ناندیڑ:لائق ستائش وقابل تقلید شادی,بات چیت کو گئے اورشادی کرکے واپس لوٹے

1,194

اندیڑ:(محمدسراج الدین)23 جنوری: آج مسلم معاشرے میں گھوڑے جوڑے،لین دین ودیگر لغو رسم ورواج سے غریب والدین کیلئے لڑکیوں کی شادی ایک مشکل مسئلہ بن گئی ہے۔ اس غیر شرعی لعنت کی وجہ سے کئی غریب لڑکیوں کی شادی کی عمر ختم ہوگئی اور اس لعنت کی وجہ سے کئی لڑکیاں اسلام سے مرتد ہوکر غیروں سے شادی کررہی ہیں جس کی خبراخبار وں کی سرخیوں پر ہے۔کئی غریب والدین اپنے رہائشی مکان فروخت کرکے اپنی لڑکیوں کی شادی کررہے ہیں توکئی غریب والدین سود کی رقم لےکر اپنی لڑکیوں کی شادی کررہے ہیں۔ گھوڑے جوڑے کی لعنت واصلاح معاشرہ کے عنوان سے علماءکرام تقاریر کرتے کرتے تھک گئے،

لیکن ہمارے معاشرہ پر کچھ اثر ہوتا دکھائی نہیں دے رہاہے۔ لیکن پربھنی میں ایک منعقدہ شادی نے ایک اُمید کی کرن پیدا کی ہے۔ اگر نوجوان یہ مصمم ارادہ کرلیں کہ ہم بغیر گھوڑے جوڑے کی رقم،غیر اسلامی لغو رسم ورواج سے ہٹ کر اسلامی طریقہ شرعی حدود میں رہ کر شادی کریں گے تو ان شاءاللہ ہمارے معاشرہ میں ایک انقلاب آئیگا اور ان نوجوانوں کے قوت ارادہ سے کئی مسلم لڑکیاں جو شادی کی منتظر اپنے مکانوں میں بیٹھی ہیں ان کی شادی کے بعد اُن غریب لڑکیوں اور والدین کی دعاو?ں سے ان شاءاللہ شرعی اعتبار سے شادی کرنے والے نوجوانوں کی نسل پر مثبت اثرپڑے گا۔ ایک ایسی ہی سادی شادی شرعی اصولوں کے ساتھ پربھنی میں انجام پائی، جس سے ایک امید کی کرن پیدا ہوئی ہے۔

تفصیلات یہ ہے کہ ناندیڑ شہر کے سدھناتھ پوری چوپالہ کے ساکن وہاب الدین ٹیلر جو مرکز مکہ مسجد میں خادم ہیں اپنے لڑکے غوث معین الدین عرف اظہر کیلئے لڑکی تلاش کی اور پربھنی کی درگاہ روڈ صوبیدار کالونی کے رہائشی جناب شیخ بابو لعل کی لخت جگر انہیں پسند آگئی، لڑکی والوں کو بھی لڑکا پسند آگیا۔ لڑکی کے سرپرست مامو شیخ صدیق نے لڑکے والوں کو بات چیت کیلئے پربھنی مدعو کیا جس پر اتوار22جنوری کو لڑکے کے والد اپنے مختصر عزیز واقارب کو لے کر بات چیت کیلئے پربھنی پہنچے۔دونوں فریقوں کی بات چیت کے دوران نوشاہ کے بہنوئی عمران خان اور ان کے چھوٹے بھائی رحیم خان نے عروس و نوشہ کے رشتہ داروں کو سمجھایا اور کہاکہ آپ بغیر سم ورواج کے آج ہی شادی کرلیں تو بہتر رہے گا۔

دونوں فریقین کو یہ مشورہ پسند آیا۔ جناب مولوی احمد الدین، عبدالستار، عمران خان، رحیم خان، عروس کے تایا اور مامو شیخ صدیق نے یہ طے کیاکہ ابھی عصر کے بعد عقد پڑھایا جائے، اس کے بعد فوری طورپر قاضی صاحب سے رجوع کیاگیا اور بعد نماز عصر مسجد حضرت علی صوبیدار کالونی پربھنی میں نہایت سادہ طریقہ سے یہ شادی انجام پائی جو آج کےنوجوانوں کیلئے قابل تقلید ہے۔ اس تقریب کو منعقد کرانے میں عمران خان، رحیم خان، مولوی احمدالدین، عبدالستار صاحب ناندیڑ کی کوششوں کو بڑا دخل رہا۔ بعدعقد عزیز واقارب نے عروس ونوشاہ کو مبارکباد دی۔ اللہ تعالیٰ سے دعا ہے کہ اللہ تعالیٰ ہر نوجوان کو اس نکاح کی طرح نکاح کرنے کی توفیق دے۔ نوشاہ، مولوی احمدالدین نیوز پیپر ایجنٹ کے برادرزادے اور عبدالستار صاحب چوپالہ کے ہمشیر زادہ جبکہ محمدسراج الدین، ریاض الدین (نامہ نگاران) کے چچازاد بھائی ہے۔