Waraqu E Taza Online
Nanded Urdu News Portal - ناندیڑ اردو نیوز پورٹل

 میں حاضر نہ تھا وہاں مگر

نقاش نائطی
+966504960485

*ڈاکٹرمحمد رضی الاسلام ندوی کے مولانا سلمان ندوی پر لکھے "میں بھی حاضر تھا وہاں” مضمون کے پس منظر میں ہمارا تفکر*

*اکیسویں صد کی ابتداء میں، ریگزار سعودی عرب کی ان سنگلاخ وادیوں میں، حصول معاش میں مصروف دنیا بھر اور ہندو پاک کےتارکین وطن کو، دین اسلام سے جوڑے رکھنے کی چند داعیان دین کی کوششوں کے پس منظر میں، ادارہ مراکز جالیات (اسلامک دعوۃ سینٹرز) کی طرف سے گاہے بگاہے، منعقد ہونے والے اردو دان طبقہ کے سامعین دعوتی جلسوں میں، بریلوئیت، دیوبندئیت ، مرزائیت، مقلدیئت کے خلاف گرجتی ایک ہندوستانی آواز نے، ریگزار عرب میں مصروفِ معاش ہم ہند و پاک اردو دان طبقہ کو،جھنڈ درجھنڈ ان دعوتی جلسوں میں کھینچے چلے آنے پر مجبور کرتے ہوئے، دادا پڑ دادا، جد امجد سے ہم میں چلے آرہے شرک و وبدعات سے ماورائیت اختیار کرتے، ہمیں سلف صالحین کے دین حنیف کے بارے میں حقائق جاننے کا شائق و متلاشی بنا دیا تھا۔*

*یہ وہ دن تھے جب مملکت سعودیہ عربیہ کے کسی بھی گوشے، حلقہ میں،حضرت مولانا ڈاکٹر سیدمعراج ربانی مدنی مدظلہ کی تقریر، دن بھر کے اردو دعوتی پروگرام کے اختتامی حصہ کےبطور، بعد صلاۃ عشاء منعقد ہونی اعلان کی جاتی، تو پتہ نہیں کہاں کہاں سے، مملکت سعودیہ کی فیکٹریوں میں مصروف معاش،اردو دان مزدور طبقہ، اپنی دن بھر کی تھکن کی پرواہ نہ کرتے ہوئے، ہزاروں کی تعداد میں شریک جلسہ ہو جایا کرتے تھے۔مثبت انداز کی وعظ و تقاریر، پند و نصائح تو ہم زمانے سے سنتے چلے آئے تھے لیکن شیخ سید معراج ربانی مدنی مدظلہ کا ، شرک و بدعات، کفروالحادادیان و فرق باطل مذاہب وافکار ، بریلویت، دیوبندئیت، مرزائیت اور مقلدئیت پر منفی انداز بیان،کچھ ایسا سحر کن ہوتا تھا کہ ہم اردو تارکین وطن ہندو پاک، بمثل شہد کی مکھیوں کے،جھنڈ در جھنڈ، ہزاروں کی تعداد میں، انہیں سننے پہنچ جایا کرتے تھے۔*
*چونکہ احقر پیشہ تجارت مطاعم سے منسلک ہے اس لئے عموما الجبیل دعوۃ سینٹر، جالیات میں منعقدہ پروگرام کےبعد،تمام مقررین ومنتظمین کی ضیافت، معمول کا حصہ بننے کی وجہ سے،حضرت مولانا الشیخ سیدمعراج ربانی مدنی مدظلہ کے بشمول اکثر شیوخ و مبلغین سے قلبی تعلق خاص ہوچکا تھا۔اسی تعلق خاص کی وجہ سے، المحترم شیخ سید معراج ربانی کی زبانی 1984 جماعت اسلامی کی ذیلی شاخ، ایس آئی ایم کی تیسری عالمی کانفرنس جو 26 تا 28 اکتوبر 1984 دہلی کے رام لیلا میدان میں منعقد ہوئی تھی،گوکہ ہم اس دہلی کانفرنس میں شریک جلسہ نہ تھے لیکن حضرت مولانا سید معراج ربانی مدظلہ کی ذاتی مجالس میں، اس کے بارےمیں سننے اور جاننے کا موقع ملا تھا۔حضرت مولاناسید معراج ربانی صاحب کے بقول،1984 منعقدہ وہ رام لیلا میدان کانفرنس، جماعت اسلامی کی ذیلی طلبہ تنظیم، اسٹوڈنٹ اسلامک مومنٹ ( ایس آئی ایم) کے زیر اہتمام "اتحاد ملت کانفرنس” عنوان کے تحت بلائی گئی تھی۔ اسی کے دہے کے ابتدائی سالوں میں، ایرانی انقلاب تناظر میں، عالم بھر رائے عامہ ہموار کرنے کی، ہند دوست ایرانی حکومتی کوشش اور شاہ بانوکیس تناظر میں مسلم پرسنل لاء قوانین میں حکومتی مداخلت کے پس منظر میں، اتحاد ملت کانفرنس میں،اکثر مکتبہ فکر کے علماء کو دعوت دی گئی تھی۔*
*ان ایام میں المحترم سید معراج ربانی صاحب مدظلہ اپنے سابقہ عقائد، حنفیت بریلویت گنڈے تعویذکی تجارت سے ماورائیت اختیار کرچکےتھے اوراللہ نے انہیں دہلی میں ہی قرآن وسنت کی ہدایت سے نواز رہا تھا اوردہلی ہی میں آپ شعبہ عالمیت میں زیرتعلیم تھے، ایام شباب تھے، ایس آئی ایم سے جڑے ہوئے اپنے ایک ساتھی کے ذریعہ اس تنظیم کا تعارف ہوا اور اس نے اس کانفرنس میں بطور رضاکار شریک ہونے کی دعوت دی، کانفرنس کی دھوم دھام دہلی میں خوب مچی ہوئی تھی ، چنانچہ بطور رضاء کار اس کانفرنس میں مصروف خدمت ہوگئے۔ المحترم سید معراج ربانی صاحب مدظلہ کا خود بیان ہے کہ،دوران کانفرنس حضرت مولانا سید سلیمان ندوی حسینی سید ابوالحسن علی میاں ندوی علیہ الرحمہ کے قاصد کی حیثیت سے، ان کی طرف سے پیغام لئے حاضر جلسہ تھے۔ مغرب کی نماز ہوچکی تھی اس وقت اسٹیج پر موجود کافی شیعہ نوجوان، بلو جینس اور سرخ عربی رومال سے ڈانڈھا باندھےہوئے بیٹھے تھے۔ جنہیں شیخ سید معراج ربانی مدظلہ اپنے عفوان شباب اور سادگی سے فلسطینی عراقی مجاھدین سمجھ رہے تھے۔ اس پس منظر لمحات میں، حسینی مزاج سے سرشار، حضرت مولانا سلمان ندوی صاحب مدظلہ نے، پیغام علی میاں پڑھنےکےبعد چند منٹ کی مزیداجازت مانگی اورپھرکیاتھا اپنے زور بیان، انداز شباب بلاغت والی تقریر میں، خلافت راشدہ ابوبکرو عمر و عثمان رضی اللہ عنہم و امہات المومنیں حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا و کاتب وحی حضرت امیر معاویہ سمیت انیک صحابہ کرام رضوان اللہ تعالی اجمعین کو طنز وطعن و اپنے نازیبا کلمات سے گالی گلوج و تضحیک تک کرتے پس منظر میں، اتحاد ملت کے بہانے ان رافضی شیعہ علماء کرام کی اسٹیج پر موجودگی سے برھم ہوکرنوجوانوں کو للکارتےہوئے کہا کہ : مجھے انتہائی افسوس کے ساتھ یہ کہنا پر رہاہے کہ جس گروہ اورجماعت پر ساری دنیاکے اہل اسلام کا اتفاق ہے کہ وہ کافروں کی جماعت ہے ایسی جماعت کو ایک اسلامی جماعت کے اسٹیج پر بٹھایا گیا ہے ۔۔وغیرہ وغیرہ ۔ یہی کلمات تھے جس نے لاکھوں کے مجمع میں آگ لگادی ،میں چونکہ مجمع کےبالکل پیچھے سامنے کھڑاتھا فیس ٹو فیس اللہ اکبر ! وہ خطرناک منظر میں آج تک نہیں بھولاہوں ۔ صدر صدام کافر ۔۔مردہ باد ۔۔ صدر صدام کافر ۔۔مردہ باد کے فلک شگاف نعرے بلند ہونے لگے ، مائک بند کردیا گیا مولانا ندوی صاحب کو چاروں طرف سے گھیر کر اسٹیج سے نیچے اتاردیاگیا عوام کا ٹھاٹھیں مارتا سمندر طوفان بلاخیز موجوں کی طرح موجیں مار رہا تھا۔ میں تو سمجھ رہا تھا کہ اب ان کو قتل کردیاجائیگا ، دل کی دھڑکنیں تیزہوگئیں اور کسی انجانے خوف سے دل ہی دل میں مولانا کی سلامتی کی دعائیں بھی کرنے لگا ، اسی وقت اپنے ساتھی ( جو بیچارے اسوقت کچھ دن قبل اللہ کو پیارے بھی ہوگئے ہیں اللہ ان کی مغفرت فرمائے ) کو ڈھونڈھا اور رضاکاری کا جو بللا کارڈ تھا ان کے حوالے کرتے ہوئے کہا کہ بھائی مجھے نہیں پتہ تھا کہ تم لوگ شیعہ رافضی کے ایجینٹ ہو اور سنی بنکر سنیوں کو گمراہ کررہےہو یہ بللا پکڑو میں توبہ کرتاہوں اس سے اللہ مجھے معاف فرمائے اور پھر وہ پکارتے ہی رہے، میں اس کانفرس سے لوٹ آیا الحمد للہ ۔ جوش جوانی والے خطیبانہ انداز بیان نے، جہاں اس وقت کانفرنس کے نظم ونسق کو تہہ و بالا کردیا تھا لیکن اس کے ساتھ ہی ساتھ، اتحاد ملت کے بہانے شیعہ رافضی ایرانی سازش کو بے نقاب بھی کر دیا تھا اسی کے نتیجہ میں عفوان شباب کے ان متزلزل تفکراتی لمحات میں، المحترم سید معراج ربانی مدظلہ کوحضرت مولانا سلمان ندوی مدظلہ کے بے باکانہ اور حقیت پسندانہ انداز بیان نے، ضلالت وگمراہی کے جس دلدل سے نکل کروہ راہ ہدایت پہ آئے تھے اورایک بار پھر دوبارہ اسی طرح کی ایک دوسری ضلالت و گمراہی کی طرف جارہے بڑھتے قدم کو روک دیا اور گمراہی کی اس کھائی میں گرنےسے اللہ تعالی نے انہیں بچالیا، یہی نہیں بلکہ حضرت مولانا سلمان ندوی مدظلہ کی تقریرسے کچھ اتنے مسحور و مائل ہوئے کہ دوران تعلیم ہی وہ مزید تحقیقات اور بحث و جستجو میں مصروف ہوگئے، علم حق کی جستجو کے، اسی جذبے نے انہیں عالم اسلام کی عظیم الشان درسگاہ اسلامک یونیورسٹی مدینہ منورہ پہونچادیا ۔ذلک فضل اللہ یؤتیہ میں یشاء ۔
این سعادت بزور بازو نیست
تانہ بخشد خدائے بخشندہ
چاہنے والے کو دنیابھی نئی دیتےہیں
*بریلوی ماحول میں آنکھیں کھولنے والے اور اپنے عفوان شباب سے قبل، ان گنڈے تعویذوں کو ہی، حصول معاش کے طور اپنانے کی تربیت پانے والےالمحترم سید معراج ربانی مدظلہ اپنے مدینہ منورہ یونیورسٹی سعودی عرب سے فراغت تعلیم کے بعد، اہل سلف وصالحین کے دعوتی طرز کو اپنانے کے پیچھے، حسینی مزاجی تفکر کوبھی بڑا سبب مانتے ہیں اور اللہ کا شکر ادا کرتے ہیں کہ اللہ نے اس دن کانفرنس میں حضرت مولانا سلمان ندوی مدظلہ کی انتہائی مختصر بلکہ چند جملوں پہ مشتمل تقریرنے ان کی آنکھیں کھولدیں اور راہ ہدایت سے پھسلتے ہوئے قدموں کوپھسلنے سے بچالیا۔*

*المحترم ڈاکٹر محمد رضی الاسلام ندوی کے مضمون”ہم بھی وہاں موجود تھے” پر تبصرہ کرتے الشیخ ڈاکٹر سید معراج ربانی مدنی حفظہ اللہ کا کہنا ہے: "کہ وہاں اسٹیج پر کوئی شیعہ نہیں تھا” تو پھر محترم سلمان ندوی صاحب کی تقریرسے منتظمین کانفرنس چڑھے اور اکھڑے کیوں تھے؟ اور "صدر صدام کافر” کے نعرے اسٹیج سے جو لگائے جارہے تھے وہ کون تھے؟ اور کیوں لگائے جارہے تھے؟ اور”خمینی انقلاب کی تائید میں نعرے” کون لگارہے تھے؟ انقلاب اسلامی کے نام پر کیوں وہ اجلاس جماعت اسلامی کی طلبہ تنظیم ایس آئی ایم نے منعقد کیا تھا؟اس گراؤنڈ میں ایک گوشےمیں ایران اور عراق کے مابین ہونے والی جنگ میں مقتولوں کی تصاویرکا ایکزیبیشن بھی لگایاگیاتھا کیوں ؟ اس میں عراق کے خلاف رائے عامہ ہموارکرنے کی غرض سے کٹے پھٹے لنگڑے لولے شیعہ رافضی جنگی زخمیوں کے فوٹوز کیوں نمائش کی جارہی تھی ؟؟؟ ایران کو مظلوم اور عربوں کو ظالم وجابر قاتل و وحشی اور ٹریریسٹ ثابت کرنے کی غرض سے اگر وہ ایرانی میلہ ایس آئی ایم بظاہر سنی طلباء کے بینر تلے نہیں لگایا گیاتھاتو کیوں لگایاگیاتھا؟؟؟ کیا تھا اس کا مقصد ؟؟ یہ وہ سوالات ہیں جن کا کیاجواب دیں گے یہ سب ؟؟*
*موضوع سخن اظہار حق گوئی میں رطب اللسان، استاد حدیث ندوة العلماء ، فصیح و بلیغ حسینی مزاج مقرر کو یہ اچانک کیا ہوگیا؟ جو کل تک ان شیعہ رافضیوں کو خارج الاسلام کہنے کی جسارت کرتےتھے اچانک ان شیعہ رافضیوں کی زبان ہیوں بولنے لگے،ہیں؟؟ ان شیعہ رافضیوں کے مشن کے عین مطابق، کاتب وحی امیر معاویہ اور عشرہ مبشرہ رضوان اللہ تعالیٰ عنہم اجمعین میں سے راوی احادیث حضرت ابوبویرہ رضی اللہ عنہ تک کو خائن کہنے کی جسارت کرنے لگے ہیں !!*
*آخر کچھ تو بات ہے کچھ تو اسرار و رموز ہیں ان ہیجان خیز اعمال کے پیچھے۔*
*بیخودی بے سبب نہیں غالب*
*کچھ توہےجسکی پردہ داری ہے*
*یہود و نصاری کی طرف سے پروکسی وار کے طور پیش کی گئی داعش کے سربراہ ابوبکر بغدادی کو خلیفۃ المسلمین تسلیم کرتے ہوئے، اسے براہ راست لکھے خط کی دستیابی بعد، بھارتیہ انٹیلیجنس ایجنسیوں کے ہاتھوں لقمہ تر بنے ہوئے، فصیح و بلیغ مقرر و استاد حدیث و ماہر اسلامی علوم المحترم فضیلہ الشیخ سید سلمان ندوی مدظلہ ، مسلم پرسنل بورڈ، بابری مسجد اپنے متنازع بیانات سے اپنا وجود متنازع فیہ بناتے ہوئے، اور پھر 1440 سالہ قرآنی ترتیب کو نامناسب قرار دے کر، اپنے ترتیب شد قرآن کو پیش کرتے ہوئے، امت کی وحدت کو پارہ پارہ کرنے والے، کاتب وحی امیر معاویہ اور راوی حدیث عشرہ مبشرہ میں سے ایک حضرت ابویرہ رضی اللہ عنہم کو خائن حدیث تک کہنے کی جسارت کر امت مسلمہ میں ہر کسی ایرے غیرے نتھوخیرے ہم جیسے نامعلوم قلم کاروں کے لعن و طنز و طعن کا شکار بننے والے، اس عظیم المرتبہ شخصیت حسینی کے ان ایام ذہنی کیفیت کو دیکھتے ہوئے ہمیں تاریخ کے اوراق میں مقید، صوفی بزرگ علامہ شیخ اندلسی کے اس واقعہ کو اپنے دماغ کے پردہ سیمیں پر تازہ دم دہرایا واقعہ لگتا ہے*

*علامہ شیخ عبداللہ اندلسی جو حافظ قرآن ہونے کے ساتھ ہی ساتھ ایک لاکھ احادیث کے بھی حافظ تھے لاکھوں شاگرد و مریدین تھے علامہ شبلی علیہ الرحمہ جیسے نابغہ روزگار اور علم و عمل کا کوہ گران آپ کے مرید و خلیفہ تھے۔ ایک روز اپنے سینکڑوں مریدوں کے ساتھ ایک بستی سے گزر رہے تھے کہ اس بستی میں بے شمار لٹکتی صلیبوں کو دیکھ کر، شیخ کے دل میں خیال آیا کہ یہ لوگ کتنے بے عقل ہیں کہ صلیب کی پوجا کرتے ہیں۔ فقط اس بات پر اللہ رب العزت کی ان پر پکڑ ہوگئی۔*
*”عبداللہ اگر تم ایمان پر ہو تو کیا یہ تمہاری عقل سے ہے؟ یا میری رحمت کی وجہ سے ہے یہ تمہارا کمال نہیں یہ میرا کمال ہے کہ میں نے تمہیں ایمان پر باقی رکھاہے” پس اللہ نے ان کے قلب سے ایمان نکال لیا کہ "اب دیکھتے ہیں کہ تم اپنی عقل پر کتنا ناز کرتے ہو، تم نے یہ لفظ کیوں استعمال کئے؟ تمہیں یہ کہنا چاہئیے تھا کہ اللہ نے انہیں (عیسائیوں کو) محروم کیا ہوا ہے تم نے اپنی عقل اور ذہن کی طرف نسبت کیوں کی؟”*

*پس کیا تھا اللہ رب العزت کے امتحان کے شکار ہوگئے.عصر کی نماز کے لئے وضو کی خاطر ایک کنوئیں پر رکنا ہوا،وہیں ایک عیسائی دوشیزہ سے نظریں چار ہوئیں, پس اس کے عشق میں مبتلا ہوگئے، شاگردوں سے مخاطب ہوکر کہا تم واپس چلے جاؤ,ہم تو اس دوشیزہ کو ڈھونڈنے چلے۔ اس دوشیزہ کو ڈھونڈنے ڈھونڈتے اس مسیحی کے گھر پہنچ کر اس دوشیزہ سے عقد نکاح کی بات کہہ دی۔ اس کے باپ نے کہا اس کے لئے انہیں اس کے پاس موجود سوروں کے ریوڑ کو چرانا پڑیگا اس کے لئے بھی وہ تیار ہوگئے اور فقط اپنے علم و عرفان کے زعم میں تکبر تفکری کے شکار کیا ہوگئے کہ حافظ قرآن کے ساتھ ہی ایک لاکھ احادیث کے حافظ، اپنے وقت کے علامہ ایک مسیحی دوشیزہ کے حسن کے اسیر بن کرسور کے چرواہے بن بیٹھے*
*المحترم فضیلۃ الشیخ حضرت سید سلمان ندوی مدظلہ،سید ابولحسن علی ندوی علیہ الرحمہ جیسے مادری خانوادے میں آنکھیں کھولنے والے، جن کی وجاہت اور عظمت کی چھاپ دینی و ادبی حلقوں میں بہت گہری رہی ہے۔ اسی ننہالی خاندانی پس منظر اور نسبت نے انکی شخصیت کو حلقہ علماء میں محبوبیت و مقبولیت بخشی ہے ، لوگوں سے عقیدت و محبت کی، بے تحاشا سوغاتیں ملی ہیں۔*

*مفکر اسلام حضرت مولانا سیدابوالحسن علی ندوی علیہ الرحمہ جیسی نابغہ روزگار ہستی سے خاندانی وعلمی انتساب کی وجہ سے، حلقہ علماء میں انھیں ایک عزت و وقار ملا ہے۔ ہندوستان سے عربستان تک، اسی نسبت نے ان کی شخصیت کو متعارف کروانے میں اہم کردار ادا کیا ہے۔اس کے ساتھ ساتھ وہ ذاتی صلاحیت و استعداد سے بھی مالا مال ہیں۔ شستہ زبانی، طلاقت لسانی، عربی زبان وادب پہ یکساں عبور و قدرت، طرز القاء، منفرد طرز خطابت اور پرکشس لب ولہجہ کے باعث وہ ہندوستان کے علاوہ عربوں میں بھی کافی مقبول رہے ہیں۔ ایسے استاد حدیث فصیح و بلیغ مقرر سے کچھ تو تفکری لغزش کبریائی سرزد ہوئی ہوگی، جو کل تک شیعہ رافضیوں کے خارج الاسلام کہنے کی جرآت اپنے میں پاتے تھے آج انہیں کے تفکرات میں رچے بسے، انہی کی زبان بولنے لگے ہیں۔*
*آئمہ اربعہ کانفرنس بنگلور میں اپنے حسینی مزاج رطب السانی میں خود انکی وجہ سے ہدایت پائے، مدینہ یونیورسٹی سے فارغ التحصیل داعی اسلام الشیخ ڈاکٹر سیدمعراج ربانی مدظلہ کو” قابل گردن زدنی ” ٹھہرانے کی جسارت اورحکومت وقت سے ان کے کیفر کردار تک پہونچانے کی اپیل حضرت مولانا سلمان ندوی مدظلہ سے ہوچکی ہے، بھٹکل کے ایک اجلاس میں انہوں نے مولانا سیدمعراج ربانی صاحب کو بھنگی، غلاظت پھینکنے والا تک کہا ہے، یہی نہیں بلکہ انکی کیسٹوں کے خلاف انہوں نے یہاں تک کہہ دیاکہ ہم اسکے خلاف اعلان جنگ کرتے ہیں ، انہیں روڈوں پر جلا دیا جائے وغیرہ وغیرہ ۔*

*بھٹکل جامعہ اسلامیہ نصف صد سالہ جشن اختتامی تقریب، ہزاروں کے مجمع میں، اسٹیج پر انکی عین تقریر سے قبل کسی منتظم اجلاس کے کان کانٹے کا شکار بن، عصری تعلیم حاصل کرنے والے مسلم طلبہ وطالبات کو ابن الحرام اور بنت الحرام کا ببانگ دہل فتوی دینے کی خطابھی ان سے سرزد ہوچکی ہے، پانچ سو سالہ تاریخی اسلامی شعار بابری مسجد کو کفار ھند کی عین منشاء کےمطابق انتقال مسجد کی گنجائش کا فتوی دیتے مسلم پرسنل بورڈ کے اجتماعی موقف میں دراڑ پیدا کرنے کی دیدہ دانستہ لغزش بھی ان سے سرزد ہوئی ہے، ترتیب قرآن و صحابہ رضوان اللہ عنہم اجمعین پر تنقید کرنے کی لغزش جسارت ان سے سرزد ہوئی ہے۔ ان تمام واقعات کے پیش نظر کیا نہیں لگتا؟ علامہ شیخ احمد عندلسی کا وہ واقعہ اللہ رب العزت کی طرف سے امت کی اصلاح و رہنمائی کے لئے، کہیں دہرایا تو نہیں جارہاہے؟ ایسے میں حضرت مولانا سید سلمان حسینی ندوی کے سابقہ مقام و مرتبہ کو نظر میں رکھتے ہوئے، انہیں بھی علامہ احمد عندلسی کی طرح اللہ رب العزت کی طرف سے آزمائش کا شکار تسلیم کر، ان کے راہ راست پر واپس لانے ا،جتماعی دعا آہ وزاری کرنے یا کروانے کی ضرورت کیوں محسوس نہیں کی جاتی؟ انکے اپنے رشتہ دار ہم عصر جید علماء کرام کی وہ نظر کرم کے و نظر الطاف کے وہ مستحق ہیں،ایسے میں ان کے تفکراتی انحرافات کی وجہ، ان سے دوری اختیار کرنا، انہیں اور امتحانی و آزمائشی عمیقتا میں غرق کرنے کے درپے عمل محسوس ہوتا ہے،واللہ اعلم ب بالصواب وبااللہ التوفیق*
علامہ شیخ عبداللہ
اندلسی کا عبرت آمیز واقعہ

المحترم سلمان ندوی مدظلہ پر لکھا شکیل منصور قاسمی کا مضمون
https://m.facebook.com/story.php?story_fbid=782099305896344&id=135885433851071