ناندیڑ:8. اپریل۔(ورق تازہ نیوز)ضلع ناندیڑ میں کورونا کی دہشت ناک وباءسے ہر شخص سہماہوا پریشان حال ہے ۔مریض ہیں کہ 3تا5 دنوں میں ملک عدم کوچ کرنے لگے ہیں ۔ایک ہوکاعالم ہے ۔ ایسے میںریم ڈسیور ویکسن انجکشن کی کالابازاری کرنے والے چار ملزمین کوناندیڑ جرائم سیل نے جال بچھاکر گرفتار کیا ہے ۔ان ملزمین میں دو میڈیکل تاجر ‘ ایک ایم آر اورایک مزدور شامل ہیں۔شیوسینا کے کارکنان نے اس اسکنڈل کابھانڈا پھوڑا ۔ پولس کا کہنا ہے کہ ویکسین(انجکشن ) کی کالابازاری کرنے والوں کاایک گروہ سرگرم ہے جس تک پہونچنے کی پوری کوشش کی جارہی ہے ۔واضح ہو کہ ضلع میںروزانہ 24 تا26 کورونا مریض موت کی آغوش میںجارہے ہیں ۔ اور مریضوں کی تعداد فی یومیہ 1000تا1200 ہے۔

ضلع میں کوروناکا جن بوتل میں قید کرنے کی ساری کوشیشیں اب تک ناکام ہوچکی ہیں ۔ حکومت نے انجکشن کی فروخت کےلئے 1100تا1400 روپے قیمت مقرر کی ہے لیکن کالا بازاری کرنیوالے اس کو 6تا9 ہزاروں روپیوں میںفروخت کررہے ہیں ۔ انجکشن کی کالا بازاری کی وجہ سے انجکشن کی قلت ہے ۔ ضلع میں سرکاری دواخانوں میں انجکشن دستیاب نہیں ہورہے ہیں اسلئے مریضوں کے رشتہ دار اسے بازار سے خرید رہے ہیں ۔شیوسینا کے کارکن گوتم نرسنگ داس نے پہل کرتے ہوئے پولس کی مدد سے چار ملزمین کوگرفتار کروایا ہے۔گوتم کے ایک رشتہ دار کوریموڈسیور انجکشن کی ضرورت تھی ۔ 100 ایم ایل کاانجکشن چاہتے تھا لیکن انجکشن کے ڈبے پر 50 ایم ایل(ملی گرام ) انجکشن کی قیمت 5ہزار400 روپے چھپی ہوئی تھی اس ثبوت پرپولس نے دھاواڈال کرکالابازاری کرنیوالے انسان دشمن ملزمان کوگرفتار کیا ہے۔