ناندیڑ:28اپریل (ور ق تازہ نیوز)کورونا وائرس کی دوسری لہر سونامی کی طرح مہاراشٹربھر میں پھیلی ہوئی ہے ۔اس لہر میں آکسیجن کی کمی سب سے زیادہ محسوس کی جارہی ہے ۔ اسلئے مستقبل میں ناندیڑضلع میں آکسیجن کی کمی کامسئلہ پیدا نہ ہو اسلئے چھ کروڑ کی لاگت سے ضلع میں 18 مقامات پر ہوا کے ذریعہ آکسیجن کی تیاری کے پلانٹس قائم کرنے کا کام جنگی پیمانے پر شروع کیاگیا ہے۔ناندیڑ کے رابطہ وزیر اشوک چوہان اور ناندیڑضلع کلکٹرڈاکٹرویپن اٹنکر گزشتہ ایک ماہ سے اس طرح کے پلانٹس کی تیاری کیلئے کوشاں تھے۔

25 مارچ سے ناندیڑضلع میں ضروری اشیاءکی دوکانیںچھوڑ کر دیگر تمام کاروبار بند ہے ۔ایک ماہ کے دوران صرف تین مرتبہ ہی مریضوں کی تعداد ایک ہزارسے کم ریکارڈ ہوئی ہے ۔ لیکن اموات میں کمی نہیں آئی ۔ ابتدا ءمیں میونسپل کارپوریشن حدود اور اب دیہی علاقوں میں اموات بڑھ گئی ہیں۔ دواخانوں کی تعداد اور بستروں کی تعداد میں اضافہ کے بعداب مریضوں کے علاج معالجہ کیلئے ضروری سازوسامان کی کمی محسوس ہورہی ہے ۔ آکسیجن بیڈ ملنا مشکل ہوگی ہے ۔کارپوریشن کے تعاون سے بھکتی لانس میں جمبو کوویڈ سنٹر شروع کرکے سرکاری دواخانہ کابوجھ کم کیاگیا ہے ۔ کچھ بیڈ خالی ہوئے ہیں اور شدید بیمار مریضوں کو فی الفور علاج کرنے میں مدد مل رہی ہے ۔

شہر کے حیدرباغ میں 37 بیڈ کا آکسیجن سے لیس جمبو کوویڈسنٹر کا کام آخری مرحلہ میں جاری ہے ۔ناندیڑضلع میں ابھی تک آکسیجن کی کمی محسوس نہیں ہوئی البتہ مستقبل میںاسکی کمی پیش آسکتی ہے اسلئے’بیک اپ پلان“ تیار کیاجارہا ہے ۔وزیررابطہ اشوک چوہان کی ثالثی سے ضلع کے15تعلقوں میں ایک اور ناندیڑشہر میں تین اس ططرح 18مقامات پر ہوا کے ذریعہ آکسیجن کی تیاری کے پلانٹس قائم کئے جارہے ہیں۔جس کا کام جنگی پیمانے پرجاری ہے ۔دیگلور اورکنوٹ تعلقوں میں یہ پلانٹس فی الحال شروع ہوگئے ہیں۔شری گوروگوبندسنگھ جی سرکاری اسپتال میں آئندہ دس دنون میں یہ پلانٹ مکمل ہوجاے گا۔ڈاکٹرشنکرراوچوہان گورنمنٹ میڈیکل کالج میںدو پروجیکٹ شروع کئے جارہے ہیں۔ان تمام پروجیکٹس کیلئے چھ کروڑ کی لاگت آرہی ہے ۔