ناندیڑ:چودہ سالہ لڑکی کوہراساں کرنے والے نوجوان کوتین سال قیدبامشقت کی سزا

534

ناندیڑ:4نومبر ( ورقِ تازہ نیوز) خصوصی POCSO جج رویندر پانڈے نے 14 سالہ لڑکی کو ہراساں کرنے کے الزام میں 24 سالہ نوجوان کو تین ماہ کی سخت مشقت اور 1000 روپے جرمانے کی سزا سنائی ہے۔ 15 فروری 2020 کو ناندیڑدیہی پولیس اسٹیشن حدود میں رہنے والی ایک خاتون نے اطلاع دی کہ اس کی 14 سالہ بیٹی نے اسکول سے آنے کے بعد کہا کہ سومیش بھگوان گجبھارے (24) اسے ہراساں کر رہا ہے۔

وہ ہمیشہ اس کا پیچھا کرتا ہے۔ وہ اسے زبردستی بلانے کی کوشش کرتا ہے۔ جب خاتون نے اس حوالے سے سومیش گجبھارے کی والدہ کو بتایا تو انہوں نے کہا کہ میرے بیٹے نے دنیا میں کچھ مختلف نہیں کیا، تم جو چاہو کرو، میں تمہارے خلاف زیادتی کا مقدمہ درج کرواوں گی۔ اس شکایت کی بنیاد پر ناندیڑ دیہی پولیس نے 16 فروری 2020 کو تعزیرات ہند کی دفعہ 354 (a) اور 354 (d) کے ساتھ POCSO ایکٹ کی دفعہ 11 اور 12 کے تحت مقدمہ درج کیا۔

اس جرم کی جانچ اس وقت کے پی ایس آئی رتناکر گھولوے نے کی تھی۔یہ خصوصی POCSO کیس نمبر 89/2020 عدالت میں چلا۔ اس کیس میں سات گواہوں نے عدالت میں اپنے بیانات قلمبند کرائے۔ کیس میں دلائل سننے کے بعد جج رویندر پانڈے نے سومیش بھگوان گجبھارے کو تین ماہ کی سخت مشقت اور ایک ہزار روپے جرمانے کی سزا سنائی۔ اس معاملے میں،ایڈوکیٹ یم۔ اے۔ بتللہ (ڈانگے) نے کامیاسب پیروی کی ۔ عدالت میں پیروی آفسرکی کاروائی ناندیڑ دیہی کے پولیس عملدار فیاض صدیقی نے پورا نے کاروائی انجام دی