ناندیڑ:13 جنوری۔ (ورق تازہ نیوز) ایڈیشنل چیف جسٹس ایس اے کھلانے نے ایک آئی ٹی انجینئر کو اپنی بیوی کے ساتھ جنسی زیادتی کے الزام میں دو دن کے لیے پولیس کی تحویل میں دے دیا۔

11 جنوری 2022 کو ناندیڑ دیہی پولیس اسٹیشن میں 27 سالہ شادی شدہ خاتون کی طرف سے درج کرائی گئی شکایت کے مطابق اس کی شادی 21 فروری 2021 کو ہوئی تھی۔ ان کاشوہر آئی ٹی انجینئر ہے اور کورونا کی وجہ سے وہ ورک فارم ہوم کے تحت گھر سے کام کر رہے ہیں۔

انہوں نے میرا فون اپنے پاس رکھا کیونکہ شادی کے بعد میرے فون پر میرے رشتہ داروں کی فون کالز انہیں پسند نہیں تھیں۔

اس نے مجھے جان سے مارنے کی دھمکی دی اور میرا انسٹاگرام آئی ڈی اور پاس ورڈ چھین لیا۔ میرے شوہر اور ساس نے میری شادی کے بعد صرف 15 دن تک میرے ساتھ اچھا سلوک کیا۔

پھر 25 جون 2021 کی رات اس نے مجھے ایک فحش ویڈیو کلپ دکھایا اور میرے ساتھ غیر فطری سلوک کیا۔ ساتھ ہی اس غیر فطری عمل کی ویڈیوکلپ بھی تیار کی۔

جب خاتون نے اپنی ساس کو اس بارے میں بتایا تو اس نے کہاکہ تمہیں برداشت کرنا پڑے گا۔ وقتاً فوقتاً ہونے والے غیر فطری مظالم سے تنگ آ کر میں 10 جنوری 2022 کو اپنے مائیکہ پہنچ کر شوہر کے خلاف شکایت درج کروائی ۔

ناندیڑ دیہی پولیس نے شوہر اور اس کی والدہ کے خلاف تعزیرات ہند کی دفعہ 377، 498 (a)، 323، 504، 506 اور 34 کے تحت مقدمہ درج کیا ہے۔ شوہر، جو آئی ٹی انجینئر ہے، کو اسسٹنٹ انسپکٹر آف پولیس سریش تھوراٹ نے 13 جنوری کی آدھی رات کے بعد گرفتار کیا تھا۔

آج سریش تھوراٹ اور ان کے ساتھی پولیس افسران نے گرفتار آئی ٹی انجینئر کو عدالت میں پیش کیا۔ سرکاری وکیل ایڈووکیٹ گریش مورے نے کیس میں پولیس حراست کا معاملہ اٹھایا۔

جج ایس اے کھلانے نے آئی ٹی انجینئر کو دو دن کے لیے پولیس کی تحویل میں دے دیا۔

ورق تازہ نیوز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں  https://t.me/waraquetazaonlineاور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔ 


اپنی رائے یہاں لکھیں