ناندیڑ: دینی مدارس کے طلباء و علما کرام کی ضلع کلکٹر کےمعرفت صدر جمہوریہ سے نمائند گی

417

ناندیڑ۔19ڈسمبر .ریاستی حکومت کے محکمہ اقلیتی ترقیات نے عالمی یوم اقلیت کے موقع پر 18ڈسمبر 2022؁ء کو سرکاری دفاتر ، اسکولوں ، اور کالجوں میں اقلیتوں کے حقوق پر مبنی پروگروام منعقد کرنے کی ہدایت دی ہے ۔ اس دن کو حق دوس سے بھی منسوب کیا جاتا ہے۔اسی مناسبت سے ناندیڑ ضلع کلکٹر آفس میں بھی آج اقلیتوں کادن منایا گیا ہے۔اس موقع پر ناندیڑ ضلع کلکٹر دفتر میں موجود ذمہ داران نے اپنے اپنے خیالات کا اظہار کیا۔

اس موقع پر شہر ناندیڑ کے علماء کرام اور دینی مدارس کے ذمہ داران اور طلباء کو بھی مدعو کیا گیا تھا۔اس موقع پر اجلاس میں کلکٹر آفس کے ذمداران کو دینی مدارس کے ذمہ داران اور طلباء نے تحریری طورپر صدر جمہوریہ کے نام ایک محضر پیش کرکے مطالبہ کیا ہے کہ حکومت اقلیتوں کا دن منارہی ہے۔ لیکن مودی حکومت نے ہر سال کی طرح ملنے والی اقلیتی طلباء کی اسکالرشپ کو امسال منسوخ کرنے کا اعلامیہ جاری کیاہے۔ جس سے اقلیتی طبقے کے لاکھوں طلباء اس اسکیم سے محروم ہونے کے خدشات دیکھیں جارہے ہیں۔اسی پس منظر میں دینی مدارس کے طلباء و علماء کرام نے آج ضلع کلکٹر دفتر پہنچ کر اعلیٰعہدیداران سے مطالبہ کیا کہ وہ اسی اسکالر شپ کو فوری بحال کرکے اقلیتوں کو انصاف دے۔جس طرح سے 2014؁ء میں مودی حکومت نے ایک نعرہ دیا تھا "سب کا ساتھ سب کا وکاس "پر وہ کھرے اترنے کا ثبوت پیش کریں۔

اس موقع پر مولانا ایوب قاسمی ،قاضی محمد رفیق ودیگر نے بھی اپنے خیالات کا اظہار کرتے ہوئے ضلع انتظامیہ سے مطالبہ کیا ہیکہ مدارس کے تعلق سے غلط بیانی سے کام لیا جارہا ہے اور ایک طرح ڈر خوف کا ماحول بنایا جارہا ہے۔ حکومت ایسے اشتعال انگیزیوں کے خلاف سخت کاروائی کو انجام دے کر دینی مدارس کے نیک نامی کو متاثر ہونے سے بچائیں۔اجلاس میں جن دینی مدارس کے طلباء نے میمورنڈم صدر جمہوریہ کو بھجوایا گیا۔ ان میں دارالعلوم غوثیہ رضویہ ،مدرسہ محمدیہ عربیہ جامعہ اسلامیہ دارارقم ،جامعہ اسلامیہ انوار العلوم ، دارالعلوم عثمان بن عفان کے طلباء واساتذہ کرام کے ہمراہ حافظ محمد خالد ودیگر کثیر تعداد میں موجود تھے۔