• 425
    Shares

شعروادب او رمصوری کی دنیا کاایک معروف نام پروفیسر صادق کسی تعارف کا محتاج نہیں ہیں ۔ وہ گزشتہ 50 سال سے زائدعرصے سے اردو اور ہندی میںشعر کہہ رہے ہیں ‘مضامین لکھ رہے ہیں اور مصوری کررہے ہیں۔ ان کی پینٹنگس تجریدی آرٹ کی ترجمان ہوتی ہیں ۔پروفیسر صادق دہلی یونیورسٹی کے شعبہ اردومیںدرس وتدریس کی خدمات انجام دے چکے ہیں ۔ وظیفہ حسن خدمت پرسبکدوش ہونے کے بعد وہ خاموشی سے ادب اور مصوری کی خدمات انجام دے رہے ہیں۔ ان کی اردو آزاد نظموں کامجموعہ ”کٹھ پتلی کاخواب“ کے نام سے جاریہ سال 2021ءمیں شائع ہوا ہے ۔

مجموعہ میں چھوٹی بحروں میں لکھی ہوئی جملہ 45نظمیں ہیں۔ان تمام نظموں کوگروہ واری چھ عنوانات کے تحت ترتیب دیاگیاہے ۔پہلے گروپ کاعنوان ”لکھ نہیں سکتا ہے“ ۔اس عنوان کے تحت 8 نظمیں ۔ لکھ نہیں پاتا ‘حق ملناچاہئے ‘ سرجن ہار‘ جلّاد‘ شِپرا کے کنارے ‘ وہم وہی ہے ‘بغیرنیوکی مسجد ‘بہت دور سے دیکھاتھا‘ ہیں۔ ”ؒخداکائنات اور میں“ اس عنوان کے تحت10نظمیں ۔خداکائنات اور میں‘کئی سال بعد‘جب ہم وہاں پہنچے ‘ پہلی بار‘ سویا ہواپہاڑ‘گملے میں اُگے خواب ‘ دعادغا د ے گئی ‘شیرپن گنواکر ‘ ثابت ہوچکا ہے‘ روشنی کے گھیرے میں‘ ترتیب دی گئی ہیں ۔ تیسرے گروپ کو” کٹھ پتلی کاخواب“ عنوان دیاگیا ہے ۔

اس گروپ میں 8نظمیں ۔ کٹھ پتلی کاخواب‘ تماشیوں کاسچ ‘ کٹھ پتلیاں چاہتی ہیں‘کٹھ پتلیوں کاسچ‘درخت سے بچھڑ کر‘حقیقت سامنے آجائے گی ‘ ٹوکرے میں کٹھ پتلیاں‘ ایک دن اچانک ‘ شامل ہیں۔چوتھے گروپ کو” نئی بات نہیں“کانام دیاگیا ہے ۔جس میں ‘نئی بات نہیں ‘اُسی رفتار سے ‘شہدوں کاجنم دن ‘ تم کوپکارتاہوں‘ سمندر منتھن کے بعد‘ ایک بار پھر ‘ لوگو! مجھے بتاﺅ‘ طلسمی کردار‘ سورج ڈوب جانے کے بعد ‘جملہ 9نظمیں شامل ہیں ۔’مجذوب“ ایک طویل نظم ہے اس لئے اس نظم کو بھی عنوان ”مجذوب“ کے تحت ترتیب دیاگیا ہے۔آخری 9نظموں کے گروہ کو”گھرے ہوئے ہیں ہم“ ۔ کانام دیاگیاہے ۔ا س گروہ میں نظمیں’گھرے ہوئے ہیں‘ایسے بھی کچھ دن ‘یہ مہانگر ہے‘عذابوں کاشہر ‘ ڈر لگتا ہے ’‘حالات کچھ ایسے ہیں‘کیاتم مرد نہیں ہو؟‘ پچپن کی آنکھیں‘ نیتک دھرم ‘ شریک ہیں۔

پروفیسر صادق سر کو میں اس وقت سے جانتا ہوں جب وہ ناندیڑ (مہاراشٹر)کے سینئرپیپلز کالج میں صدرشعبہ اردو ہواکرتے تھے ۔ اس زمانے میں میں اُنکا شاگردتھا ۔ یہ 1972-73 کی بات ہے۔پروفیسرصادق ابتداءہی سے اردو شاعری میں جدیدیت کے رُجحان سے متاثر رہے تھے ۔ ان کا پہلاشعری مجموعہ” دستخط“ شائع ہوا تھا ۔ ”دستخط“ کے کلام اور” کٹھ پتلی کاخواب“ کی نظموں کے شعری رویہ اور رُجحان میں کوئی زیادہ فرق نہیں پایاجاتا ہے ۔ البتہ خیالات ‘احساسات اورموضوعات میںواضح فرق محسوس کیاجاسکتا ہے۔’ کٹھ پتلی کاخواب“ میں جگہ جگہ تجریدی آرٹ کے اسکیچیز بھی شائع کئے گئے ہیں ۔اس مجموعہ کی خصوصیت یہ ہے کہ شاعر نے اس پر کسی بڑے نقاد یاادیب سے کوئی مضمون نہیں لکھوایا ہے اور نہ ہی شاعر ‘ پروفیسرصادق نے اپنی نظموں کے بارے میں کوئی تبصرہ کیاہے ۔اگرقاری مجموعہ میںنثرکاایک جملہ بھی تلاش کرناچاہے گاتو اسے مایوسی ہوگی ۔پوری کتاب شاعری سے مزین ہے۔

سرِورق پرخوبصورت ہمہ رنگی تجریدی آرٹ کی ترجمان تصویر ہے ۔ چونکہ پروفیسر صادق خودایک شہرت یافتہ مصورہیں اسلئے یہ تصویر انہی کے برش کاشاہکار ہے۔ سرِ ورق کے پُشت پرپروفیسر صادق کی اب تک شائع اردو کتابوں اور ہندی کتابوں کی تفصیل شائع کی گئی ہے۔جس سے’کٹھ پتلی کاخواب“ کے شاعر کی شاعرانہ عظمت اورادبی خدمات کا اندازہ ہوتا ہے۔ عمدہ کاغذ‘خوبصورت طباعت ‘عمدہ گٹ اپ قاری کومطالعہ کرنے کیلئے اکساتے ہیں ۔ 127 صفحات کی یہ کتاب دوسو روپے میں ایجوکیشنل پبلکیشنگ ہاوس D1/16 انصاری روڈ‘ دریاگنج ۔ نئی دہلی ۔ 110002 ۔ سے حاصل کی جاسکتی ہے۔
محمدتقی(ناندیڑ)9325610858

ورق تازہ نیوز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں  https://t.me/waraquetazaonlineاور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔