ناندیڑ: لڑکی کے والد نے خود کشی کر لی کیونکہ اس نے اسے اپنے سسرال والوں کی طرف سے فلیٹ اور کار خریدنے کے لیے ہراساں کیا جا رہا تھا۔ یہ واقعہ ناندیڑ کے دیگلور کے شاہ پور میں پیش آیا۔ اپنے والد کی خودکشی سے غمزدہ لڑکی نے بھی اپنے اسکے قریب ہی زندگی کی بازی ہار گئی۔ دیگلور تعلقہ کے سوگاو سے تعلق رکھنے والی مادھوری شنکر بھوسلے کی شادی 8 ماہ قبل مکھیڑ تعلقہ کے انڈری کے سندیپ وڈجے سے ہوئی تھی۔ سندیپ پونے میں ایک کمپنی میں کام کرتا ہے۔

شادی کے بعد سندیپ اور اس کے گھر والوں نے مادھوری کو ذہنی اور جسمانی طور پر ہراساں کرنا شروع کر دیا، کار اور فلیٹ کی خریداری کے لیے 5 لاکھ روپے کا مطالبہ کیا۔مادھوری نے اپنے والد شنکر بھوسلے کو بتایا کہ اس کو سسرال میں ہراساں کیا جا رہا ہے۔ شنکر نے مادھوری کی شادی کے لیے قرض لیا تھا۔ قرض کی ادائیگی ابھی تک نہ ہونے کی وجہ سے 5 لاکھ روپے کہاں سے لائیں یہ سوال انہیں پریشان کرنے لگا۔

اسی پریشانی سے اس نے پیر کی رات پھانسی لگا کر زندگی کا خاتمہ کرلیا۔ مادھوری اپنی وجہ سے والد کی خودکشی کرنے کا غم برداشت نہ کر سکی اور وہ بھی اپنے والد کے پاس ہی زندگی کی بازی ہارکر موت کی آغوش میں چلی گئی ۔اس کے بعد شنکر بھوسلے کی بیوی نے دیگلور پولیس اسٹیشن میں مادھوری کے شوہر سندیپ وڈجے اورسسرال کے 5 دیگر افراد کے خلاف مقدمہ درج کرایا ہے۔

ورق تازہ نیوز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں  https://t.me/waraquetazaonlineاور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔