محمد احسان ندوی، قاسمی، خادم التدریس مدینةالعلوم رابوڑی تھانہ مہاراشٹر انڈیا

مکرمی! آج کے اس دور میں مقررین اور خطباء کی کوٸی کمی اور فقدان نہیں ہے،لیکن افسوس اس بات کا ہے کہ اتنے سارے مقررین کے ہوتے ہوٸے بجاٸے ہدایت عام ہونے کے براٸیاں اپنے شباب پر ہیں،حسد،جلن،آپسی چپقلش، اور نہ معلوم کتنی براٸیاں پنپ رہی ہیں،سوال یہ ہے کہ ایسا کیوں ہے؟

اس کی سب سے بڑی وجہ یہ ہے کہ آج کے زمانہ میں مقررین تو یقیناً بہت ہیں لیکن اہل دل کا فقدان ہے،کہیں مشکل سے کوٸی اہل دل نظر آتا ہے،کسی زمانہ میں کہیں ایک اللہ والا پہونچتا تھا تو وہ پورے پورے ملک،پورے پورے صوبے پورے پورے ضلع کا رخ بدل دیا کرتا تھا،آج کے زمانہ میں ایسے اہل دل کا فقدان ہے جو اپنی ایمانی حرارت اور اس کی تپش سے لوگوں کے دلوں کو گرماٸےجو صرف بدنوں پر نہیں بلکہ لوگوں کے قلوب پر محنت کریں تب ایمانی فضا عام ہوسکتی ہے۔

آج کی فضا کیسی ہے کہ کسی مسجد اور مجلس میں کوٸی وعظ وپند ہو اور وعظ وپند خوب فصاحت وبلاغت کے پیراٸے میں ہو اور آپ کسی سے پوچھیں کہ بھاٸی مولانا کی تقریر کیسی تھی،تو سامنے والا کہے گا کہ بہت بہترین تقریر تھی،لیکن پوچھو کہ بھاٸی مولانا کے تقریر کا خلاصہ یا کم از کم کچھ باتیں ہی نقل کرو تاکہ میں بھی مولانا کی بات سمجھ سکوں تو سامنے والا دانت نکالتا ہے،اور مسکراتا ہے،اور ساتھ یہ کہتا ہے کہ بھاٸی کچھ بھی ہو مولانا کی تقریر بہت بہترین تھی،عجیب حماقت ہے کہ مفہوم کا کچھ پتہ نہیں اور پھر تقریر کی تعریف کے پل بھی باندھ رہا ہے۔

کسی جگہ ہندوستان کے سطح کے بہت بڑے عالم کٸی گھنٹے تک تقریر کرتے رہے اور مجمع اپنی جگہ سے ہٹنے لگا،پھر مولانا منیر احمد صاحب کالینا ممبٸی والے تشریف لاٸے جنہوں نے مختصر الفاظ میں پوری بات رکھی،اور پورے مجمع پر غشی طاری ہوگٸی اور مجمع واپس آگیا،تو پہلے جن کا بیان ہوا تھا تو انہوں اپنے دوست سے خود اقرار کیا کہ واقعی قلندر کی بات ہی کچھ اور ہوتی ہے۔

آج ہمارے اس زمانہ میں کسی کا پوسٹر میں نام نہ آٸے تووہ شور و ہنگامہ برپا کرتے ہیں کہ ارے میرا نام نہیں آیا،بلکہ ایسے پوسٹر کی تشہیر بھی نہیں کرتی جس میں مولانا کا نام نہ آیا ہو،اور جس پوسٹر میں نام ہو اسے فیسبک،واٹس ایپ،انسٹاگرام، پر خوب تشہیر کرتے ہیں،الأمان والحفیظ!

حدیث شریف میں آتا ہے کہ جو شخص شہرت کا طالب ہوگا اللہ اسے ذلیل کر دےگا۔