ناندیڑ:9مئی (ورق تازہ نیوز) 29 اپریل کو نامعلوم حملہ آوروں نے ٹرین میں چھوٹاکاروبار کرنے والے ایک نوجوان کوقتل کردیاتھا۔ یہ واقعہ دیگلورناکا کے قریب ویٹرنری ہسپتال سے ملحقہ جھاڑیوں میں پیش آیا۔ پولیس انسپکٹر بھگوان دھبڑگے اور ان کے ساتھیوں نے، جنہوں نے اپنی زندگی میں کام کو اولین ترجیح دی، آخر کار نامعلوم قاتل کو ڈھونڈ نکالا ہے۔ 9 مئی کو 20 سالہ نوجوان کا قتل کرنے والے 21 سالہ قاتل کو فرسٹ کلاس مجسٹریٹ پروین کلکرنی نے 14 مئی 2022 تک پولیس کی تحویل میں دے دیا ہے۔

29 اپریل کو، شانتی نگر میں رہنے والا ایک نوجوان امول پربھو سبنے صبح کے وقت ویٹرنری اسپتال کے قریب جھاڑیوں میں رفع حاجت سے فارغ ہونے گیاتھا۔ وہ اور اس کے بھائی اور والد سبھی ریلوے میں چھوٹی بڑی چیزیں بیچ کر روزی کماتے ہیں۔ جب دن بھر امول سابنے گھر واپس نہیں آیاتو گھر والوں نے اسکی تلاش شروع کردیاور رات 11 بجے امول کی لاش ویٹرنیری اسپتال نزد مدینہ نگرسے برآمد ہوئی۔نامعلوم قاتل کے خلاف اتوارہ پولس اسٹیشن میں مقدمہ درج کیاگیاتھا۔8 مئی کو پولیس نے شیخ اکبر عرف گجر شیخ غوث (21سال) ساکن کھڑک پورہ کو پانی کی ٹاکی کے قریب سے گرفتار کیا۔

موصولہ اطلاعات کے مطابق شیخ اکبر عرف گجر نے امول ساسنے سے چاقو دیکھاکر رقم کا مطالبہ کیا ۔ ادائیگی نہ کرنے پر شیخ اکبر نے امول سبابنے کے پیٹ، سینے، کندھے پرجان لیواحملہ کردیا اور سابنے کے جیب سے رقم لے کر فرار ہوگیا۔ شیخ اکبر کے خلاف لمبگاو¿ں پولس اسٹیشن میں ڈکیتی کا مقدمہ نمبر 75/2021 درج کیا گیا ہے۔ تعزیرات ہند کی دفعہ 307 کے تحت اتوارا پولس اسٹیشن میں مقدمہ نمبر 446/2020 بھی درج کیا گیا تھا ۔پولس نے بھی تفتیش شروع کردی اور آخر کار شیخ اکبر کوگرفتار کرنے میں کامیابی حاصل کرلی۔ آج فرسٹ کلاس مجسٹریٹ پروین کلکرنی نے امول سوبنے کے قتل کے الزام میں شیخ اکبر عرف گجر کو 14 مئی 2022 تک یعنی پانچ دن کے لیے پولیس کی تحویل میں دے دیا ہے۔ قتل کے معمہ کوحل کرنے پر اتوارہ پولس اسٹیشن کے پی آئی دھبڑگے اورانکی ٹیم کی آئی جی ‘ایس پی ودیگر افسرا ن نے تعریف کرکے مبارکباد دی۔