ناندیڑ:16۔ مارچ۔(ورق تازہ نیوز)چودہ سال کی نابالغ لڑکی کاجنسی استحصال کرنے والے دومولوی (معلمین)اورایک معاون کو بلولی کے ضلع جج وکرما دتا مانڈے نے 18مارچ تک پولس کسٹڈی میںبھیج دیا ہے ۔دیگلور شہر میں چودہ سال کی لڑکی کو گزشتہ دیڑھ سال سے ایک عبادت گاہ کے قریب مولوی شیخ اعجاز شیخ نبی عمر 27 سال ساکن پاڑ تعلقہ مکھیڑ کے پاس عربی پڑھنے کیلئے جاتی تھی ۔

ایک مرتبہ مولوی نے لڑکی کو کتاب لانے کیلئے روانہ کیااوربعد میںاسکے پیچھے جاکرکمرے کادروازہ بند کردیااور پھر لڑکی کاجنسی استحصال کیا ۔ اسکے علاوہ اس فحش حرکت کی ویڈیوگرافی بھی کی۔جس کی بنیاد پر یہ مولوی لڑکی کو ہراساںکرکے جنسی استحصال کررہاتھا ۔ایسے میں لڑکی بیمار ہوگئی لیکن مولوی کو کوئی رحم نہیں آیا ۔اسی بیماری کے دوران لڑکی نے والدہ کو اس بارے میں سب کچھ بتایا ۔اسکے بعدلڑکی کے والد نے مولوی سے پوچھ گچھ کی تواس نے فحش ویڈیو کووائرل کرنے کی دھمکی دی ۔اور لڑکی کیساتھ شادی کرنے کی تجویز رکھی ۔

یہ معاملہ پولس تک پہنچااور مہیلادکشتا سمیتی ‘ پی آئی بھگوان نے معاملے کی انکوائری کی اور مولانا شیخ اعجاز شیخ نبی ‘ مولانا شیخ شفیع شیخ محبوب بابا 21سال اور معاون شیخ منیر شیخ چھوٹو میاں24 سال ساکنان دیگلور کے خلاف انسداد اطفال جنسی تشدد ایکٹ کے تحت مقدمہ درج کیاگیا ۔آج 16مارچ کو کو پی ایس آئی پونم سوریہ ونشی نے تینوں ملزمین کوبلولی کی خصوصی عدالت میں پیش کیا ۔ معاون سرکاری وکیل سندیپ کنڈلواڑی کر نے پولس کسٹڈی دینے کامطالبہ کیا ۔جج وکرمادتیہ نے دونوں مولوی اورر تیسرے معاون کو 18مارچ تک پولس کسٹڈی میں رکھنے کاحکم دیا ہے ۔