حیدرآباد:نکہت زرین کا کہنا ہے کہ جب وہ باکسنگ میں دلچسپی رکھنے والی ایک کم عمر لڑکی تھی تو انہیں یاد ہے کہ لوگ ان کے والد محمد جمیل سے کہتے تھے ’’آپ نے اسے باکسنگ میں کیوں سکھا رہے ہیں؟ یہ مردوں کا کھیل ہے، کون اس سے شادی کرے گا؟” وہ اپنے والد کی اس بات کو بھی یاد کرتی ہیں ’’بیٹا، تم صرف باکسنگ پر توجہ دو۔ یاد رکھو کہ جب تم اچھی کارکردگی کا مظاہرہ کرو گی تو یہی لوگ آ کر تمہارے ساتھ تصویریں لیں گے!‘‘والد کی یہ بات 19 مئی کو استنبول میں اس وقت حقیقت بن گئی جب نکہت نے فلائی ویٹ (52 کلوگرام) کیٹیگری میں خواتین کی عالمی باکسنگ چیمپئن شپ اپنے نام کر لی۔ نکہت (25) اس رات ایک لمحہ بھی نہیں سو سکی کیونکہ مبارکباد کے پیغامات اور درخواستیں قبول کرتے کرتے پوری رات گزر گئی۔

عالمی چیمپین شپ جیتنے والی ہندوستان کی پانچوی خاتون نکہت نے جمعہ کے روز انڈین ایکسپریس سے بات کرتے ہوئے اپنی جدوجہد، قدامت پسند معاشرے اور لوگوں کا باکسنگ کرنے والی خاتون کے تئیں رویہ، ان تمام موضوعات پر رائے پیش کی۔ انہوں نے بتایا کہ انہیں کس طرح اپنے خواب کو پورا کرنے کے لئے رنگ کے اندر اور باہر دونوں مقام پر لڑنا پڑا!

نکہت نے کہا "میرا تعلق ایک روایتی معاشرے سے ہے جہاں لوگ سمجھتے ہیں کہ لڑکیوں کو صرف گھر میں رہنا چاہیے، گھر میں کام کرنا چاہیے، شادی کرنی چاہیے اور گھر کا خیال رکھنا چاہیے لیکن میرے والد ایک ایتھلیٹ تھے اور وہ جانتے ہیں کہ ایک کھلاڑی کس طرح کی زندگی گزارتا ہے۔ وہ ہمیشہ میرے ساتھ رہے اور انہوں نے ہمیشہ میرا ساتھ دیا۔‘‘ان کی والدہ پروین سلطانہ نے بھی ایسا ہی کیا، حالانکہ وہ ایک بار یہ دیکھ کر حیران رہ گئی تھیں کہ باکسنگ کی دنیا کتنی سفاک ہے۔ پہلے سیشن میں ایک لڑکے سے مقابلہ کے بعد نکہت خون آلود چہرے اور آنکھ پر زخموں کے ساتھ گھر واپس آئی تھیں۔

نکہت کہتی ہیں "مجھے دیکھ کر وہ کانپنے لگیں۔ وہ رونے لگیں اور کہنے لگیں، میں نے تمہیں باکسنگ میں اس لیے نہیں ڈالا کہ تمہارا چہرہ خراب ہو جائے۔ پھر انہوں نے کہا کہ کوئی تم سے شادی نہیں کرے گا۔ میں نے کہا فکر نہ کریں، نام ہوگا تو دولہوں کی لائن لگ جائے گی۔ اب انہیں یہ سب دیکھ کر پریشانی نہیں ہوتی۔ جب مجھے مار پڑتی ہے تو وہ کہتی ہیں برف لگا لو ٹھیک ہو جائے گا۔ کبھی کبھی مجھے لگتا ہے کہ اب وہ میری کوچ بن گئی ہیں۔‘‘نکہت نے اپنا باکسنگ کا سفر 2009 سے شروع کیا تھا اور 2011 میں انہوں نے یوتھ ورلڈ چیمپئن شپ کا خطاب جیتا۔ اس کے بعد 2016 میں انہوں نے سینئر ورلڈ چیمپئن شپ کے کوارٹر فائنل تک کا سفر طے کیا اور اب انہوں نے طلائی تمغہ اپنے نام کر لی۔ انہوں نے کہا ’’میرا خواب، میرا مقصد اپنے ملک کے لیے اولمپک گولڈ میڈل جیتنا ہے اور اس مقصد کے لیے میں سخت محنت کر رہی ہوں۔‘‘

اداکار سلمان خان کی فین نکہت نے کہا کہ وہ ہندی فلمیں دیکھ کر لطف اندوز ہوتی ہیں۔ ایک سوال کے جواب میں انہوں نے کہا کہ اگر ان پر بائیوپک بنتی ہے تو وہ چاہیں گی کہ عالیہ بھٹ مرکزی کردار ادا کریں۔ انہوں نے کہا "میں چاہتی ہوں کہ عالیہ بھٹ میرا کردار ادا کریں، کیوں اس کو بھی ڈمپل آتا ہے اور میرے کو بھی ڈمپل آتا ہے۔ تو میرا خیال ہے کہ وہ میرا کردار بہترین طریقہ سے ادا کر سکتی ہیں۔‘‘