ناندیڑ:19اکتوبر(ورق تازہ نیوز)ریاست میں31ڈسمبر 2020 سے قبل کی غیر قانونی لے آوٹ اور اس پرتعمیر ات کو مستقل کرنے کیلئے حکومت نے گنٹھے واری ایکٹ میںترمیم کرنے کے بعد اب اسکی فیس بھی محکمہ شہری ترقیات نے طئے کرلی ہے ۔حال ہی میں ناندیڑمیونسپل کارپوریشن نے اپنے نرخ طئے کئے تھے لیکن اب حکومت کے نئے نرخ کی وجہہ سے کارپوریشن کے نرخ اب بازو میں ہوجائیںگے ۔

شہری حدودکے غیر مجاز لے آوٹ و غیر قانونی طور پر بستیوں میں اضافہ کی وجہہ سے حکومت نے جنوری 2001 سے قبل کے غیرمجاز اراضیات و اس پرتعمیرات کو مستقل کرنے کیلئے ایکٹ بنایا ہے لیکن اسکی معیاد بھی ختم ہوگئی جس کے باعث نگر پالیکاا ور میونسپل کارپوریشن میںاراضی کومستقل کرنے کی اسکیم بندکردی گئی۔

ریاست میں مہاویکاس اگھاڑی کی حکومت کاقیام عمل میں آیااور اورنگ آباد کامسئلہ پیچیدہ ہونے کی وجہہ سے گنٹھے واری اسکیم کو 31ڈسمبر2020 تک توسیع دینے کافیصلہ کیاگیا ۔یہ فیصلہ نہ صرف اورنگ آباد تک محدود رہا بلکہ ریاست بھر میں لاگو کیاگیااسلئے غیر مجاز اراضیات کی تعمیرات واراضی کو مستقل کرنے کے خواہشمند مالکان کو دلاسہ ملا۔

اورنگ آباد کو گنٹھے واری اصول کے مطابق اراضی کو مستقل کرنے کیلئے فیس طئے کئے گئے جس کی بنیاد پرناندیڑکارپوریشن نے بھی فیس طئے کرلی تھی۔اجلاس عام نے گنٹھے واری نرخ میں کافی تخفیف کی تھی لیکن کمشنر نے اس پوری طرح منظوری دینے کے بجائے کارپوریشن کے مفاد کیلئے کئی نرخ کو

برقراررکھا جس کے باعث ناندیڑمیں گنٹھے واری کرنے میں اراضی مالکان نے دلچسپی ظاہر نہیں کی لیکن اب حکومت نے ہی نئے نرخ طئے کرلئے ہیں اسلئے کارپوریشن کے نرخ بے معنی ہوگئے ہیں ۔حکومت کے احکام کے مطابق ہی گنٹھے واری کرنے کیلئے رقم وصول کی جاسکتی ہے۔

ورق تازہ نیوز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں  https://t.me/waraquetazaonlineاور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔