ذاکر نائیک کو فیفا میں مدعو نہیں کیا گیا : افتتاحی تقریب میں اسلامی مبلغ کی دوحہ میں موجودگی پر ہندوستان کے اعتراض پر قطر حکومت کی وضاحت : ویڈیو دیکھیں

1,944

نئی دہلی، 24 نومبر ۔ قطر میں جاری فیفا ورلڈ کپ 2022 کے فیفا ورلڈ کپ کی افتتاحی تقریب میں ہندوستان کے مطلوب اسلامی مبلغ ذاکر نائیک کی شرکت کے بعد تنازعات میں گھرا ہوا تھا۔ ہندوستان نے اس پر قطر پر سخت اعتراض ظاہر کیا ہے۔ مرکزی وزیر ہردیب سنگھ پوری نے ذاکر نائیک کے دورہ قطر پر شدید برہمی کا اظہار کیا۔

اب دوحہ نے اس معاملے پر سنجیدہ ہوتے ہوئے اپنی پوزیشن واضح کردی ہے۔قطر نے سفارتی سطح پر ہندوستان کو مطلع کیا ہے کہ ذاکر نائیک کو فٹبال ورلڈ کپ کی افتتاحی تقریب میں شرکت کی دعوت نہیں دی گئی ہے۔

قطر کا کہنا ہے کہ دیگر ممالک کی جانب سے اس حوالے سے غلط معلومات پھیلائی گئی ہیں، تاکہ ہندوستان اور قطر کے تعلقات خراب ہوں۔

حکومت ہند نے واضح طور پر قطر کو اپنا اعتراض پہنچا دیا تھا۔ ہندوستان نے کہا ہے کہ اگر قطر نے فٹ بال ورلڈ کپ کی افتتاحی تقریب میں مفرور ذاکر نائیک کو باضابطہ طور پر مدعو کیا تو نائب صدر جگدیپ دھونکھر فٹ بال ایونٹ میں شرکت کے لیے نئی دہلی سے دوحہ کا سفر نہیں کریں گے۔

اب ہندوستان کے اعتراض پر قطر نے نئی دہلی کو اس سے آگاہ کر دیا ہے۔ قطر نے کہا کہ ذاکر نائیک کو دوحہ نے باضابطہ طور پر مدعو نہیں کیا ہے۔ قطر کا کہنا ہے کہ ہندوستان کے ساتھ دوطرفہ تعلقات کو خراب کرنے کے لیے ایسی غلط معلومات پھیلائی گئی ہیں۔

بتا دیں کہ ہندوستان 2016 سے ذاکر نائیک کی تلاش میں ہے۔ ان پر منی لانڈرنگ کے ساتھ نوجوانوں کو دہشت گردی کے لیے اکسانے کا الزام ہے۔ ذاکر نائیک پر اشتعال انگیز تقریر کرنے کا بھی الزام ہے۔ اس سال مارچ میں مفرور ذاکر نائیک کے زیر انتظام اسلامک ریسرچ فاؤنڈیشن کو وزارت داخلہ نے غیر قانونی تنظیم قرار دیا تھا۔

یو اے پی اےکی سخت دفعات کے تحت آئی آر ایفپر پابندی ہے۔ذاکر نائیک نے ملائیشیا میں پناہ لے رکھی ہے۔ہندوستان نے اس سلسلے میں ملائیشیا کو حوالگی کی درخواست بھیجی ہے۔ اس پر 2020 کے دہلی فسادات میں بھی ہاتھ ہونے کا الزام ہے۔ نفرت انگیز تقاریر کی وجہ سے ذاکر نائیک پر برطانیہ اور کینیڈا میں بھی پابندی ہے۔

ہندوستان ذاکر نائیک کی تلاش میں ہے۔ اسلامی مبلغ ڈاکٹر ذاکر نائیک پر منی لانڈرنگ کے ساتھ ساتھ نوجوانوں کو دہشت گردی کے لیے اکسانے کا الزام ہے۔ ذاکر نائیک پر نفرت انگیز تقریر کرنے کا بھی الزام ہے۔ اس سال مارچ میں اسلامی مبلغ ڈاکٹر ذاکر نائیک کے زیر انتظام اسلامک ریسرچ فاؤنڈیشن کو وزارت داخلہ نے غیر قانونی تنظیم قرار دیا تھا۔ آئی آر ایف پر یواے پی اے کی سخت دفعات کے تحت پابندی لگا دی گئی ہے۔ ذاکر نائیک نے ملیشیا میں پناہ لے رکھی ہے۔

ہندوستان نے اس سلسلے میں ملیشیا کو حوالگی کی درخواست بھی بھیجی ہے۔ مبینہ طور پر نفرت انگیز تقاریر کی وجہ سے برطانیہ اور کینیڈا نے بھی ذاکر نائیک پر پابندی عائد کر رکھی ہے۔