ناندیڑ:سسرال والوں کے ظلم سے پریشان خاتون نے پھانسی کا پھندے سے لٹک کرخودکشی کرلی

390

ناندیڑ:18نومبر ( ورقِ تازہ نیوز)سسرال والوں کی جانب سے جہیز کے لیے ہراساں کیے جانے کے بعد مائیکہواپس آنے والی 31 سالہ شادی شدہ خاتون نے گھر کے پنکھے سے لٹک کر اپنی زندگی کا خاتمہ کرلیا۔ یہ واقعہ 16 نومبر کی شام ناندیڑ تعلقہ کے دھنے گاو¿ں کے تروپتی نگر میں رونما ہوا۔ اس معاملے میں ناندیڑ دیہی پولس اسٹیشن میں شادی شدہ خاتون کے شوہر سمیت چار ملزمان کے خلاف مقدمہ درج کیا گیا ہے۔

ناندیڑ تعلقہ کے بھائیگاو¿ں کی ایک شادی شدہ خاتون رکمنی بائی گنگادھر میکالے کو اس کا شوہر گنگادھر کلبا میکالے، سسر کلبا میکالے، نند سنگیتا امبیگاو¿ںکر اور دیور سنتوش کلبا میکالے نے 90,000 روپے کا جہیز مائیکہ سے لانے کیلئے جسمانی اور ذہنی تشدد کا نشانہ بنایا۔ جیسے ہی انہیں معلوم ہوا کہ شادی شدہ جوڑے کی طرف سے ان کے مطالبات پورے نہیں کیے جا رہے ہیں،

مذکورہ ملزمان نے خاتون کو مارا پیٹا اور اسے بھوکا رکھ کر تشدد کا نشانہ بنایا،اس طرح کی شکایت راجو بندیوار (مقام تروپتی نگر، دھنیگاو¿ں) نے درج کرائی ہے۔ متوفی کے بھائی رکمن بائی میکالے نے تھانے میں بیان دیا ہے۔متوفی رکمنی بائی اپنے سسرال کی پریشانی برداشت نہیں کر سکتی تھی، اس لیے وہ تین ماہ قبل مائیہتروپتی نگر، دھنیگاو ں میں رہنے آئی تھی۔

اس دوران بہن رکمن بائی اور ان کے شوہر گنگادھر میکالے فون پر بات کرتے ہوئے جھگڑ پڑے۔ راجو دگمبر بندیوار نے شکایت کی ہے کہ رکمنی بائی نے اپنے شوہر اور سسرال والوں کی طرف سے بار بار ہراساں کیے جانے کی وجہ سے بالآخر 16 نومبر کو تقریباً 4:30 بجے اپنے گھر کے پنکھے پر ساڑھی سے پھانسی کاپھندہ باندھ کر خودکشی کر لی۔ بدھ کی رات ناندیڑ دیہی پولس پولس اسٹیشن میں بھائے گاوو¿ں کے چار ملزمان کے خلاف مقدمہ درج کیا گیا ہے۔ پی آئی اشوکگھوربنڈکی رہنمائی میں پولس ملازم بالاجی نرواٹے معاملے کی مزید تفتیش کر رہے ہیں۔