ناندیڑ:ایم پی جے کے زیراہتمام تعلیمی مہم ” آﺅ نئے اُفق کی طرف“ کاآغاز

220

ناندیڑ: 3ستمبر(راست) موومنٹ فار پیس اینڈ جسٹس(ایم پی جے) مہاراشٹر کی جانب سے ایک ریاست گیر مہم بعنوان آو نئے افق کی طرف کا انعقاد کیا جا رہا ہے اس سہ ماہی تحریک برائے معیارِتعلیم کا مقصد بنیادی وہ پرائمری سطح پر تعلیم کو معیاری بنانے کی کوشش کرنا ہے یہ مہم الگ الگ مرحلوں میں تقسیم کی گئی ہے جس کا آغاز بروز جمعہ بتاریخ 2 ستمبر 2022 سے ماہرین تعلیم اور دانشوروں کی ایک اہم نشست کے بعد عمل میں آچکا ہے۔

اس نشست کو مباحثہ کی شکل دی گئی تھی جس میں سبھی شرکاءنے دلائل اور منطق کے ساتھ اپنی رائے اور فکر کا اظہار کیا۔ پروگرام کا آغاز جناب الطاف حسین صاحب ضلع صدر ایم پی جے ناندیڑ کے افتتاحی کلمات سے ہوا جس میں ایم پی جے کی سہ ماہی مہم "تحریک برائے معیار تعلیم” کے اغراض و مقاصد اور موجودہ تعلیمی صورتحال پر گفتگو کی گئی بعدازاں ایم پی جے ضلع ناندیڑ کے سیکریٹری ایس ایم صمیم نے تعلیم کے گرتے ہوئے معیار کو سامنے رکھتے ہوئے ورلڈ بینک اور نیشنل ایچﺅمینٹ سروے کی رپورٹ کے حوالے سے بتایا کہ 2019 سے پہلے بھارت کے %55 فیصد بچے لرنینگ پاورٹی کا شکار ہیں جس میں کووڈ 2019 کے بعد مزید 20 فیصد کا اضافہ ہوا ( لرنینگ پاورٹی مطلب ایسے طلبہ جو اپنی عمر کے اعتبار سے جس جماعت میں ہے وہ اس کلاس کے نصاب کو سمجھنا تو درکنار بلکہ نہ پڑھ پاتے ہیں اور نہ لکھ پاتے ہیں) اسی طرح عالمی سطح پر PISA میں 73 ملکوں نے حصہ لیا تھا جس میں بھارت کا رینک 72 ویں نمبر پر تھا اس کے بعد بھارت نے PISA میں کبھی حصہ نہیں لیا، تعلیم کے اس گرتے ہوئے معیار پر سبھی شرکاءنے افسوس کا اظہار کرتے ہوئے مستقل حل پر مثبت خیالات کا اظہار کیا۔

مباحثہ میں حصہ لیتے ہوئے سینئر صحافی محمد تقی نے کہا کہ تعلیمی معیار روبہ¿ زوال ہونے کے لیے صرف اساتذہ ذمہ دار نہیں ہیں بلکہ سرپرست، اسکول انتظامیہ اور حکومت کا محکمہ تعلیمات بھی ذمہ دار ہے۔ سرکاری اور خانگی اسکولوں میں تعلیم حاصصل کرنے والے طلباءاور طالبات اپنی مادری زبان ٹھیک ڈھنگ سے نہ تو لکھ سکتے ہیں اور نہ پڑھ سکتے ہیں۔ پرائمری اسکولوں کے طلباءمیں پڑھنے، لکھنے کی صلاحیت پیدا کرنے کے لیے خصوصی توجہ دینے کی ضرورت ہے۔ اسی طرح اوّل تا ہفتم کے طلباءریاضی میں بہت کمزور پائے گئے ہیں۔ چنانچہ لکھنے، پڑھنے اور ریاضی کے بنیادی اُصصولوں کو سکھانے کے لیے اسپیشل کلاس شروع کرنے کا پروگرام بنایا جائے۔ اساتذہ، سرپرستوں، اسکول انتظامیہ اور محکمہ تعلیمات کے افسران پر مشتمل ایک کوآرڈنیشن کمیٹی کا قیام عمل میں لایا جائے۔ جناب محمد تقی نے اپنی گفتگو جاری رکھتے ہوئے کہا کہ شخصیت سازی کے ورکشاپ وقتاً فوقتاً منعقد کئے جائیں جس میں اساتذہ، طلباءاور سرپرستوں کی شرکت لازمی قرار دی جائے۔ جاوید لطف اللہ نے بحث میں حصہ لیتے ہوئے کہا کہ تعلیمی معیار دن بدن گرتا ہی جارہا ہے۔ تعلیمی عمل میں جمود آیاہوا ہے۔

اس جمود کو توڑنا ہوگا۔ ارشاد احمد نے کہا کہ پست معیارِ تعلیم کے صرف اساتذہ ذمہ دار ہیں۔ الطاف ثانی نے کہا کہ شہر کے ایسے پسماندہہ علاقے ہیں جہاں کئی بچے اسکولی تعلیم سے محروم ہیں، ان بچوں کو اسکول میں داخلہ دلوانے کی مہم شروع کی جائے۔ آخر میں نشست کے اختتام پر صدارتی گفتگو کرتے ہوئے عبدالجلیل سر نے کہا کے آزادی کے بعد تعلیمی میدان میں بہت سے مثبت کام بھی ہوئے ہیں لیکن اس کے باوجود تعلیم کا گرتا ہوا معیار ایک لمحہ فکر ہے جس پر ٹھوس منصوبہ بندی کے ساتھ ایک مضبوط لائحہ عمل ضروری ہے۔ اس اہم نشست میں ناندیڑ شہر کے معزز افراد جاوید لُطف اللہ ‘ عبدالحئی ‘نصیر ہاشمی ‘ محمدتقی (سینئر صحافی )‘الطاف ثانی ‘ ایوب چودھری ‘ارشادبشارت ‘اطہر کلیم ‘ضمیر احمدخاں (نیوز18نمائندہ )‘الطاف حسین ‘ ایس ایم صمیم ‘اظہرخاں ‘ محمد اسلم ‘ محمد وسیم الدین ‘مشتاق پٹھان ‘ فہیم فاروقی ‘ محمدساجد ‘ شیخ نظیر ‘ محمدجواد ‘برادر مشرف اور عمشان خان نے شرکت کی اوراپنے زرین مشوروں سے نوازا۔ پروگرام کا اختتام اظہر خان صاحب اور شہر صدر محمد وسیم الدین کے اظہار تشکر پر عمل میں آیا۔