ناندیڑ شہر کے اردو اسکولوں میں اساتذہ کی ملی بھگت سے کیاہورہا ہے پڑھئے

0 32

ناندیڑ:2ڈسمبر ۔( ورق تازہ نیوز) آج سے تقریبا بیس ۔پچیس سال قبل خانگی ٹیوشن کلاسیس کاکوئی رجحان نہیں تھا بس صرف دسویں اور بارہویں جماعت کے طلباء وہ بھی چنندہ ہی خانگی ٹیوشن کلاسیس جاتے تھے بلکہ یہ طلباء اپنے ہی اسکول یاکالج کے معلم کے گھر پر ہی ٹیوشن کلاس کیلئے جاتے تھے ۔

لیکن آج کے جدید ٹیکنالوجی کے دور میں تعلیم تجارت بنتی جارہی ہے ۔ اسکولوں میں مختلف تعلیمی لوازمات کے نام پر اور ماہانہ فیس کے نام پر ہزاروں روپے تعلیمی اداروں کے ذمہ دار لوٹ رہے ہیں ۔ شہر کے شایدہی چند ایسے اسکولس ہوں گے جہاں پر ماہانہ فیس نہیں لی جاتی ہے ۔اس کے علاوہ ناندیڑ شہر میں خانگی ٹیوشن کلاسیس کا اتنا بڑا نیٹ ورک ہوگیا ہے کہ سبھی والدین اپنے بچوں کو اسکول کے علاوہ ان خانگی ٹیوشن کلاسیس میں تعلیم حاصل کرنے روانہ کررہے ہیں جس کےلئے ہر سال ہزاروں روپے بھی خرچ کرنے پڑرہے ہیں۔

والدین کے ذہنوں میں یہ بات بیٹھ گئی ہے کہ اگر انکا بیٹا یا بیٹی خانگی ٹیوشن کلاس میں پڑھے تویقینا امتحان میں کامیاب ہوگی ۔والدین کی یہ بات بھی کافی حد تک درست بھیثابت ہورہی ہے کیونکہ اسکولوں میں جس طرح آج تعلیم دی جارہی ہے اُس کے بھروسے بچوں کا امتحان میں اچھے نمبرات سے کامیاب ہونا بہت مشکل نظر آرہا ہے۔

شہر کے بیشتر اردو میڈیم مدارس کی صورتحال کافی خستہ ہے ۔کچھ اسکولوں میں بھی بارہویں کامیاب معلمات پرائمری تا ہائی اسکول کے بچوں کو تعلیم دے رہی ہیں ۔حالانکہ اب سیمی انگلش کادور ہے ۔اسی وجہہ سے والدین بھی اسکول سے زیادہ ٹیوشن کلاسیس پر توجہ دے رہے ہیں ۔جس کافائدہ اٹھاتے ہوئے اب خانگی ٹیوشن کلاسیس کے ذمہ داران راست اسکولوں میں پہنچ کر طلباءمیں اپنی کوچنگ کلاسیس کے پامفلٹ تقسیم کرکے طلباءکو اپنی جانب راغب کررہے ہیں۔کچھ طلباءنے بتایا کہ خود انکی کلاس کے ٹیچر ہی کوچنگ کلاسیس میں داخلہ لینے کےلئے اُن پردباؤ ڈال رہے ہیں ۔کیونکہ یہ اساتذہ ان کوچنگ کلاسیس میں پارٹ ٹائم تدریسی خدمات انجام دے رہے ہیں۔اس طرح اُنکا پورادھیان کوچنگ کلاسیس پر رہتا ہے۔اور یہ اساتذہ کوچنگ میں جان توڑ محنت بھی کرتے ہیں تاکہ انکا نتیجہ اچھا آئے ۔اگر یہی محنت وہ اسکول میں طلباء پر کریں تو بچوں کوکوچنگ کلاس جانے کی ضرورت نہیں پڑے گی ۔

اب اسکولوں کی سوسائٹی کے ذمہ داران کافرض بنتا ہے کہ وہ اپنے اداروں میں اس طرح کے خانگی ٹیوشن کلاسیس کے پامفلٹ کی تقسیم کو روکنے کی کوشش کریں اوراساتذہ کو سخت پابند کرے کہ وہ اس طرح کے پامفلٹ یا طلباءکو کوچنگ کلاس میں داخلہ لینے کےلئے دباونہ ڈالیں۔اس کے علاوہ سماجی وملی تنظیمیں بھی اس سنگین مسئلہ کی طرف توجہ دیں ۔