ناندیڑ میں مثالی نکاح

2,622

دو چار امیدوں کے دیئے اب بھی ھے روشن
ماضی کی حویلی ابھی ویران نہیں ہے
رشحات قلم :مولانا محمد وسیم امام و خطیب مسجد قدیم گاندھی پتلہ ناندیڑ

قارئین کرام! اس پُر آشوب دور میں جہاں دین سے دوری اسلامی تعلیمات سے بیزاری عروج پر ہے؛ امتِ مسلمہ نِت نئے خرافات کا شکار ہے اخلاقی پستی، بے راہ روی، عیش کوشی، فضول خرچی، بے پناہ امراضِ روحانی، میں امت گرفتار ہے،
پنبہ کجا کجا می نہم
بالخصوص شادی ولیمہ کے نام پر امتِ مسلمہ کا سرمایہ بے دریغ خرچ ہورہا ہےاونچے اونچے فنکشن ہال قیمتی رقعے کثیر تعداد کو جمع کرکے ہر شخص کو جوڑنے کی کی دُھن کثرتِ پکوان کا تقابُل ایک فکرمند احساسِ طبیعت کے لئے مقامِ حیف ہے، ایسےپراگندہ ماحول میں اللہ تعالیٰ اپنے بعض باتوفیق بندوں کے ذریعہ امید کی کِرن کو ظاہر کرتے ہیں

ایسے ہی توفیق شدہ بندوں میں شہر کے مشہور ومعروف گتہ دار عالی جناب شیخ عبدالصمد ولد شيخ رشید صاحب گتہ دار ساکن رحمت نگر ناندیڑ
جن کی لختِ جگر کی رسمِ نسبت (منگنی) بتاریخ 21 اگست 2022 بروز اتوار بعد نمازِ مغرب شالیمار فنکش ہال مال ٹیکڑی روڈ ناندیڑ میں منعقد ہونا تھی
شہر کے مؤقر ومعزز علماء کرام بھی رونق افروز ہوئے علماء کرام ودُعاةِعظام کی مخلصانہ
افہام وتفہیم پر عالی جناب شیخ عبدالصمد صاحب اور ان کے سمدھی شیخ غوث صاحب سیلانی نگر نظام آباد نے اِس منگنی کی رسم کو نکاح میں تبدیل کردیا جس سے دونوں خاندانوں میں خوشی کی لہر دوڑ گئی پھر کیا تھا
مولانا شیخ وسیم صاحب حسینی امام وخطيب مسجدِ قدیم عید گاہ گاندھی پتلا ناندیڑ کی دل کش آواز میں خطبہ نکاح نے مجلس میں ایک نئی روح پھونک دی

محفلِ نکاح کی اصل رونق :نوشاہ شیخ عرباض سلمہ ولد شیخ غوث صاحب نظام آباد کو حاضرین نے انتہائی پُرجوش انداز میں مبارک باد پیش کی ان کے اِس اقدام کو حاضرین نے نسلِ نَو کے لئے اسوہ قرار دیا سبھی نے دونوں خاندانوں میں خوب الفت ومحبت کے لئے آخر میں دعا فرمائی.
یہ مثالی نکاح ان سب کیلے قابل نصیحت ہیں جو جہیز اور موٹی رقم کی وصولیابی کیلئے مختلف بہانے بنایاکرتے ہیں اور خاص کر گھروں کی اُن خواتین کیلئے جویہ کہتی ہیکہ نکاح باربار نہیں ہوتا

لہذالڑکے کواپنی تمناپوری کرنے دو اور ان مالداروں اورسرمایہ داروں کیلئے بھی کہ ایک نکاح پر خرچ ہونے والی رقم دسیوں نکاح کیلے کافی ہوسکتی ہیں
اس بات پر ہمیں خوب غور فکر کرنے کی ضرورت ہے .
حضراتِ گرامی !کرنے والوں نے بہت کچھ کیا اور نہ کرنے والے غفلت اور ہَوس کانشانہ بن کر رہ گئے ابھی بھی وقت ہے کہ اس ناسور کو ختم کریں اور نکاح کو سادہ بنائیں
ورنہ توہمارابھی حال اُس مشہور ومعروف مظلوم باپ کی طرح ہوجائیگا کہ جس نے اپنی لڑکی کے نکاح پر خوب دل کھول کر خرچ کیا اور اسکوہر طرح کاسامان دیا مگر وہ سسرالی ظلم سے تنگ آکر بہت جلد اس دنیاکوچھوڑ کر چلی گئی

بالآخر جنازہ پر شرکت کرنے والے مظلوم باپ نے لمبی سانس لی اور کہا

آہ اب آیا یاد ائے آرامِ جاں اس نامرادی میں

کفن دینا تجھے بھولے تھے سامانِ شادی میں

آئیے ہم سب مل کر اس رسم جہیز کو ختم کریں
ورنہ
ہر کوئی پڑھ رہا ہے اب آیت جہیز کی
ناسور بن چکی ہے یہ دولت جہیز کی
زندہ جلائی جاتی ہے لاکھوں کنواریاں
دنیا سے ختم کردو یہ لعنت جہیز کی

پھر آخر میں ہم بھی اِس موقع پر دعا کرتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ ہمارے معاشرے کے نوجوانانِ ملت کو اس پرفتن وقت میں علماء کرام و ائمہ عظام ومصلحینِ امت کی ہدایت پر عمل کرتے ہوئے سادگی سے نکاح کرنے کی توفیق عنایت فرمائیں
آمين ثمہ آمین یا رب العالمین

اِس تقریبِ رسم کو شادی کی تقریب بنانے میں شہر و بیرون شہر کے معزز علماء کرام ومفتیان عظام نے اہم کردار ادا کیا
(جن کے اسماء گرام یہ ہیں)
حضرت مولانا مفتی محمد ایوب صاحب قاسمی مدت فیوضہم قاضئ شریعت ضلع ناندیڑ
حضرت مولانا مفتی محمد طالب العمودی صاحب قاسمی دام اقبالہ امام وخطيب دربار مسجد ناندیڑ
حضرت مولانا محمد عثمان فیصل صاحب قاسمی مدظلہ العالی صدر جمعت علماء ضلع ناندیڑ
مفتی سلیمان صاحب رحمانی امام وخطيب مسجدِ بارہ امام کھڑکپورا ناندیڑ،حافظ محمد فیاض صاحب اشاعتی نائب امام مسجدِ قدیم عید گاہ گاندھی پتلا ناندیڑ،مولانا سید اسحاق صاحب رشیدی ناظم دارالعلوم محمدیہ ہلی ضلع لاتور ، حافظ محمد غوث صاحب مصباحی امام وخطيب جامع مسجد ہلی ضلع لاتور۔
بحیثیت نظامت جامع مسجد ہلی ضلع لاتور کے صدرِ عالی مقام شیخ مصطفی صاحب نے انجام دیئے۔