ناندیڑمیں یوم شہادت بابری مسجد پر مسلمانوں کاتاریخی احتجاج

0 10

ناندیڑ:6ڈسمبر۔(ورقِ تازہ نیوز)6ڈسمبر 1992 ءکو مرکز میںبرسراقتدار کانگریس پارٹی کی آ نکھوں کے سامنے فرقہ پرستوں نے فیض آباد (ایودھیا) میں 700 سال قبل تعمیر بابری مسجد کوچند ہی منٹ میں شہید کردیاتھا ۔ جس کے بعدسارے ملک میں بڑے پیمانے پرفرقہ وارانہ فسادات پھوٹ پڑے تھے جس میں سینکڑوں مسلمان پولس فائرئنگ اور فرقہ پرستوں کانشانہ بنے تھے ۔ ہرسال 6ڈسمبر کو ہندوستان بھرکے مسلمان بابری مسجد کی شہادت مناتے ہیں اور مسجد کی دوبارہ بازیابی کامطالبہ حکومت وقت سے کرتے آرہے ہیں ۔ آج شہادت کی 26ویں برسی کے موقع پر ناندیڑ شہروضلع کے دیگر تعلقہ جات میں بھی مسلمانوں نے پُرامن طور پر بند منایا اور ضلع کلکٹر کے معرفت صدر جمہوریہ ہند کو میمورنڈم روانہ کرکے بابری مسجد کی اسی مقام پر فی الفور تعمیر اور مسجد کی شہادت میں ملوث مجرمین کے خلاف سخت سے سخت کاروائی کا مطالبہ کیا ہے ۔شہرکے دےگلور ناکہ ،اتوارہ‘ منیارگلی ‘ رےلوے اسٹےشن،نئی آبادی ،برقی چوک،صرافہ‘ پےر برہان نگر،نظام کالونی او ردیگر مسلم اکثریتی علاقوں کے علاوہ جہاں جہاں مسلمانوں کی دوکانیں و کاروباری ادارے ہیں مکمل طور پر بند رکھاگیا ۔DSC_5975

اس کے علاوہ اردو مدارس میں بھی طلباءکی تعداد حسب روایت کافی کم تھی ۔سڑکوں پر ٹرافک بھی بہت کم تھی ۔ مسلم متحدہ محاذ ناندیڑ کی جانب سے آج شہر کے دیگلورناکہ علاقہ میں مسجد قباءکے روبرو مین روڈ پر عظیم الشان احتجاجی جلسہ منعقد کیا گیا تھا ۔جس میں ہزاروں کی تعداد میں مسلمانوں نے شرکت کی ۔صبح گیارہ تا دوپہر ایک بجے تک جاری رہے جلسہ سے ایم ۔زیڈ۔صدیقی ‘صدر محاذ‘مفتی خلیل الرحمن ‘ مولانا آصف ندوی‘صدر قاضی محمد رفیق صاحب اشاعتی ‘حضرت مولانا ایوب صاحب قاسمی ‘حضرت مولانا سرور صاحب قاسمی ‘حضرت مولانا عبدالعظیم صاحب رضوی ‘ ایڈوکیٹ ‘جناب ناصر خطیب صاحب وغیرہ نے خطاب فرمایا۔مقرررین نے اپنی تقریروں میں بابری مسجد کی شہادت سے متعلق واقعات کا ذکر کیا ۔بابری مسجد کی حق ملکیت سے متعلق عدالت میں جاری مقدمہ کے حوالے سے مقرررین نے کہا کہ عدالت جو فیصلہ دے گی مسلمان اس کو ماننے کے لئے تیار ہےں۔ لیکن چند فرقہ پرست جماعتیں عدالت کے فیصلہ کا انتظار کرنے کے بجائے زبردستی وہاں قانون کے ذریعہ رام مندر تعمیر کرنے کا مطالبہ کررہی ہےں ۔فرقہ پرست جماعتوں کی جانب سے دئے جارہے اشتعال انگیز بیانات کی بھی مذمت کی گئی اور ان کےخلاف کارروائی کا مطالبہ کیا گیا ۔اسی طرح بابری مسجد کے نام پر ہورہی سیاست کو ملک کے اصل مسائل سے توجہ ہٹاکر لوگوںمیں ایک دوسرے کےخلاف نفرت پیدا کرکے سیاسی فائدہ اٹھانے کی ایک کوشش قراردیا گیا ۔جلسہ میں کثیر تعداد میں لوگوں نے شرکت کی ۔تمام مقررین نے حکومت سے مطالبہ کےا کہ سپریم کورٹ میں زیر سماعت مقدمہ کو نظر انداز کرتے ہوئے بابری مسجد کی جگہ مندر کی تعمیر کا مطالبہ کررہے افراد اور تنظیموں کے خلاف کارروائی کی جائے۔ملک بھر میں مسلمانوں کے جان و مال کے تحفظ کوےقینی بناےا جائے۔صدارتی خطاب ودعا حضرت مولانامفتی خلیل الرحمن صاحب قاسمی حفظہ اللہ نے فرمایا۔جبکہ اسٹیج پر معزز شخصیات حضرت مولاناسیلم صاحب ملی‘حافظ سعید صاحب ملی ‘حافظ عبدالستار صاحب ملی ‘حافظ جاوید صاحب فیضی‘حضرت مولانا عبدالرزاق صاحب رشیدی ‘حضرت مولانا وسیم صاحب حسینی ‘حضرت مولانا مفتی سلیمان صاحب رحمانی علمائے کرام شہ نشین تھے۔اوردیگرمتعدد سےاسی و سماجی لیڈران بھی موجود تھے ۔مسلم متحدہ محاذ میں شامل چند تنظیموں جمعےت علمائے ہند،مائنارٹی میڈےا اسوسی ایشن،صفا بےت المال،ایمس و غےرہ نے حصہ لےا۔ واضح رہے کہ ضلع انتظامیہ نے مسلم متحدہ محاذ کو ضلع کلکٹر آفس کے روبرو احتجاج کی اجازت نہیں دی تھی اسلئے دیگلور ناکہ پراحتجاج کرنا پڑا ۔ ضلع انتظامیہ کے افسران بھی میمورنڈم قبول کرنے کیلئے دیگلور ناکہ پہنچے تھے ۔ڈپٹی کلکٹر کلکرنی اور ضلع ایس پی سنجے جادھو دیگلورناکہ پولس چوکی میں دوپہر ساڑھے بارہ بجے ہی پہنچ گئے تھے ۔جلسہ کے اختتام پر نمائندہ وفد نے مطالبات پر مبنی میمورنڈم ان دونوں افسران کے سپرد کیا ۔ اس طرح آج ناندیڑ کی تاریخ کااپنی نوعیت کا پہلا احتجاجی دھرنا رہا جوضلع کلکٹر آفس کے روبرو رکھنے کے بجائے مسلم اکثریتی علاقہ میں رکھاگیااور ضلع انتظامیہ کے افسران میمورنڈم قبول کرنے کیلئے دیگلورناکہ پہنچے ۔