نابالغ مسلم لڑکیوں کی شادی کو قابل سزا جرم قرار دینے کا مطالبہ

699

نئی دہلی: سپریم کورٹ نے قومی کمیشن برائے خواتین (این سی ڈبلیو) کی طرف سے دائر درخواست پر مرکز سے جواب طلب کیا ہے جس میں تمام برادریوں کی خواتین اور مردوں کیلئے 18 سال کی یکساں شادی کی عمر کا مطالبہ کیا گیا ہے۔چیف جسٹس ڈی وائی چندرچوڑ اور جسٹس پی ایس نرسمہا پر مشتمل بنچ نے اس درخواست پر لا کمیشن سے بھی جواب طلب کیا۔ اس درخواست میں نابالغ مسلم لڑکیوں کی شادی کو قانون کے تحت قابل سزا جرم قرار دینے کا مطالبہ کیا گیا ہے۔

درخواست میں دہلی ہائی کورٹ کے ایک حالیہ فیصلہ کا حوالہ دیا گیا جس میں ایک نابالغ مسلم لڑکی کی شادی کو اس بنیاد پر اجازت دی گئی تھی کہ یہ مسلم پرسنل لا کے تحت جائز ہے۔ درخواست میں اِن مسلم خواتین پر تعزیری قوانین کے یکساں اطلاق کی مانگ کی گئی ہے جنہوں نے بلوغت کی عمر تک پہنچنے سے پہلے اتفاق رائے سے یا مرضی کے خلاف شادی کی ہے۔

درخواست میں کہا گیا ہے کہ مسلم پرسنل لا کے علاوہ دیگر مختلف پرسنل لاز کے تحت شادی کی کم ازکم عمر ہم آہنگ اور مروجہ تعزیری قوانین کے مطابق ہے۔ درخواست میں مزید بتایا گیا کہ انڈین کرسچن میریج ایکٹ 1872، پارسی میریج اینڈ طلاق ایکٹ 1936، اسپیشل میریج ایکٹ 1954 اور ہندو میریج ایکٹ 1955 کے تحت مرد کیلئے شادی کی کم ازکم عمر 21 سال اور عورت کیلئے 18 سال مقرر ہے۔

مسلم پرسنل لا کے تحت جو کہ ابھی تک غیر مربوط ہے، بلوغت کی عمر کو پہنچ چکے یا(ثبوتوں کی غیر موجودگی میں) 15 سال کی عمر تک پہنچنے والے بچے شادی کے اہل ہیں۔یہ نہ صرف من مانی، غیر معقول اور امتیازی سلوک ہے بلکہ پوکسو ایکٹ 2012 کی دفعات کے مغائر بھی ہے جو بچوں اور خاص طور پر لڑکیوں کو جنسی جرائم سے بچانے کیلئے نافذ کیا گیا ہے۔