نامور نقاداورشاعر پروفیسرعتیق اللہ کومولاناآزادایوارڈ

132

نئی دہلی: (پریس ریلیز)۔ برصغیرہند وپاک میں اردوزبان وادب کے نامورنقاد اور شاعر پروفیسر عتیق اللہ (دہلی ) کو اترپردیش اردواکیڈیمی نے سال 2021ءکے لئے مولانا آزاد ایوارڈ کے اعزاز سے نوازنے کااعلان کیا ۔ایوارڈ 5 لاکھ روپیوں پرمشتمل ہے ۔اکیڈیمی نے سال 2019 کے لئے پروفیسر عبدالحق کو یہی ایوارڈ دینے کااعلان کیا ہے۔

دہلی یونیورسٹی دہلی کے سابق صدر شعبہ اردو پروفیسر عتیق اللہ صرف تنقیدنگار اور شاعرہی نہیںبلکہ ڈرامہ نگار اور خاکہ نگار بھی ہیں۔ ان کی اب تک 30کتابیں شائع ہوچکی ہیں۔ان کی کتاب ”ادبی اصطلاحات کی وضاحتی فرہنگ“ 1600 صفحات پر مشتمل ہے ۔ دوسری کتاب ”مغرب میںتنقیدی روایت “ کو قومی کونسل برائے فروغ اردو زبان ‘دہلی نے بڑے اہتمام سے شائع کیا ہے جسے ادبی حلقوں میں بے حد پسند کیاگیا ہے ۔یہ ایسے موضوعات ہیں جن پرابھی تک تنقیدی اورتحقیقی کام نہیں ہواتھا۔

”تنقید کی جمالیات“ 10جلدوں پرمشتمل ہے جسے پروفیسر عتیق اللہ نے بڑی محنت اور دقت ِنظر سے مرتب کیا ہے۔قبل ازیں انھیں مدھیہ پردیش حکومت نے اقبال سمان ایوارڈ سے نوازا ہے جو ڈھائی لاکھ روپیوں پرمشتمل ہے۔اسی طرح دہلی اردو اکیڈیمی نے سال2014ءکے لئے اپنے سب سے بڑے دتاتریہ کیفی ایوارڈ سے نوازاتھا ۔یہ ایوارڈ بھی ڈھائی لاکھ روپیوں پرمشتمل ہے۔ان کے علاوہ پروفیسر عتیق اللہ کودیگر کئی انعامات واعزازات سے نوازاگیا ہے۔