ناندیڑ میں ماب لنچنگ : ملت کے مقامی ٹھیکیداروں کی مجرمانہ خاموشی

1,275

ناندیڑ میں ایک فوڈ ڈیلیوری بوائے کے ساتھ ماب لنچنگ کا بدترین اور انسانیت سوز واقعہ ہوا ہے۔ ماب لنچنگ اس ملک میں کوئی نئی یا انوکھی واردت نہیں ہے زعفرانی شر پسندوں اور ہندوتوا جنونیوں کی روایت رہی ہیکہ وہ جب بھی بوکھلا جاتے ہے اس طرح کی سر پھری حرکتیں کرنے لگتے ہیں۔ماب لنچنگ کی ابتداء شمالی ہندوستان سے ہوئی تھی۔ اس کے زیادہ تر معاملات بھاجپا کے یو پی , بہار اور کانگریس کے راجستھان میں وارد ہوتے ہیں۔ مہاراشٹر میں اس طرح کے معاملات نسبتاً کافی کم ہے۔

شہرِ ناندیڑ میں ذوماٹو فوڈ ڈیلیوری بوائے کے ساتھ ہونے والا واقعہ بس ایک آغاز ہے اور اگر اس پر ابھی روک نہ لگائی گئی تو پھر اسکا انجام کوئی نہیں جانتا۔ یہ ہندوتوا جنونیوں کی آگ کتنے بےقصور مسلم نوجوانوں اور ضعیفوں کو اپنی لپیٹ میں لیکر اپنی نفرت کی بھینٹ چڑھائیں گے کچھ بتایا نہیں جاسکتا ۔افسوس تو اس بات پر ہیکہ اب تک شہر کی ملی قیادت کی جانب سے کوئی احتجاج یا کوئی مذمت نہیں ہوئی۔ جو اس بات کا ثبوت ہیکہ ہماری قیادت کسی بھی معاملے میں ایکشن لینے میں کتنی سست ہے۔ سانپ چلے جانے کے بعد لکیر پہ ڈنڈے مار کے ڈھنڈورا پیٹنا آسان ہے اور ہماری قیادت بس اسی میں ماہر ہے۔

این آر سی کے وقت بھی یہی کیا تھا جب پورے ملک میں جوانوں نے علمِ بغاوت بلند کردیا تب جاکر تحریک بنائی تاکہ بہتی گنگا میں کم از کم ہاتھ ہی دھولیں اور ایک صد فیصد مسلم علاقے میں بیٹھ کر نعرے مار کر خود کو شاباشی دے دی ۔
ہماری قیادتوں نے انسانیت مارچ , سرو دھرم مارچ , دستور بچاؤ تحریک , ایکتا منچ جیسے ملت کے ضمیر سے سمجھوتا کرنے والے مدوں پر تو بہت پھرتی دکھائی مگر جب بھی فوری ایکشن کے معاملے ہو غور و فکر اور مشوروں میں ہی آدھا وقت ضائع کر دیا۔ اب میں ان ٹھیکداروں کو اس کے آگے کچھ نہ بولوں گا کہ
کرسی ہے تمہاری یہ جنازہ تو نہیں ہے
کچھ کر نہیں سکتے تو اتر کیوں نہیں جاتے۔

شہریانِ ناندیڑ سے گزارش ہیکہ اس معاملے کا فوری نوٹس لے اور پر امن اور قانونی طریقہ سے کاروائی کرے۔ کیونکہ اگر اسے ابھی نہ روکا گیا تو پھر کبھی نہ روکا جا سکے گا۔ اس طرح ان جنونیوں کی ہمت اور بڑھے گی اور ایسے واقعات پھر اخبار کی ایک چھوٹی سی خبر بن کے رہ جائیں گے جس پر کوئی دھیان نہیں دے گا۔۔ ✍🏻عبداللہ ہندی