ناندیڑ لوک سبھا حلقئہ انتخاب: انتخابی منظرنامہ

0 8

16۔ناندیڑ لوک سبھا حلقہ انتخاب میں آج 26مارچ کو امیدواروں کی جانب سے کاغذات نامزدگی داخل کرنے کا آخری دن رہا ۔ جملہ 59 امیدواروںنے اپنے کاغذات نامزدگی داخل کئے ۔ لیکن جن اہم سیاسی پارٹیوں کے امیدواروں نے پرچہ نامزدگی داخل کئے اُن میں کانگریس پارٹی ‘بھارتیہ جنتا پارٹی( بی جے پی) ‘سماج وادی پارٹی ونچت بہوجن اگھاڑی اورا نڈین یونین مسلم لیگ اہم ہیں ۔

بی جے پی اور کانگریس قومی سطح کی پارٹیاں ہیں جبکہ انڈین یونین مسلم لیگ اور ونچت بہوجن اگھاڑی‘سماجو ادی پارٹی علاقائی جماعتیں ہیں ۔کانگریس پارٹی کے نامزد امیدوار اشوک راو چوہان ‘بی جے پی کے نامزدامیدوار پرتاپ پاٹل چکھلی کر ‘ سماج وادی پارٹی کے نامزد امیدوار عبدالصمد سیٹھ اور ونچت اگھاڑی کے امیدوار پروفیسر یشپا ل بھنگے ہیں جنہوں نے اپنے کاغذات نامزدگی داخل کئے ہیں ۔

انڈین یونین مسلم لیگ سے الطاف احمد نے پرچہ نامزدگی داخل کیا ہے ۔ لیکن اصل مقابلہ بی جے پی اورکانگریس پارٹی میں ہونے کے امکانات ہیں ۔ لیکن سماج وادی پارٹی اور ونچت اگھاڑی کے امیدواروں کونظرانداز نہیں کیاجاسکتا ہے ۔ اس بار مہاراشٹر میں کانگریس اور راشٹروادی کانگریس پارٹی میں اتحاد ہوا ہے ۔ جس میں دیگر 56 چھوٹی چھوٹی جماعتیں شامل ہیں ۔ لیکن اتحاد میں اصل دو بڑی پارٹیاں کانگریس اورراشٹروادی ہی ہیں۔ 2014 کے لوک سبھا چناو میں یہ دونوں پارٹیاں ایک دوسرے کے مخالف تھیں اس لئے سیکولر ووٹوں کی بڑے پیمانے پر تقسیم ہوئی تھی اور پوری ریاست میں کانگریس کے دو اور این سی پی کے چار امیدوار منتخب ہوئے تھے ۔ جبکہ بی جے پی اورشیوسینا نے متحدہ طور پر الیکشن لڑاتھا دونوں نے جملہ 41حلقوں میں کامیابی حاصل کی تھی ۔ مہاراشٹر میں جملہ 48 حلقے ہیں ۔

اس بار مہاراشٹر میں سماج وادی پارٹی اور بی ایس پی کے درمیان انتخابی سمجھوتہ ہوا ہے اور دونوں پارٹیوں نے ریاست میں تقریبا حلقوں میں اپنے امیدوار کھڑے کرنے کافیصلہ کیا ہے اور اُن کے بیشتر امیدواروں نے پرچہ نامزدگی داخل بھی کردئےے ہیں۔ ناندیڑ میں عبدالصمد سیٹھ سماج وادی پارٹی ۔ بی ایس پی کے نامزد امیدوار ہیں ۔ ناندیڑضلع میں بی ایس پی کاکیڈر موجود ہے ۔اوربام سیف(Bamcef) جوغیر سیاسی تنظیم ہے ‘بی ایس پی کی زبردست حمایتی ہے ۔اس لئے یہاں بی ایس پی کاخاصہ ووٹ بینک ہے۔البتہ سماج وادی پارٹی کا کوئی ووٹ بینک نہیں ہے ۔ یہ پارٹی ناندیڑ میں مضبوطی سے قدم نہیں جماسکی ہے ۔مقامی لیڈرشپ کمزور ہونے سے لوگ اس کے ساتھ وابستہ نہیں ہوپائے ہیں ۔

اترپردیش میں سماج وادی پارٹی کو مسلمانوں کی ہمیشہ سے تائید و حمایت حاصل رہی ہے لیکن مہاراشٹرکی صورتحال ایسی نہیں ہے ۔ یہاں مسلمان کانگریس اور راشٹروادی کانگریس کے ساتھ اس لئے ہیں کہ وہ ان دونوں پارٹیون کو بی جے پی ۔شیوسینا کا مضبوط متبادل تسلیم کرتے ہیں ۔ اب جن علاقوں میں ایم آئی ایم قائم ہے اورا س کی لیڈرشپ بھی طاقتور ہے تو وہاں کچھ مسلمان ایم آئی ایم کے ساتھ ہیں ۔ ناندیڑ میں ایم آئی ایم کی طاقت تھی لیکن ٹوٹ پھوٹ کے باعث پارٹی کافی کمزور ہوئی ہے اورقیادت بھی نہ تجربہ کار ہونے سے ایم آیی ایم کوطاقت نہیں ملی ہے ۔ البتہ ونچت اگھاڑی جس میں شامل بھاریپ بہوجن مہاسنگھ جس کی قیادت ڈاکٹر باباصاحب امبیڈکر کے پوتے بالا صاحب امبیڈکر کررہے ہیں اس لئے یہ اپنا دلت ووٹ بینک رکھتی ہے ۔لیکن دلتوں کی بڑی تعداد کانگریس کے ساتھ جاسکتی ہے کیونکہ اگھاڑی کاامیدوار پروفیسریشپال بھنگے صرف نائیگاوں اور مکھیڑ تعلقوں میں ہی مشہور ہے وہ چونکہ دھنگر سماج سے تعلق رکھتا ہے اس لئے دھنگر سماج کے ووٹ بڑی تعداد میں اسے مل سکتے ہیں ۔ لیکن یہ بی جے پی اور کانگریس کو ٹکر نہیں دے سکتاہے ۔ ونچت اگھاڑی میں ایم آئی ایم شامل ہے لیکن وہ اگھاڑی کے امیدوار کو ووٹ دلوانے میں کہاں تک کامیاب ہوگی یہ تو 23مئی کوووٹوں کی گنتی کے دن ہی معلوم ہوسکے گا۔

بی جے پی ۔شیوسینا اتحاد کے نامزد امیدوار رکن اسمبلی ہیں لیکن ناندیڑضلع میں اُن کااثر و رسوخ زیادہ نہیں ہے ۔وہ قندہار ۔لوہااسمبلی حلقہ سے منتخب ہوئے ہیں اس لئے ان دونوں تعلقہ جات میں اُن کاکافی اثر ہے مگر یہ عجیب بات ہے کہ لوہا تعلقہ لاتور حلقہ لوک سبھا میں شامل ہیں۔

محمدتقی ‘ناندیڑ