ناندیڑ:9 مارچ(ورق تازہ نیوز) 28 دسمبر کو مہاراشٹرا ریاستی مقننہ کے اجلاس میں یونیورسٹی ایکٹ میں کچھ بل منظور کیے گئے۔ جس میں یونیورسٹی کی خودمختاری پر حملہ کرتے ہوئے اپنے سیاسی مفادات کے لیے یونیورسٹی قانون میں تبدیلی کرنے کا فیصلہ کیا گیا ہے۔ریاستی حکومت اپنے فیصلے کو منسوخ کرے ا س لئے بروز جمعہ 11 مارچ کودوپہرساڑھے بارہ بجے سوامی رامانندتیرتھ مراٹھواڑہ یونیورسٹی کے گیٹ کے روبرو ریاستی حکومت کو نیندسے بیدار کرنے کیلئے احتجاجی مظاہرہ کیاجارہا ہے۔

احتجاج کے لیے اے بی وی پی کی دیوگیری پردیش وزیر انکیتا پوار موجود رہیں گی اور ناندیڑ کے علاوہ ہنگولی کنوٹ، پربھنی، لاتور اور اودگیر سے بھی سے طلبہ کی بڑی تعداد موجود رہے گی۔سرمائی اجلاس میں میں اس فیصلے کو قانون میں تبدیل کر دیا گیا ہے اور حکومت کے اس فیصلے کی وجہ سے گورنر بھی جو ریاست کی تمام سرکاری یونیورسٹیوں کے چانسلر ہیں، براہ راست وائس چانسلر کی تقرری نہیں کر سکیں گے۔

اب سے ریاستی حکومت کے تجویز کردہ دو ناموں میں سے وائس چانسلر کا انتخاب کیا جائے گاجو گورنر کو کرنا پڑے گا۔ ریاستی حکومت چانسلر کے اختیارات میں پوری طرح مداخلت کر رہی ہے۔ یونیورسٹی میں چانسلر کے عہدے پر چانسلر کا نیا عہدہ تشکیل دیا گیا ہے اور اس عہدے پر وزیر اعلیٰ اور تکنیکی تعلیم کا تقرر کیا جائے گا۔اسی لیے اکھل بھارتیہ ودیارتھی پریشد 11 مارچ 2022 بروز جمعہ دوپہر ساڑھے بارہ بجے مہاراشٹر حکومت کی جانب سے یونیورسٹی ایکٹ میں کی گئی تبدیلیوں کے خلاف ایجی ٹیشن کرے گی۔