ناندیڑمیں”مجلس“ کے سیاسی کھیل کا نشانہ بنے نوجوان 11سال بعدباعزت بری

2,472

ناندیڑ۔ 11 نومبر۔: گیارہ سالوں کی تکالیف برداشت کرنے کے بعد بالآخر ۸۴ نوجوانوں کو آج عدالت میں بری کردیا گیا۔مہاراشٹر میں مجلس اتحادالمسلمین کی بقاءکا وسیلہ بنے نوجوانوں کو رہائی تو مل گئی لیکن نوجوانوں نے مجلس کے ذمہ داران کے غیر ذمہ دارانہ رویہ پر سخت ناراضگی کا اظہار کیا اور ملت کے لوگوں کو اس طرح کے جھانسہ میں نہ آنے کا مشورہ دیا۔

تفصیلات کے مطابق ۸نومبر 2011ءکو عید الاضحی کے موقع پر بجلی گل ہونے کی وجہ سے مسلمانوں کو کافی مشکلات کا سامنا کرنا پڑا تھا۔ بجلی کے بار بار منقطع ہونے کی وجہ سے صاف صفائی کے کاموں میں مشکلات پیش آئیں تھیں۔ اس مسئلہ کو لیکر مجلس کے لیڈران سے ایم ایس سی بی محکمہ سے جواب طلب کرنے اور احتجاج درج کرنے کی غرض سے عید کے تیسرے دن ایم ایس سی بی افسر ڈی ڈی ہمند سے ملاقات کرنے کا فیصلہ کیا تھا۔ اس احتجاج میں کسی قسم کی کوئی شرارت نہیں کرنے اور شدت کا راستہ اختیار نہ کرنے کا طئے کیا گیا تھا لیکن عین احتجاج کے موقع پر کچھ شر پسند افراد نے افسر کی توہین کی اور رفو چکر ہو گئے ۔

احتجاج درج کرنے والوں میں نو عمر لڑکوں سے لیکر مجلسی قائدین بھی موجود تھے۔ پتہ ہی نہیں چلا کہ کسیے دس منٹ کے اندر پولس موقع پر پہنچ گئی اور دفتر میں موجود لوگوںکو ا ن کا پتہ پوچھ کر گرفتار کیا جانے لگا۔ اس طرح پولس نے 53 لوگوں کو گرفتار کر لیا جن میں کچھ نابالغ لڑکے بھی شامل تھے۔ ان تمام افرادکو کسی پیشہ وارانہ مجرم کی طرح گھسیٹ کر لے جایا گیا۔ وزیر آباد پولس اسٹیشن پہنچ کر اس کے وقت کے ڈی وائے ایس پی مسٹر پاٹل نے کارروائی انجام دی اور کئی دفعات کے تحت مقدمہ درج کر لیا گیا۔ گرفتار شدہ لوگوں کو پربھنی کی جیل میں رکھا گیا اور ان کی ضمانت کے لئے 8 دن لگ گئے۔

دوران اسیری مجلسی لیڈران نے اس معاملہ کو ریاستی سطح پر چمکایا ۔ ضمانت کے بعد شہر کے ہر ایک کونے میں مختلف پروگرامس منعقد کرکے عوام کی تائید و حمایت حاصل کی گئی ۔ جس کے نتیجہ میں مجلس کی مقبولیت میں بے انتہاءاضافہ ہوا اور کارپوریشن انتخابات میں مجلس کو ناقابل امید کامیابی حاصل ہوئی۔ لیکن مجلسی لیڈران نے ان جیالوں کے معاملہ کی قانونی پیروی کے لئے کسی قسم کی کوئی کوشش نہیں کی۔ کارپوریٹر ناصر اقبال نے اس سلسلہ میں پہل کرتے ہوئے مہاراشٹر حکومت کے جی آر کا مطالعہ کیا ۔ جس میں سیاسی احتجاجوں میں درج ہوئے مقدمات کو واپس لینے کا فیصلہ کیا گیا تھا۔

انہوں نے اس جی آر کا تذکرہ وزیر سرپرست اشوک چوہان سے کیا اور سابقہ منسٹر ڈی پی ساونت کی قیادت میں ضلع کلکٹر سے دو مرتبہ نمائند گی بھی کی۔ ناصر اقبال نے مسلسل کوششیں کیں اور تمام کارروائی کو مکمل کرکے بالآخر آج مورخہ 12 نومبر 2022ءکو لوک عدالت میں معاملہ ختم کرنے میں ایک اہم رول ادا کیا۔ اس پوری کارروائی میں ہمیشہ کی طرح ناندیڑ کے معروف ایڈوکیٹ اریب الدین نے بلا ومعاضہ خدمات پیش کرکے پھر ایک بار اپنی قومی ہمدردی کا ثبوت دیا۔واضح رہے کہ ملزمین میں اعلیٰ تعلیم یافتہ نوجوان شامل تھے جن کے کیئریئر پر گیارہ سالوں تک ایک بد نما دھبہ لگا ہوا تھا ۔ ان تمام کو اپنی ملازمتوں میں کافی مشکلات کا سامنا کرنا پڑا۔ عوام گزارش ہے کہ وہ سیاسی لیڈران کے پیچھے اپنے نونہالوں کی زند گی کو برباد نہ کریں ۔ انہیں تعلیم یافتہ بنا کرقوم کا ایک بہترین اثاثہ بنائیں۔