ناندیڑ میونسپل کارپوریشن کا دیڑھ سو کروڑ کا فنڈروک دیاگیا’گتہ دار اور کانگریس کے کارکنان پریشان

25

ناندیڑ:5جولائی (ورقِ تازہ نیوز)ناندیڑ میونسپل کارپوریشن کے حدود میں بنیادی سہولیات کے لیے ترقیاتی اسکیم کے تحت 150 کروڑ کا فنڈ حکومت کے شہری ترقی محکمہ نے دینے کا فیصلہ لیا تھا۔ تاہم ریاست میں شندے حکومت برسراقتدار آتے ہی اگلے احکامات تک مذکورہ منظور کیے گئے فنڈ کو ملتوی کرنے کے احکامات جاری کیے گئے ہیں۔ جس کے بعد اس فنڈ کی اُمید پر شہر میں مختلف ترقیاتی کاموں کو شروع کرنے والے گتہ داروں و کانگریسی حامیوں میں تشویش ظاہر کی جارہی ہے۔ ریاست میں نئی تشکیل شدہ حکومت نے مہاوکاس آگھاڑی حکومت کی جانب سے منظور کیے گئے کئی ترقیاتی کاموں کو ملتوی کرتے ہوئے مہاوکاس آگھاڑی کو دھچکا دیا ہے۔

ضلع کے سابق سرپرست وزیر اشوک راﺅ چوہان کی جانب سے منعقد کی گئی پلاننگ کمیٹی کی میٹنگ میں منظور کیے گئے کاموں کو بھی التواءدے دیا گیا۔ جبکہ کانگریس کی یکطرفہ اقتدار والی ناندیڑ میونسپل کارپوریشن کے لیے منظور کیے گئے دیڑھ سو کروڑ کے فنڈ کو بھی اگلے احکامات تک تقسیم کرنے کو ملتوی کرنے کے احکامات شندے حکومت نے جاری کیے۔ گروتاگدی تین سو سالہ تقاریب کے ضمن میں ناندیڑ شہر کو ترقی دینے کے مقصد سے مہاراشٹر اسٹیٹ روڈ ڈیولپمنٹ کارپوریشن نے 127 کروڑ روپئے کا قرض حاصل کیا تھا۔ ان میں سے شہر و شہر کے اطراف راستوں کے کچھ کام بھی کیے گئے۔ محکمہ شہری ترقی نے اس موقع پر قرض کو ادا کرنے کی تیاری کی تھی۔ تاہم اس قرض کا ایک روپیہ بھی ادا نہیں کیے جانے کی وجہہ سے اس قرض کی رقم دیڑھ سو کروڑ روپئے ہوگئی۔ دریں اثناءمہاوکاس آگھاڑی کے دور اقتدار میں ناندیڑ میونسپل کارپوریشن کو بھرپور فنڈ منظور ہونے کے باوجود بھی اسے دیڑھ سو کروڑ روپئے کے قرض کی رُکاوٹ آرہی تھی۔ سابق ضلع سرپرست مسٹر اشوک راﺅ چوہان نے اس قرض کی ذمہ داری اپنے تعمیرات عامہ محکمہ میں لے کر اس کے بدلے میں شہری ترقیات محکمہ کی جانب سے میونسپل کارپوریشن کے حدود میں کئی راستوں کے کام اتنی ہی رقم کو حکومت کے فیصلہ کے ذریعے منظور کروائی تھی۔

ان کاموں کے لیے ڈویژنل کمشنر نے انتظامی منظوری کا راستہ کھلا کیا تھا۔اس منظور شدہ فنڈ کی امید پر گتہ داروں اور کانگریسی حامیوں نے اپنے کاموں کا بل جلد ہی فنڈ منظور ہوکر پاس ہوگا، اس اُمید پر کاموں کا آغاز کیا تھا۔ فنڈ کے لیے کئی دُشواریاںآنے پر میونسپل کارپوریشن کے عہدیداران نے کئی بار ممبئی کے چکر لگائے، تاہم ریاست کے محکمہ فائنانس کی جانب سے فنڈ دینے میں ٹال مٹول ہورہی تھی۔ اس درمیان مہاوکاس آگھاڑی حکومت نے کئی ترقیاتی کاموں کو منظوری دی، جس میں میونسپل کارپوریشن کے لیے فنڈ تقسیم کرنے کو بھی منظوری دی تھی۔ تاہم نئی تشکیل شدہ حکومت میں محکمہ شہری ترقی نے اسے اگلے احکامات تک ملتوی کردیا۔ جس کی وجہہ سے گتہ داروں اور کانگریسی حامیوں میں تشویش پائی جارہی ہے۔ جن گتہ داروں نے کاموں کے پیسے ملنے کی اُمید پر گتہ لے کر خود کے پیسوں سے کام شروع کیا ہے انہیں اس فیصلہ سے زبردست دھچکا لگا ہے۔