ناندیڑ:6اپریل(ورق تازہ نیوز) ناندیڑ کے شہر اور ضلع میں امن و امان سب سے بڑا مسئلہ ہے اور میں ہمیشہ اس کے بارے میں مثبت سوچتا ہوں۔ان خیالات کا اظہار ضلع کے سرپرست وزیر اشوک چوہان نے کیا۔بلڈر سنجے بالاپرساد بیانی کا 5 اپریل کو قتل کر دیا گیا تھا۔ اسی پس منظر میں ضلع وشہر میں لاءاینڈآرڈر کی صورتحال پراشوک چوہان نے آج سہ پہر سہیادری ریسٹ ہاوس میںپریس کانفرنس منعقد کی ۔ پریس کانفرنس میں ڈپٹی انسپکٹر جنرل آف پولیس نثار تمبولی، ضلع کلکٹر ڈاکٹر وپن اٹنکر‘ پولیس سپرنٹنڈنٹ پرمود شیوالے اور بھوکر کے ایڈیشنل سپرنٹنڈنٹ آف پولیس وجے کباڈے نے شرکت کی۔

اس موقع پر مزید بات کرتے ہوئے اشوک چوہان نے کہا کہ نثار تمبولی اور پرمود شیوالے نے مشترکہ طور پر سنجے بیانی کے قتل کی تحقیقات کی ذمہ داری وجے کباڈے کو دی ہے۔ اس کے لیے انہوں نے جن افسران اور ملازمین کی ضرورت ہے وہ دیے ہیں۔ میں پریس کانفرنس کے بعد بیانی کے گھر جاو¿ں گا اور اس تفتیش کے نقطہ نظر کے مطابق ان سے جو معلومات اکٹھی کی جا سکتی ہیں وہ اکٹھی کریں گے اور اس تفتیش کو درست سمت دیں گے۔ کابینہ کا اجلاس کل 7 اپریل کو ہوگا۔ اس میں بھی میں وزیر داخلہ اور پولیس کے ڈائریکٹر جنرل سے بات کرکے پیش آنے والے واقعات اور اس کے پیچھے کارفرما ماسٹر مائنڈ جاننے کی کوشش کروں گا۔ ضلع میں امن و امان برقرار رکھنے کے لیے کام کرنا ہماری ذمہ داری ہے اور ڈپٹی انسپکٹر جنرل آف پولیس نثار تمبولی اور سپرنٹنڈنٹ آف پولیس پرمود شیوالے اس کے لیے پرعزم ہیں۔ کل کے واقعے کے تناظر میں عوام کا تحفظ انتہائی اہمیت کا حامل ہے۔

کل کے واقعے کو مختلف شکل دینے کی کوشش کی جا رہی ہے۔ لیکن اگر لوگوں کو اپنی حفاظت کے حوالے سے کوئی پریشانی ہو تو وہ نثار تمبولی، پرمود شیوالے یا مجھ سے براہ راست رابطہ کریں۔ میں گواہی دیتا ہوں کہ وہ جو معلومات فراہم کرتے ہیں وہ خفیہ ہے۔اس موقع پر پرمود شیوالے نے آج تک کیا ہوا اس کا جواب دیتے ہوئے کہا کہ آج کے حالات میں ہم 45 مجرموں کو گرفتار کرنے اور ان سے معلومات اکٹھا کرنے کی کوشش کر رہے ہیں۔ ہم متعدد سی سی ٹی وی بھی چیک کر رہے ہیں۔ سنجے بیانی کی سیکیورٹی ہٹانے پر بات کرتے ہوئے ڈپٹی انسپکٹر جنرل آف پولیس نثار تمبولی نے کہا کہ سنجے بیانی کو 2020 سے سیکیورٹی نہیں ہے۔ ہم نے ان سے براہ راست بات کی لیکن انہوں نے ہمیں سیکورٹی کے بارے میں کچھ نہیں بتایا۔ فیصلہ ایک کمیٹی کرتی ہے جو کچھ لوگوں کی حفاظت کا فیصلہ کرتی ہے، کچھ لوگ ہمارے خلاف ہائی کورٹ گئے ہیں۔ ہم نے ہائی کورٹ میں جواب دیا ہے۔ کیس چونکہ قابل انصاف ہے اس لیے اس پر زیادہ بات کرنا مناسب نہیں۔