ناندیڑ:حالات سے مایوس ہونا ہم مسلمانوں کا شیوہ نہیں : حضرت مولانا محمد عمرین محفوظ رحمانی

ناندیڑ:یکم مارچ۔(ورق تازہ نیوز)ناندیڑ میں گزشتہ دیڑھ ماہ سے سی اے اے ‘ این آر سی ‘ این پی آر جیسے قوانین کے خلاف دہلی کے شاہین باغ کی طرز پر ناندیڑ کی آواز عنوان سے برکت کامپلکس کے روبرو نظم وضبط کے ساتھ احتجاجی دھرنا جاری ہے جس میں روزانہ ہزاروں کی تعداد کی تعداد میں مرد و خواتین اور بچے بڑھ چڑھ کر حصہ لے رہے ہیں ۔ اس دھرنے سے اب تک ملّی ‘سماجی اورتعلیمی ‘سیاسی ‘ صحافتی شعبوں سے تعلق رکھنے والی شخصیات نے خطاب کیا ۔

گزشتہ کل آل انڈیا مسلم پرسنل لاءبورڈکے جنرل سیکرٹری حضرت مولانا محمد عمرین محفوظ رحمانی صاحبنے شرکت کرکے مسلمانان ناندیڑ کی رہنمائی فرمائی ۔ موصوف نے قرآن کی سورہ آل عمران کی آخری آیت کی تلاوت کی جس کا ترجمہ یہ ہے ۔اے ایمان والو! صبر اختیار کرو، مقابلے کے وقت ثابت قدمی دکھاو¿، اورمحاذ پر ڈٹے رہو، اور اللہ سے ڈرتے رہو تاکہ تمہیں کامیابی ملے“۔ موصوف نے دھرنے میں موجود تمام ہی نوجوان وبزرگون کو مبارکباد دی ا اور انکے جوش وجذبہ کی ہمت افزائی فرمائی اورفرمایا کہ آج کے حالات بڑے نازک ہے اوریہ آزمائش کا دور ہے ان حالات سے مایوس ہو نا ہم مسلمانوں کا شیوہ نہیں ہے۔ہم اس دین کے ماننے والے ہیں جس نے مشکل سے مشکل حالات میں بھی مایوسی سے بچنے کی تعلیم دی ہے، ہم وہ امت ہے جس کی تاریخ ایثار وقربانی، صبر واستقامت اور مشکل حالات میں خدا تعالیٰ پر لازوال یقین وتوکل کی تاریخ ہے

مسائل کتنے بھی تو قیامت رہ نہیں سکتے
یہ ظالم ظلم کی علامت بن کر رہ نہیں سکتے
جن کا یہ عزم ہے کے چین سے ہمیں جی نے نہیں دیگے
کہ وہ جان لے خود بھی سلامت رہ نہیں سکتے
حضرت عمرین محفوظ نے واضح فرمایا کہ این آر سی ‘سی اے اے اور این پی آرکو ہم ہرگز تسلیم نہیں کریں گے اور ہم ان شاءاللہ بالکل بھی کا غذ نہیں دکھائیں گے۔موجودہ حکومت نے وکاس کا وعدہ کیاتھالیکن سات سال ہوگئے اب تک وکاس اس حکومت میں پیدا نہیں ہوا۔ حکومت نے معیشت کو تباہ وبرباد کرکے رکھ دیا ہے ملک ا س وقت بدترین حالات سے گزر رہا ہے۔موصوف نے دہلی کے فرقہ وارانہ فسادات کاذکرکرتے ہوئے کہا کہ یہ مسلم کش فسادات تھے اور خاکی وردی والوں نے اپنی طاقت کا ناجائز فائدہ اٹھایا۔ فسادیوںکے ساتھ مل کر معصوم بچوں کو یتیم بنایا گیا۔سینکڑوں افراد ہلاک ہوگئے۔اپنے خطاب کے آخر میں موصوف نے حالات سے شکست حوصلہ ہوجانا دنیا داروں کا مزاج تو ہوسکتا ہے اہل ایمان کا نہیںا سی لئے اسلام میں ایسے حالات میں ثابت قدمی کا درس دیاگیا ہے اور کامیابی کی بشارت سنائی گئی ہے
”وانتم الاعلون ان کنتم مو¿من “ تم ہی سر بلند رہوگے اگر صاحب ایمان ہو۔ اس لئے ان احتجاج کے ساتھ ہمارے لئے ضروری ہے کہ ہم اللہ کی طرف رجوع کرے رات کے وقت اللہ کے سامنے روئے اپنے اعمال کی اصلاح کرے
اور اپنے ایمان کو مضبوط بنائے‘ اسلام کے محافظ بنے اور یاد رکھے
نور کی ایک کرن ظلمات پر بھاری ہوگی
رات ان کی ہے توکیا ہوا صبح ہماری ہوگی
ان شاءللہ