ناندیڑ:ہندوﺅں پر ہونے والے مبینہ حملوں کی مذمت میں کُل ہندو سماج کا خاموش مورچہ

503

ناندیڑ:24جولائی ( ورقِ تازہ نیوز) ہندو سماج پر ہورہے مبینہ حملوں کی مذمت میں کُل ہند سماج کی جانب سے اتوار کی دوپہر وزیر آباد علاقہ سے ضلع کلکٹر آفس تک خاموش مورچہ نکالا گیا۔ اس مورچہ میں خواتین، سینئر شہریان و ہندو سماج کے مختلف مذہبی رہنماﺅں نے شرکت کی۔ ملک و ریاست میں مختلف ہندو مذہبی رہنماﺅں و ہندو تنظیمیں کے ذمہ داران و دیگر عہدیداران پر حملے ہورہے ہیں۔

اس موقع پر ہندو سماج کے مذہبی قائدین نے اپنے خیالات کرتے ہوئے کہا کہ مبینہ لوجہاد، مبینہ لینڈ جہاد جیسے معاملات پر ہندو سماج میں برہمی پائی جارہی ہے۔ ملک میں رام نومی کے جلوس پر حملے کیے گئے۔ گزشتہ کئی دنوں سے اس طرح کے واقعات میں اضافہ ہوا ہے۔ اُدیے پور قتل معاملہ کے بعد ملک بھر میں تناﺅ کی کیفیت پیدا ہوگئی ہے۔

ایک ہندو ٹیلر کے قتل کے بعد لوگوں میں شدید برہمی کا اظہار کیا جارہا ہے۔ امراوتی میں بھی میڈیسن بزنس مین اُمیش کولہے کا بھی دردناک قتل کیا گیا۔ علاوہ ازیں ہریانہ میں ہندو کارکن کا قتل کیا گیا۔

اس کے علاوہ دیوی دیوتاﺅں پر نکتہ چینی کرنا اور دھمکیاں دینے جیسے معاملات کی وجہہ سے خوف و ہراس کا ماحول پایا جارہا ہے۔ ان واقعات کی روک تھام کے لیے نیز ان واقعات کی مذمت میں وزیر آباد کے مارواڑی دھرم شالہ سے اتوار کی دوپہر پولیس ہیڈکوارٹر وزیر آباد کے راستے سے ہوتے ہوئے ضلع کلکٹر آفس پر کُل ہندو سماج کی جانب سے خاموش مورچہ نکالا گیا۔

This slideshow requires JavaScript.

اس مورچہ میں خواتین، سینئر شہریان و سندھو سماج کے مختلف مذہبی قائدین نے ہاتھ میں جھنڈا، مذمتی فلک وغیرہ لے کر حصہ لیا۔

اس موقع پر ہندو سماج کے مذہبی قائدین نے اپنے خیالات کا بھی اظہار کیا۔ بعد ازاں ضلع کلکٹر کو مختلف مطالبات پر مبنی ایک میمورنڈم ریڈیسیڈنٹ ضلع کلکٹر کے معرفت دیا گیا۔