فیصلہ سنانے میں ہورہی تاخیر سے ملزمین اور اہل خانہ بے چین، گلزار اعظمی
ممبئی14 جون. مہاراشٹر کے ناندیڑ ضلع کے مختلف علاقوں سے دہشت گردی کے الزامات کے تحت گرفتار پانچ ملزمین کے مقدمہ کا فیصلہ سنایا جاسکتا ہے، گذشتہ سماعت پر دفاعی وکلاء کے دریافت کیئے جانے پر خصوصی جج نے 15 / جون کو فیصلہ دیئے جانے کا اشارہ دیا تھا۔

اس معاملے میں تقریباً دو ماہ قبل ہی فریقین کی حتمی بحث مکمل ہوچکی تھی لیکن اسی درمیان خصوصی جج کرونا کا شکار ہوگئے اوروہ عدالت آنہیں سکے جس کی وجہ سے معاملہ ٹلتے چلا گیا، اب جبکہ خصوصی این آئی اے جج دنیش کوٹھلیکر شفایاب ہوچکے ہیں اور عدالتی امور کا چار ج لے چکے ہیں، امید ہیکہ کل فیصلہ سنا دیا جائے گا۔

اس ضمن میں جمعیۃ علماء مہاراشٹر (ارشد مدنی) قانونی امداد کمیٹی کے سربراہ گلزار اعظمی نے کہا کہ دفاعی وکلاء نے ملزمین کے دفاع میں عدالت میں مدلل بحث کی ہے اور انہیں امید ہیکہ عدالت کی جانب سے ملزمین کو راحت حاصل ہوگی کیونکہ پورا مقدمہ فرضی گواہوں اورثبوتوں کی بنیاد پر بنایا گیا ہے جس کو دفاعی وکلاء نے نہایت اچھے طریقے سے عدالت کے سامنے زبانی اور تحریری شکل میں پیش کیا  ہے۔

انہوں نے کہا کہ اس مقدمہ کا فیصلہ دو ماہ قبل ہی آچکا ہوتا اگر خصوصی جج کرونا سے متاثر نہیں ہو ئے ہوتے لیکن اب جبکہ انہوں نے چارج لے لیا ہے، امید ہیکہ کل وہ فیصلہ سنا دیں گے۔گلزار اعظمی نے مزید کہا کہ فیصلہ ظاہر کرنے میں ہونے والی تاخیر سے جیل میں ملزمین اور جیل کے باہر ان کے لواحقین پریشانی کا شکار ہیں جس کے تعلق سے گذشتہ سماعت پر ایڈوکیٹ عبدالوہاب خان اورایڈوکیٹ شریف شیخ نے عدالت کو بتایا بھی تھا جس پر جج نے انہیں یقین دلایا تھا کہ ان کی کوشش ہیکہ جلداز جلد فیصلہ سنا  دیا جائے۔

واضح رہے کہ استغاثہ کا الزام ہیکہ ملزمین کاتعلق ممنوع دہشت گرد تنظیم لشکر طیبہ اور حرکت الجہاد سے ہے اور ان کے نشانے پر ناندیڑ علاقے کے ایم پی،ایم ایل اے اور صحافی حضرات تھے۔اس معاملے میں اے ٹی ایس نے ملزمین محمد مزمل عبدالغفور، محمد صادق محمد فاروق، محمد الیاس محمد اکبر، محمد عرفان محمد غوث اور محمد اکرم محمد اکبر پر آرمس قانون کی دفعات25,3  اور یواے پی اے قانون کی دفعات 10،13،15، اور 16 کے تحت مقدمہ درج کیا تھا۔