ناندیڑ:22جون۔ (ورق تازہ نیوز)سرکاری محکموں میں ملازمت کاجھانسہ دے کر بے روزگارنوجوانوںن سے لاکھوں روپے کی لوٹ کرنے والے گروہ کاپردہ فاش ہوا ہے ۔ہنگولی پولس نے اس معاملے میں کاروائی کرتے ہوئے سات ملزمین کوگرفتار کیا ہے اوران کی تحویل سے 20لاکھ روپے سے زائدکی مالیت کاسامان ضبط کیاگیا ہے ۔اس طرح کی معلومات ناندیڑرینج کے ڈپٹی آئی جی نثارتنبولی نے پریس کانفرنس میں دی ہے ۔انھوں نے بتایا کہ سرکاری ملازمت کے نام پر پیسے وصولنے والے افراد کی ٹیم جال پورے ملک میں پھیلا ہوا ہے ۔

اس بات کاپتہ اس وقت چلا جب اس ریاکٹ کاشکار بننے والے ایک شخص نے پولس اسٹیشن بسمت میں شکایت درج کی ۔ جس میںاس نے کہا کہ سنتوش بنواری لال ساکن جون پور اترپردیش نے 2018ءمیں محکمہ ریلوے میں ملازمت دینے کے لئے دس لاکھ روپے کی مانگ کی ۔ الگ الگ بینک کھاتوں میںاس نے یہ رقم جمع کی۔پیسے دینے کے بعدفرضی نامزدگی مکتوب بھی جاری کیا ۔لیکن جب اس نے اسکی تہہ میںجاکرپتہ کیاتو انکشاف ہوا کہ اس کے ساتھ بہت بڑادھوکہ ہوا ہے ۔ اس نے پولس اسٹیشن بسمت میں اسکی شکایت درج کروائی ۔اس شکایت پرکاروائی کرتے ہوئے تین افراد کوگرفتار کیا ہے انھیں لکھنو‘ دہلی ‘ممبئی اورناندیڑ سے گرفتار کیاگیا ہے ۔ اوران کے خلاف تعزیرات ہند کی دفعہ 420/34کے تحت مقدمہ درج کیا گیا ہے ۔

ملزمین کی تحویل سے پولس نے جعلی سرکاری دستاویزات‘اسٹیمپ ‘شناختی کارڈ اور لیٹرپیڈبھی ضبط کےئے ہیں ۔پولس کی تفتیش اس بات کا انکشاف ہوا ہےکہ گرفتار کئے گئے ملزمین بے روزگار نوجوانوں کوسرکاری محکموں میں ملازمت دینے کے نام پر دس دس لاکھ روپے کی رشوت وصول رہے تھے ۔جعلی نامزدگی مکتوب دینے کے بعد ابتداءمیںدو ماہ تک تنخواہ بھی دی جاتی تھی۔جس سے ان کے جال میں پھنسنے والے افرادکوبھروسہ ہورہاتھا کہ انہیںواقعی میں ملازمت دی گئی ہے لیکن جب انہو نے سرکاری محکموں سے اپنی نوکری کی تصدیق کروانی چاہی تو انہیںحقیقت کاپتہ چلا۔ ان ملزمین کو عدالت میں پیش کرنے پرجج نے انھیں پولس کسٹڈی میں بھیج دیاہے۔