواتین نے میڈیا نمائندوں سے بات کرتے ہوئے کہا کہ شہریت ترمیمی قانون ،این آر سی اور اسی کے تحت ہونے جارہے این پی آر کا ہم مکمل طورپر بائیکاٹ کرتے ہیں ۔ہمارا یہ احتجاج پچھلے دو ماہ سے جاری ہے اور اس وقت تک جاری رہے گا جب تک کہ حکومت شہریت ترمیمی قانون میں کی گئی تبدیلیوں کو واپس نہیں لے لیتی اور این آرسی اور این پی آر کے بارے میں لئے گئے فیصلہ کو واپس نہیں لے لیتی ۔شہریت ترمیمی قانون کو ہم سیاہ قانون مانتے ہیں اور ہمارا یہ کہنا ہے کہ یہ قانون آئین کے بھی خلاف ہے ۔راجیہ سبھا میں بھلے ہی وزیر داخلہ امیت شاہ نے این پی آر کے بارے میں صفائی دیتے ہوئے کہا کہ کا غذات نہیں دکھانے پر کسی بھی شہریت کے فارم پر ڈی کا نشان نہیں لگایا جائے گا لیکن ہم ان کی زبانی بات کا یقین نہیں کرسکتے ۔

کیونکہ ماضی میں انہوں نے ایسا ہی ایک بیان ایم آرسی تو ہم کرواکے رہے گے کے بارے میں بھی دیا تھا اور اب وہ اپنے بیان سے پلٹ رہے ہیں تو ہم ان کے کس بیان کا بھروسہ کرے ۔اگر وہ اپنی بات میں سچے ہیں تو انہیں تحریری طورپر حکم نامہ جاری کرکے کہنا چاہئے ۔جب تک حکومت تحریری طورپر ہمارے مطالبات کو تسلیم نہیں کرلیتی ہم اپنا یہ احتجاج اسی طرح جاری رکھے گے ۔انسانی زنجیر کی شکل میں کئے گئےا حتجاج کے بارے میں خواتین نے کہا کہ حکومت کو ہم یہ بتادینا چاہتے ہیں کہ اس احتجاج میں شریک ہم تمام لوگ متحد ہے ہم میں کسی بھی طرح کوکوئی اختلاف نہیں ہے اور ہمیں ہمارے موقف سے ہٹانے کےلئے اگر سختی کی جائے گی تو ہم سب مل کر اس کا مقابلہ کرے گے ۔ہم اپنے احتجاج میں بہت آگے نکل چکے ہیں ہم کسی بھی صورت میں پیچھے ہٹنے والے نہیں ہے ۔