Waraqu E Taza Online
Nanded Urdu News Portal - ناندیڑ اردو نیوز پورٹل

میں اس لیے زندہ ہوں کہ میں بول رہا ہوں

ان دنوں جو کچھ جامعہ ملیہ اسلامیہ، علی گڑھ مسلم یونیورسیٹی، اور اب "جے این یو "کے طلباء کے ساتھ سنگھ اور بی جے پی کے پالتو غنڈوں کے ذریعہ ظلم و بربریت انجام دیا گیا وہ بہت ہی درد ناک ہے سنگھ ۔ آر ایس ایس، کی اسٹوڈنٹ وِنگ،ABVP کے غنڈوں نے یونیورسٹی میں گھس کر حیوانیت کا ننگا ناچ برپا کر رکھاہے یہ جمہوریت اور آئین ہند کی دھجیاں اڑا نا ہے ،یہ بالکل برداشت نہیں ، اس آگ کو بھڑکانے والے خود اپنی قبر کھود رہےہیں ایسے ظالمانہ اور متشدادنہ حملے ناقابل برداشت ہیں

*15/ دسمبر بروز اتوار2019ء کو رات میں جامعہ ملیہ اسلامیہ کے طلبہ و طالبات پر ناحق جارحانہ حملہ کیا گیا ، 5/ جنوری 2020ء کو رات شروع ہوتے ہی نقاب پوش سینکڑوں کی تعداد میں جامعہ جواہر لال نہرو دہلی کے کیمپس میں گھسنا، طلبہ کو مارنا یہ جمہوریت کا خون ہے،طلبہ و طالبات ہی کا گلہ گھونٹ دیا جائے، انہی پر خونی حملہ ہو، انہیں گولی کا نشانہ بنایا جائے، جب طلبہ اور کالج محفوظ نہ رہیں تو یہ مستقبل کی تباہی کی تمہید ہے، راجدھانی دہلی میں کھلے عام ایک سینٹرل یونیورسٹی کے اندر درندگی مچائی گئی پولیس فورس نے غنڈوں کا ساتھ دیا ہے، حتیٰ کہ جے این یو میں موجود سَنگھی ذہنیت کے حامل جانوروں نے بھی بچوں اور بچیوں پر ظالمانہ قیامت خیزی کی راہ ہموار کی لوہے کے راڈ اور ہتھیاروں سے عمر دراز خواتین کے سر پھاڑ دیے گئے، اسٹوڈنٹس کو وحشیانہ زدوکوب کیاگیا لیکن دہلی کی وہ پولیس فورس جس نے جامعہ ملیہ اسلامیہ کے اندر گھس کر طلباء کو پیٹا، علی گڑھ مسلم یونیورسٹی کے بچوں پر فائرنگ کی، وہی پولیس کا محکمہ آر ایس ایس کے غنڈوں کو روک نہیں سکا

*یہ پولیس فورس نہیں راشٹریہ سیوئم سیوک سنگھ کے دلال اور غلام ہیں اور ان جانور صفت بے رحم شیطانوں نے یونیورسٹی میں بچوں، بچیوں اور اساتذہ کو بری طرح سے درندگی کا شکار بنا ڈالا ۔ابھی بھی ظلم و بربریت کا جنگلی طوفان مچا ہوا ہے، جے این یو کیمپس میں خون کے پیاسے زہریلے درندے دندناتے پھر رہےہیں، بچے کمروں میں چھپے ہوئے جان بچا رہےہیں، یہ سب کچھ دنیا کی سب سے بڑی جمہوریت کی ناک کے نیچے ہورہاہے۔*
*موجودہ ہندوستانی جمہوریت پر قابض حکمران ٹولہ غنڈے موالیوں کا ہجوم ہے، یہ کھلے ہوئے سانڈ بن چکے ہیں یہ حیوانیت ہندوستان کی راجدھانی میں ہوئی، اس درندگی نے ایک بار پھر صدیوں پرانی جنگلی کلچر کی یاد تازہ کردی،خواتین کے بہتے خون نے ہندوستان میں انسانیت کے وجود پر یقینی سوالیہ نشان قائم کردیاہے ظلم کرنے والے آر ایس ایس کے خبیث درندے اور حکومت سے شہہ پانے والے غنڈے ہندوستان کی سالمیت کو خطرناک سمت میں لے جارہےہیں لیکن افسوس کہ اس انارکی سے حفاظت کی کوئي ٹھوس بنیاد نظر نہیں آرہی ہے

*یہ سب جو کچھ بھی ہورہاہے وہ ہندوستان کا مستقبل مزید تاریک کررہاہے ،حکومت بھی ظلم و ستم کی راہیں و سیما پار کرتی نظر آتی ہے،ملک ہندوستان جب ایسے نازک گھڑی سے گزر رہاہے ، بالی ووڈ کے اداکاروں سے لے کر پورا ملک اپنے ضمیر و وجود کی آواز پر لبیک کہتے ہوئے ظالموں کے خلاف سرتاپا احتجاج بنا ہوا ہے

کیا حکومت اداکار، و ادکاراﺅں کی احتجاجی مہم میں شرکت سے کچھ سبق لے گی یا نہیں؟

ہندوستان کی معروف ومشہور یونیورسٹی جواہر لعل نہرو یونیورسٹی میں ہوئے نقاب پوشوں کے ذریعے تشدد کی پوری دنیا نے بھر پور مذمت کی ۔جو حکومت کی ناکامی کی منہ بولتی تصویر ہے, بالی ووڈ اداکارہ دیپکا پاڈوکون او ر اداکارہ کنگنا راناوت کی بہن رنگولی سلمس ، فرحان اختر ہوں یا ذیشان ایوب خان،اداکاراجے دیوگن وغیرہ نے کی ہے۔

یقیناً یونیورسٹی کے طلبہ و طالبات پر حملہ ایک افسوس ناک پہلو ہے حکومت کو اس تشدد کوسنجیدگی سے لینا چاہئے انسانیت کے دشمن،’ گوڈسے’ کے پجاری اس خوش فہمی میں مبتلا ہیں کہ انصاف پسند لوگوں کے بیچ خون کی ہولی کھیل کر اپنے ناپاک جذبوں کی تکمیل کی راہ ہموار کرلیں گے ،لیکن یہ ممکن نہیں ہے کیونکہ امن پسند ہندوستانیوں کا دل وضمیر زندہ ہے ، ہندو، مسلم ،سکھ عیسائی سب پیش پیش ہیں۔
مستقبل کا ہندوستان چاہیے تو اُٹھ کھڑے ہوئیے ان فسطائ طاقتوں کے خلاف جوگاندھی،آزاد،بسمل،اشفاق اللہ اور نہرو کے بھارت کو تباہ کر دینا چاہتے ہیں آر ایس ایس کے بنائے ہوئے نقشے کا ہندوستان تشکیل کرنا چاہتے ہیں لیکن ہم بھارتی ہیں اور یہاں کے لوگ اس کو برداشت نہیں کریں گے ،ہمارے خمیر میں بےایمانی،ہٹلر گری یا ظلم کی حمایت کرنا شامل نہیں ہے ،جب ہم بہت کم تھے ،نہتھے تھے،بےیارومددگار تھے، تب تو ہماری یکجہتی کا مقابلہ انگریز حکومت کر نہیں سکے اور راہِ فرار اختیار کرنے پہ مجبور ہویے*

*15/ دسمبر ہندوستان کی پارلیامنٹ کی تاریخ میں وہ المناک گھڑی تھی جس دن CAAکے نام سے بل پاس ہو گیا ، مگر اسی دن کی وہ ساعت بڑی مبارک ثابت ہوئی، جب ملک کے دستور کی حفاظت کی خاطر اس شہریت ترمیمی ایکٹ کے خلاف ایک تحریک نے جنم لیا ، یہ تحریک ملک کی یونیوسیٹیوں کے غیور طلبہ کے ذہن و دماغ کی پیدا وار ہے۔ انہوں نے اپنے گہرے شعور اور قابل فخرکارنامہ کاآغاز کرکے اپنے بڑوں کا سر مزید اونچا کیا اور چھوٹوں کے لئے ایک مثال قائم کی ہے اور تاریخ ہند میں ایک نئے باب کا اضافہ کر دیاہے۔ان نوجوانوں نے اپنے مثبت اور مبارک اقدام سے یہ پیغام دیا ہے کہ ہم نا انصافی اور انسانوں کو بانٹنے والے کسی بھی کالے قانو ن کو تسلیم کرنے والے نہیں ہیں۔ ہم اس ملک کے آئین اور دستور میں دیئے گئے سارے حقوق کے ساتھ خوددارانہ شان کے ساتھ زندگی گزاریں گے ۔ ہم اپنے ملک کے آئین کو بچانے کے لئے ،ہم اپنی آنے والی نسلوں کے تحفظ کے لئے اور ان تک اپنی ملی جلی تہذیبی روایات اور قومی اقدار کوپہنچانے کے لئے آخر دم تک لڑیں گے*
*سی اے اے CAA بھلے ہی پاس کرالی گئی اور منظوری مل گئی مگر یہ بل ہندوستان کے سیکولرزم پر خطرناک حملہ ہے, یہ دستور ہند کی روح کے مخالف ہے, اس سے ملک کی سلامتی وسیکوریٹی کو خطرہ ہے یہ ہماری گنگا جمنی تہذیب کے خلاف ہے۔اس قانون کا ہندوستان کے دستور وقانون پر بھی بہت منفی اثر پڑے گا، یہ قانون ہندوستان کے سیکولر کیرکٹر پر بھی حملہ ہوگا۔سی ا ے اے کے خلاف احتجاج جاری رہنی چاہیئے ۔ آج وہ گولیاں داغ رہے ہیں تاکہ ڈراکر، دھمکا کر، قتل کرکے عوام کی آواز دبائی جاسکے۔*
*پر بولو آپ لوگ کس کس کی آواز بند کرو گے ؟؟*
*کتنے سینوں کو اپنی گولیوں سے سرخ کرو گے ؟؟*
*کتنوں کو حوالۂ زنداں و پابند قید وسلاسل کروگے؟؟*
*کوئی کاغذ نہیں دکھانے والا ہے* *کوئی قطار میں کھڑا ہوکر اپنی شہریت ثابت نہیں کرنے والا ہے*
*اس لئے کہ یہ سب جن سے ’کاغذات‘ مانگے جارہے وہ سب’ ہندوستانی‘ ہیں اوراس ملک میں پیدا ہوئے ہیں ، یہیں پلے بڑھے ہیں ۔ اور ایک دن یہیں مرجائیں گے*

*وزیرداخلہ جھوٹ پر جھوٹ بولے چلے جارہے ۔ یوپی میں پولس راتوں کو گھروں میں گھس گھس کر عورتوں ، بچوں ، بوڑھوں پر لاٹھیاں برساتی ،اور مکینوں کو خوف کے عالم میں جینے پر مجبور کرتی ہے اور سپریم کورٹ نہ سُننے کو تیار ہے نہ انصاف کرنے کو تیار ۔۔۔*

*کیا ہمارا ملک اب بھی سیکولر یا جمہوری‘ کہنے کا مستحق ہے ؟؟؟*
*کیا اب یہ کہا جاسکتا ہے کہ یہ ملک آئین اور انصاف کے تقاضوں کو پورا کررہا ہے ؟؟؟*
*اقلیتوں کے حقوق کی پاسداری کررہا ہے ؟*
*ملک کے حکمرانوں کو سبق سکھایا جائے کہ اگر وہ آئین میں تبدیلی لانے کی کوشش کریں گے اور ملک کو’ہندوتوا‘ کے راستے پر لے جائیں گے اور اگر وہ ملک کے عوام کو ’ فرقہ وارانہ‘ بنیاد پر تقسیم کرنے کی سعی کریں گے تو ان کے خلاف آواز اٹھائی جائے گی اور یہ آواز اٹھتی رہے گی، آپ نے دیکھا ،سنا اور پڑھا بھی کہ وزیراعظم نریندر مودی (جو اپنے جھوٹے وعدوں سے مشہور ہیں) نے دہلی کے رام لیلا گراؤنڈ میں صاف شفاف کذب بیانی سے کام لیا اور کہا کہ پورے ملک میں این آرسی لاگو کرنے کی کوئی بات ہی نہیں ہوئی ۔ پھر انہوں نے کہا کہ ’حراستی مراکز یعنی ڈیٹینشن کیمپ تو کہیں بنائے ہی نہیں گئے ہیں ۔ پھر امت شاہ نے کہا: کہ کون کہتا ہے کہ این آرسی اور سی اے اے کو ایک دوسرے سے جوڑا جائے گا ! یا تو ان کے حافظے بہت کمزور ہیں یا یہ لوگ عوام کو بے وقوف اور اپنے آپ کو ہوشیار سمجھتے ہیں ۔ دونوں حضرات نے بار بار این آرسی کی بات کی ہے اور اسے پورے ملک میں لاگو کرنے کا اعلان کیا ہے اور یہ بھی کہا ہے کہ پہلے سی اے اے (CAA)آئے گا پھر پورے ملک میں این آرسی (NRC)لاگو کی جائے گی . یہ سب کھلے طور پوری دنیا کے سامنے ہورہا ہے پھر بھی جھوٹ پر جھوٹ بولاجارہا ہے ۔ جھوٹ کے سہارے مودی اور امت شاہ جی آپ دونوں کی حکومت بہت زیادہ دنوں تک نہیں چل سکتی ہے۔*

*اس قانون کا ہندوستان کے دستور وقانون پر بھی بہت منفی اثر پڑا ہے ، اس قانون سے ہندوستان کے سیکولر کیرکٹر پر بھی حملہ ہوگا،ہندوستا ن کے سابقہ قانو ن کے مطابق غیر قانونی مہاجر وطن کوشہریت نہیں دی جاتی تھی* *گرچہ وہ پراسس آف نیچرولائزیشن سے گذر جائیں، ایسا دستور کے سیکشن 6 میں دیے گئے شہریت کے تیسرے شیڈول کے تحت کیا جاتا تھا، سیکشن 2 بی کے تحت غیر قانون مہاجر وطن اسے قرار دیا جاتا تھا جس کے پاس پاسپورٹ یا ضروری سفر کے کاغذات نہیں ہوتے تھے۔*
*ایک شخص غیر قانونی مہاجر وطن ہے یا نہیں؟ اس کا فیصلہ اس بات پر ہوتاتھا کہ اس کے پاس پاسپورٹ سمیت ضروری کاغذات ہیں یا نہیں،لیکن ہائے افسوس ! اس نئے قانون نے تو غیر قانونی مہاجر وطن کے معیار کو ہی بدل ڈالا ، اب ضروری کاغذات کی شرط کے بجائےمذہب کی شرط نے اس کی جگہ لے لی، اب اگر ڈوکومینٹ کے بغیر بھی کو ئی غیر قانونی مہاجر وطن ہے اور وہ غیر مسلم ہے، تو ا ب وہ غیر قانونی نہیں کہلائے گا بلکہ اس قانون کی رو سے اسے شہریت دے دی جائے گی اور وہ ہندوستانی ہوجائے گا، لیکن اگر غیر قانون مہاجر وطن مسلمان ہے تو اسے یہ مراعات نہیں مل پائیں گی خواہ وہ جس قدر بھی ظلم وزیادتی کا شکار ہوکر یہاں پناہ لینے پر مجبور کیوں نہ ہوا ہو*
*اس قانون کی رو سے غیر قانونی مہاجرین وطن کی لسٹ سے غیر مسلم کو نکال دیا گیا ہے۔ہندو ، سکھ ، جین ، بودھ اور عیسائی اب غیر قانونی مہاجر وطن نہیں قرار دیے جائیں گے، اگر وہ پڑوسی تینوں ممالک سے آئے ہیں،ان کےلیے یہ شرط بھی نہیں ہوگی کہ آیا وہ ہندوستانی الاصل ہیں یا نہیں، یہ خود اس قانون کی ایک شق کا مذاق ہے جس میں ہے کہ ہندوستانی الاصل شہری کے تحفظ کو یقینی بنایا جائےگا،اب صرف ایک شرط رہے گی کہ وہ افغانستان ، پاکستان اور بنگلہ دیش سے آئےہوں،*

*اب سوال یہ پیدا ہوتا ہوتا ہےکہ "ان ممالک سے آنے” کا کیا مطلب ہے ، کیا وہاں کا شہری آیا ہو، یا وہاں کا مقیم آیا ہو، یا وہاں کا مسافر آیا ہو جو کہیں اورجانا چاہتا ہو؟*

*اسے یہ بتانےکی ضرورت بھی نہیں ہےکہ کیا وہ ہندوستانی الاصل ہے یا نہیں، گویا اب کوئی بھی غیر مسلم CAAکی بنیاد پر شہریت کے لیے درخواست دے سکتا ہے، صرف وہ دسمبر2014 سے پہلے ملک میں داخل ہونے کو ثابت کردے،جبکہ دوسری طرف ایک مسلمان جو اگرچہ ہندوستانی الاصل ہی کیوں نہ ہو، اسے یہ فائدہ حاصل نہیں ہوسکتا ہے،اس قانون کے پاس ہونے سے بہت سارے ایسے غیر قانونی لوگ ہندوستا ن کی شہریت حاصل کرنے میں کامیاب ہوجائیں گے جوملک کی سلامتی اور سیکوریٹی کے لیے سنگین خطرہ بھی بن سکتے ہیں. اس لیے کہ ہمیں نہیں پتہ کہ کیا وہ غیر مسلم تشدد سے تنگ آکر یہاں آیا ہے یا یہاں کے امن وامان کو تہ وبالا کرنے آیا ہے!!!*

*اگر سی اے اے کے ذریعہ حکومت کا مقصد مذہبی اقلیتوں کو تحفظ فراہم کرناہی ہے تو اس کےلیےکوئی مؤثر پالیسی اور جامع قانو ن لاسکتی تھی*

*جو تمام مذاہب کےلوگوں کو فائدہ بھی پہنچائے اور ملک کی سلامتی کےلیےخطرہ بھی نہ ہواس طرح مظلوموں کی مدد کا حقیقی مقصد پورا ہوپاتا اور ہندوستان بھی دوسرے ان ممالک کی طرح غیر قانون مہاجرین وطن کی مدد کرنے میں اپنی موجودگی درج کرا پاتا*

*شہریت کے ضابطے دستور کے پارٹ 2 میں آرٹیکل 5 سے 11 تک موجود ہیں حقیقت یہ ہےکہ یہ سارے اصول وضوابط اور قوانین لکھےگئے، بحث کیے گئے اور مسلسل دوسالوں تک دوبارہ ان پر خوب غور وخوض ہوا اور پھر 12 اگست 1949 میں آخری شکل میں اسے تیار کیا گیا تو اب کیوں اس میں غیر ضروری تبدیلی کرکے موجودہ حکومت 70 سال قبل ہمارے دستورسازوں کے ذریعہ تیار کیے گئے قوانین شہریت کو سبوتاز کرنےکی کوشش کی جارہی ہے؟؟؟*

*اس وقت بھی مذہب کی بنیاد پر شہریت دینے کا شوشہ چھوڑا گیا تھا ، لیکن اکثریت کے ذریعہ اس کو بالکل نکار دیا گیا تھا،ان کی دلیل یہ تھی کہ یہ بھی تو ہوسکتا ہےکہ ہندوستان سے پاکستان یا بنگلہ دیش ہجرت کرنے والا مسلمان وہاں خود کو محفوظ نہ پاکر اپنے ملک واپس آنا چاہے، چنانچہ ایسے مسلمان کو بھی شہریت دینے کی اس وقت کے ہمارے دستور سازوں نےحمایت کی۔پنڈت ٹھاکر داس بھرگاوا نے نہایت مضبوطی کے ساتھ مذہب کو شہریت سے نہ جوڑنے کا مطالبہ کرتےہوئے اس بات کی حمایت کی تھی کہ اگر کوئی محب وطن مسلمان مشرقی یا مغربی پاکستان سے ہندوستان آتا ہے، اور وہ وہاں رہنے میں خائف ہے، تو یقینی طور پر اس کا استقبال ہونا چاہیے، یہ ہماری ذمہ داری ہے کہ ہم اس کے تحفظ کو یقینی بنائیں،ہم اسے اپنا بھائی سمجھیں اور اسے قانونی شہری مانا جائے۔*
*یہ ہے ہندوستان کی روح*
*یہ ہے یہاں کی شہریت کا راز،*
*یہ ہمارے دستور سازوں کا سپنا* ،
*یہ ہے اس ملک کی گنگا جمنی تہذیب،*
*یہ ہے اس ملک کے خوبصورتی کا راز ،*

*آج جبکہ فسطائی طاقتیں ہمارے دستور کے ساتھ چھیڑ چھاڑ کرنے میں لگی ہیں ، ہمیں اپنے پیارے ملک کے دستور کو بچانے کے لیے تیار و پابہ رکاب ہوجانا چاہیے، اگر قربانیاں بھی دینی پڑیں تو اس بھی پیچھے نہیں ہٹنا چاہیے. ہماری محنت ضرور رنگ لائے گی، بس ہمیں یہ ٹھان لینا ہے کہ اس کالے قانون کا جنازہ پڑھ کر ہی ہم راحت کی سانس لیں گے۔*

*وقت اور حالات آپ کے منتظر ہیں…آئیں اور اپنی کہانی خود لکھیں…اپنے ملک کی روح کو زندہ رکھیں..جمہوریت کی بقاء کیلئے ہمت کریں،دستور کو فاشسٹ طاقتوں سے آزاد کرائیں….*

*میں اسلیے زندہ ہوں کہ میں بول رہا ہوں*
*دنیا کسی گونگے کی کہانی نہیں لکھتی*

*یقیناً ہم سب برادرانِ وطن پر ظلم تو ہوا ہے مگر ہمارے حوصلے توڑےنہیں جاسکتے ہیں*
*مظاہرے اور احتجاج بند نہیں ہوئے ہیں ,آئیے میرٹھ کی آواز سنیئے ،ظلم اور ستم کے باوجود لوگ کہہ رہے ہیں ’’بھلے ہی موجودہ سرکار ہمارے بچوں کو شرپسند کہے اور اخبار والے فسادی کہیں ، مگر ہمارے بچے دیش کے لئے قربان ہوئے ہیں اور ہوں گے*

*‘‘ آج جب ہمیں ضرورت پڑی کہ ہم اپنی آواز بلند کریں تو مقامی پارٹیوں نے ، کیا سماج وادی پارٹی اور کیا بہوجن سماج پارٹی اور ان کے مسلم اراکین اسمبلی اور اراکین پارلیمنٹ نے ’ ساتھ ‘ چھوڑ دیا مگر تب بھی میرٹھ سے اٹھنے والی یہ آواز سن لیں:’ ’ بی جے پی اور آر ایس ایس نے یہ سمجھ لیا تھا کہ ہم چپ ہیں اس لئے کمزور ہیں مگر ہماری خاموشی کو ہماری کمزوری نہ سمجھا جائے، ہر بات کی حد ہوتی ہے ، طلاق ثلاثہ بل قانون بنا تب ہم چپ رہے ، بابری مسجد کے خلاف فیصلہ آیا ہم چپ رہے ، مگر کبھی نہ کبھی تو لاوا پھوٹنا ہی تھا ، جامعہ ملیہ اسلامیہ ،علی گڑھ مسلم یونیورسٹی اور جے این یو کے طلباء کے احتجاج اور مظاہروں سے یہ لاوا پھوڑ دیا ہے ، اس میں بہت ساری یونیورسٹیاں اورطلبا شامل ہیں ،بھیم آرمی ، ونچت اگھاڑی ،برہمن ، ٹھاکر، سکھ ، اور عیسائی بھی بلکہ سارا ہندوستان شامل ہے ۔ مودی جی ، امت شاہ و یوگی اور ان کے حواری کان کھول کر سن لیں کہ سارا ملک ، سارا بھارت کہہ رہا ہے ’’ہم ڈرتے نہیں ہیں اور ہم ابھی بھی ڈرے نہیں ہیں۔‘‘*

*03/ جنوری 2020ء کو بھارت کے وزیر داخلہ نے جودھپور میں ایک جلسہ کو مخاطب کرتے ہوئے کہا تھا اور مرکز میں موجود حکومت کے عزم کا اظہار کیا کہ ہم CAA پر ایک انچ بھی پیچھے نہیں ہٹیں گے ایسے میں کچھ لوگوں کی نظریں سپریم کورٹ کے آنے والے فیصلے پر لگی تھیں لیکن حالیہ معاملات میں سپریم کورٹ کے یک طرفہ فیصلوں کے بعد سے کچھ خاطر خواہ توقع نہیں ہےمگر اس بل کو چونکہ منظوری دے بھی دی گئی ہے لھذا اب کریں تو کیا کریں یہ سب ملک عزیز کو ہندو راشٹر بنانے کے لیے ایک قدم ہے جو آر ایس ایس کا مرکزی بنیادی ایجنڈا ہے.*
*ایسے میں اب یہ جنگ لمبی چلنے والی ہےجن لوگوں نے سماجیات یا تاریخ کا مطالعہ کیا ہے انہیں معلوم ہوگا کہ کوئی بھی عوامی تحریک کچھ دنوں یا ہفتوں کے بعد سرد پڑنے لگ جاتی ہے اور اس کو اچھے رہنما و قائدین کی سخت ضرورت ہوتی ہے مگر بہت ہی تشویش کی بات ہے کہ ہماری قوم کے بہت سے قائد اپنی خاموشی کا روزہ رکھے ہوئے ہیں ، کچھ حلقوں میں یہ بھی احتمال ظاہر کیا جارہا ہے کہ اس احتجاج کو کوئی مذہبی رنگ نہ دیا جائے جو کہ بالکل درست ہے ، مگر ایسے میں بہت سے ایسے غیر مسلم سرکردہ انصاف پسند یوگیندر یادو، کنہیا کمار، سابق آئی ایس آفسر کنن گوپی ناتھن وغیرہ ہیں تو کیوں ہم ایسے لوگوں کو اپنے ہاں مدعو نہیں کرتے؟؟؟*

*آزادی کے بعد ملک میں انقلاب کا یہ پہلا موقع ہے جب ملک میں اتنی ریلیاں نکلیں اور اتنے سارے احتجاجات و مظاہرے حکومت کے خلاف ہوئے ، تمام اقلیتی طبقات ایک دوسرے کے ساتھ کھڑے ہوئے ہیں جن میں سکھ ،عیسائی ،ٖدلت بلکہ تمام ہندو بھائی و بہن بھی ہماری آواز سے آواز ملا رہے ہیں ۔ملک سے بی جے پی کی لہر ختم ہوتی دکھائی دے رہی ہےجس سے آر ایس ایس کو بہت بڑا جھٹکا لگا ہے۔یہ تمثیل حکومت کے ان نااہل لوگوں کیلئے ہے ، جن کی وجہ سے آج عوام اور حکومت دونوں پریشان ہیں ۔ ۔ ۔ ۔ بلکہ پوری دنیا میں جگ ہنسائی ہو رہی ہے ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔*

*اے ہندوستانی عوام :*
*میں آپ سے کہنا چاہتا ہوں کہ اس تحریک جو تم نے دیش میں اس بل کے خلاف چلائی ہے اسے وقتی نہیں بلکہ ابدی بنادو جو سب کے لئے مشعل راہ اور زاد زندگی رہے،آپ کا کوئی بھی مذہب ہو یا ذات برادری ہو مگر سچائی یہ ہے کہ آپ حکومت اور مٹھی بھر لوگوں کی نظر میں دیش دروہی اور غدار ٹھہر چکے ہیں، میڈیا اور سرکاری ذرائع ابلاغ آپ کو یہی ثابت کرنے میں لگے ہیں، مودی اور یوگی سرکار مظلوم اور بڑی معصوم سرکار ہے لوگ بلاوجہ اسے بدنام کرنے پر تلے ہوئے ہیں مگر حقیقت یہ ہے کہ بی جے پی اور خاص طور پر مودی،امت شاہ و یوگی جی انتہائی ظالم و جابر اور ملک کے حق میں سخت ترین دشمن ہیں ملک میں کئی لوگوں کے مرنے اور پھر بعد میں لوگوں کو گھروں سے پکڑ کر لے جانے کی خبر ہندوستان میں ہمیں برباد اور بدنام کرنے کی سازش ہے ۔*

*آج وہ دیش واسیوں کو بھارت سے بھگانے کیلئے نئے نئے قانون بنا رہے ہیں جن کا بھارت کی آزادی میں کوئی کردار نہیں رہا ہے، جو پہاڑی چوہے کی اولادیں ہیں جن کا بسیرا زمین پر چھوڑ کر پہاڑوں پر ہوا کرتا تھا ، یہ ریا کار و مکار اور سیاہ کار آج کہتے ہیں کہ بھارت ہمارا ہے اگر بھارت تمہارا تھا تو انگریزوں سے لڑکر اس بھارت کو کیوں نہیں انگریزوں سے چھین کر آزاد کرالیا تھا ؟؟*
*بتلائے اس وقت تمام دیش واسی ہندو و مسلمان و دلت ،سکھ،عیسائی ہی تھے جنہوں نے بھارت کو اپنا خون دے کر انگریزوں سے نجات دلائی تھی اس وقت تو تم انگریزوں کے مخبر تھے انگریز تمہارے داماد اور مسلمانوں کے دشمن تھے اس وقت تمہاری جواں مردی کو کیوں زنگ لگ گیا تھا کیا ؟؟؟*

*تب کیوں نہیں انگریزوں کو داماد بنانے کی بجائے اپنا دشمن بنائے جسطرح مسلمانوں نے بنایا تھا؟؟*
*یہ بھارت دیش ہمارا جان سے بھی پیارا ملک کسی کے باپ کی جاگیر نہیں اور نا ہی کبھی مسلمان یا دلت نے اپنا اکیلا حق جتلایا بلکہ اپنا خون بہا کر اس ملک کو تمہارے حوالے کردیا کہ جاؤ اور اس پر راج کرو اس دن کیلئے نہیں کہ کل کے مخبر آج چالاکی اور عیاری سے حکمراں بن بیٹھے تو دلتوں ،مسلمانوں اور پورے دیس واشیوں کو ہی اس دیش سے نکال باہر کرو*

*یاد رکھیں سیکولر ہندستانی وہ قوم ہیں جن کا ایمان یہ ہے کہ قربانیاں رائیگاں نہیں جاتی اور قربانی دینا ہمارا اولین فریضہ ہے اس کا مطلب یہ نہیں کہ تم دلتوں ومسلمانوں کو ہی قتل کر کے اس کو قربانی سمجھوگے ۔رہے دلت ومسلمان یہ وہ ہیں جو ہنستے ہنستے اپنی جان کی قربانی خود دیتا ہے بھارت سے لیکر لاہور تک کے درختوں پر لٹکی ہوئی لاشیں اس بات کی گواہ ہیں کہ وہ تڑپ نہیں رہیں تھیں بلکہ سکون سے لٹکی ہوئی تھیں کسی کی زبان یا کسی کی آنکھ موت کے ڈر سے باہر کو نہیں آئیں تھیں۔*

*آج تم دیش واشیوں کو زبان اور آنکھ دکھلا رہے ہو اس بل پر تو اگر وہ قابو رکھنا جانتا ہے تو وقت آنے پر دیکھانے والوں کی باہر کرنا بھی جانتا ہے، قبل اِس کے کہ ہم پر اور دیگر غیر مسلموں پر یہ دن آئے پُر امن احتجاج ٹھنڈا نہ پڑنے دیں ، ابھی 22/ بائیس جنوری تک سپریم کورٹ کے فیصلے کا انتظار ہے۔ہم اب من اور من والوں کی جھوٹی بات نہیں سنیں گے ان شاء اللہ*

*انتہائی خوشی کی بات یہ ہے کہ اِس پُروٹیسٹ میں انصاف پسند ہندو مسلم ، سکھ سب ساتھ میں یکساں طور پر شامل ہیں ہیں جو کہ کامیاب ہوگا . روزبروز گھیرابندی کے منصوبوں پر عمل درآمد ہورہا ہے ، کچھ بازاری اور سیاسی دلال آج ان حالات میں بھی اپنا مفاد ان کے پیش نگاہ ہوتا ہے اور اپنی خودغرضانہ گھٹیا تجارت کو فروغ دے رہے ہیں، قوم فروشی وضمیر فروشی، ملت فروشی و مسلک فروشی ، جماعت فروشی و سوسائٹی فروشی، کنبہ فروشی اتنے نازک حالات میں بھی ملت فروشی اور قوم فروشی کا کام کررہے ہیں اور اپنی سرفروشی چاہتے ہیں وہ سب بے مقصد اور بے سود کام و اعمال انجام دئے جارہے ہیں.یہ حالات قوم وملت بیچنے کے نہیں ہیں اگر ملک سلامت رہا، ملک کے مسلمان و دلت سلامت رہے تو پھر اورمواقع آئیں گے ورنہ یہ آخری موقع گا ۔*

*پر جو آئندہ اپریل سے شہریت ثابت کرنے کے لئے NPR کے اندراج کا تادیبی عمل شروع ہونے والا ہے اس کی شرائط میں سب خطرناک پہلو یہ ہے کہ NPR کرنے والے مقامی آفیسر کو یہ خصوصی اختیار حکومت کی جانب سے حاصل ہوگا کہ وہ تمام دستاویزات کے کلی طور پر درست ہونے کے باوجود NPR کے تفصیلاتی دستاویز کو مشکوک قرار دے سکتا ہے یا مسترد کر سکتا ہے۔۔اس سے قبل کہ NPR کا عمل آئندہ اپریل سے شروع ہو ہم سب کو ملک گیر سطح پر یہاں کے سیکولر ہندو برادران،سکھ،عیسائی ،جینی،پارسی،بدھسٹ سب کا اشتراک و تعاون حاصل کر کے متحدہ قوت و حکمت کے ساتھ اس کے تدارک کے لئے بلا تاخیر لائحہ عمل تیار کرکے حکومت سے اسے واپس لینے یا کالعدم قرار دینے کی ہر ممکن کوشش کرنی چاہئیے۔*

*سبھی کا خون شامل ہے اس دیش کی مٹی میں*
*کسی کے باپ کا ہندوستان تھوڑی ہے*

*اب ہم سے جنم پرمان پتر والد وغیرہ کا بھی جنم پتر مانگا جارہا ہے۔اور یہ بات سب کو معلوم نہیں کہ اس کے ابو پیدا کہاں ہوئے،بہوتوں کو یہ بھی پتہ نہیں کہ پیدا تو دور مرے کب یہ بھی نہیں کیونکہ جب وہ چھوٹے ہی تھے یا پیدا ہوئے تبھی والد اور کچھ دنوں بعد والدہ اس دنیا سے چلی گئیں یا ڈوکومینس ہی نہیں جل گیے ،ڈوب گیے،کسی نے چوری کرلی،*

*اب آپ دیکھیں اصل مدعا ہے کہ CAA اور NRC سے سرکار دھیان بھٹکا کر NPR میں الجھآنا چاہتی ہے جس کے لئے بیک آواز اس کی مخالفت سے باز نہیں آنا چاہئے*
*سرکار نے ہمیں نہ تو پندرہ لاکھ دیے*
*نہ دوکروڑ نوکریاں دی ہیں بلکہ جو تھیں وہ بھی چلی گئیں*
*نہ یواؤوں کو روزگا ملا سوائے پکوڑے بنانے کے*
*نہ سو 100/ اسمارٹ سٹی بنے*
*نہ ڈیجیٹل انڈیا نہ بلیٹ ٹرین،صرف خواب خواب*
*بس کام یہی ہورہا ہے کہ جاہل ریپسٹ اور کرمنل لوگ ستا میں ہیں اور پڑھے لکھے لوگ ان کے تلوے چاٹنے پر مجبور ہیں*
*اور تھو ہے ایسی حکومت پر جس کے چلانے والے* *کرمنل،فسادی،ریپسٹ،انسانیت کے دشمن اور جاہل اور جنتا کو بے وقوفی بنا کر اپنا الو سیدھا کرنے والے ہیں۔اور روزگار نہ دے کر روزگار چھیننے والے ہیں اور ہمیں بھیک مانگنے کے لیے روڈ پر کھڑا کرنے کی تاک میں ہیں اور اپنی کرسی بحال رکھنے کی سیاست کررہے ہیں تاکہ ہمیشہ یہ حکومت میں بنے رہیں اور ہم جنتا بےوقوف بن کر ان کی جوتی سیدھی کرتے رہیں*
*ان سب کو کرسی سے اتاریں اور اپنی جمہوریت کے بقا اور سنویدھان کی بقا کے لیے لڑائی لڑیں اور فسطائی طاقتوں کو جڑ سے اکھاڑ پھینکیں۔*
*ابھی NPR میں دھیان دے کر اصل مدعا کو بھولنا نہیں چاہئے ۔سرکار کی پالیسی دھیان بھٹکانے کی ہے تاکہ مزاحمت ختم ہوجائے ۔*
*اب اگر آپ نے اپنا قدم پیچھے ہٹایا تو آپ کی ساری کوششیں بےکار جائیں گی اور ان کا کوئی بھی فائدہ نہیں ہوگا۔*
*اپنے دیش ودستورکوبچاتے ھوئے احتجاج کرنےوالےبھادرو! ھم آپ کو کبھی نھیں بھولیں گے*
*میرے دیش پریمیو! آپ نے اپنی قربانیاں پیش کردی ہیں، کسی نے اپنا لال کھو یا، کسی نے اپنا شوہر، کسی نے یار و سہیلی, پھر بھی قدم پیچھے ہٹانا ٹھیک نہیں اسی طرح کی عالمی معیار پر بیوقوفی ہوگی جس طرح اس کالے قانون کے خلاف آپ کا پہلا قدم جوانمردی کی علامت قرار پا چکا ہے، اگر آپ قدم پیچھے ہٹاتے ہیں تو پیچھے صرف ایک جگہ ہے جو ہرحال میں ذلت ورسوائی کی ہے، پیچھے دیوار نہیں بلکہ ایسی کھائی ہے جس میں موت بھی یقینی ہے اور تاریخی رسوائی بھی۔ پیچھے ہٹ جانے کی صورت میں بزدلی اور ہار سے تعبیر کیےجائیں گی، اور یہ ہار ایسی ہار اور شکشت ہوگی جو افسوس بھی کرنے پر افسوس کا ہی احساس دلائے گی۔ حکومت آپ کو کھوج کھوج کر تخت دار اور سلاخوں کے پیچھے ڈالے گی اور اس سے بھی جو بچ جائیں گے ان کو غیر ہندوستانی کہہ کر ایسی جیلوں میں ٹھونس دے گی جہاں کے نگراں جہنم کے نگراں و داروغہ مالک سے بھی خطرناک ہوں گے۔*

*وہ مٹھی بھر طبقہ جس کی وجہ سے آج آپ کو سڑکوں پر نکلنا پڑا اور کڑاکے کے سردی میں چین وسکون کی نیند کو تیاگنا پڑا وہ آپ کو جینے نہیں دے گا کبھی لنچنگ اور کبھی ہندو مسلم کے نام پر مارتے رہیں گے اور کہیں بھی آپ کی سنوائی نہیں ہوگی، تھانہ، پولس ، کوتوالی، ہائی کورٹ اور سپریم کورٹ سب آپ کے خلاف ہوں گے سب کو آپ نے دیکھ ہی لیا ہے، سپریم کورٹ بھی وہی ہے جس کو آپ نے ماضی قریب میں دیکھ لیا اور مستقبل اس سے بھی خطرناک ہوگا۔*
*امیدیں بہت کم ہیں ،بڑی برادریاں ہماری ماؤں، بہنوں اور بہو بیٹیوں کی عزتیں ہماری نظروں کے سامنے تار تار کی جائیں گی بتاؤ پھر آپ کیا کریں گے؟*

*یاد رکھیں سب سے بڑی طاقت اللہ تعالیٰ کی ہے۔ اس دنیامیں کتنے ہی طاقتور لوگوں میں بھی کوئ بڑا طاقتورنہیں بچا ، اللہ کی طاقت سے بڑی کوئی طاقت نہیں اورجو اس بات سے بے خبر ہے اپنے کو بڑا طاقتور سمجھ کے لوگوں پرظلم اتیا چار کرتا تو پھر وہ بھی نہیں بچ سکتا،کیوں کہ اسے کوئی اور ظالم اپنے شکنجے میں لے کر اسے اس کی اوقات بتادے گا کسی کو جب یہ سب اختیارات ملیں تو اسے سنبھل کے رکھے سب کے ساتھ اچھا سلوک اور عدل برتنا چاہیئے اسی میں خیر و بھلائی ہے،*
*یاد رکھیں انقلاب کا اس سے بہتر موقع شاید ہی پھر ملے کیونکہ ان کا شیطانی دماغ اب اس فکر میں مبتلا ہوگا کہ کچھ ایسے قوانین لائے جائیں کہ آئندہ یہ لوگ اس طرح ریلیاں نہ نکال سکیں*
*لہذا۔۔۔۔اس سے پہلے کہ کوئی نیا قانون بنے ہمیں اس مثالی اتحاد کا بھرپور سیاسی فائدہ لے لینا چاہئے* *مثلا آر ایس ایس پر پابندی کی مانگ کرنا چاہئے یا اس ملک میں مسلمان محفوظ نہیں یہ کہہ کر اپنی قوم کیلئے ہر حال میں کوئی ڈیفنس آرگنائزیشن منظور کرواہی لینا چاہئے*
*آئندہ کوئی بھی قوم آئین جمہوریت سے چھیڑ چھاڑ نہ کرے ایسے قوانین کی مانگ کرنا چاہئے۔*

*ہم سب جذبات سے زیادہ حکمت سے کام کریں :*

*سب کو معلوم ہے کہ ملک کا مستقبل خطرے میں ہے۔ احتجاج سے اب سب کچھ نہیں ہوگا احتجاج کے ساتھ ہمیں آگے کچھ کام بھی کرنا ہوگا۔۔ NRC/CAA/NPR کے خلاف پورے ھندوستان میں احتجاج ہورہے ہیں حکومت طاقت کے استعمال سے اس قانون کو لاگو کرنے کی پوری تیاری کر چکی ہے۔*
*ایسے حالات میں ھم سب کو حکمت سے کام کرنا ہے احتجاج کے ساتھ حکومت کے ہر غلط و فاسد منصوبہ کو ناکام کر یں پورے ھندوستان میں NRC/CAA کا کام شروع ہونے کو ہے جو پارٹیاں اس کام میں رکاوٹ بن جائیں گی ان کو قید و بند و حراست میں لیا جائیگا،سیکولر پارٹیوں کے لٰیڈروں کو اور تمام دلت لیڈروں کو گرفتار کیا جائےگا ایسے حالات سے پوری ھندوستان کی عوام کو مل کام کرنے کی ضرورت ہے آگر پولیس کی ٹیم ھمارے ایک بھی ساتھی کو گرفتار کر لے تو پوری عوام ان کے سامنے آجائے اور اس کو لے جانے مت دیں اس کیلئے ہمارا جان ومال بھی کام آجائے تو پیچھے نہیں ہٹنا چاہیئے پورے ھندوستان میں عوام کو مل کر یہ کام انجام دینا ہے جتنی مسلم، دلت، عیسائی، سکھ پارٹیاں اور ان کی تنظیمیں سب مل کر اس کام کو جلد سے جلد انجام دیں وقت بہت کم ہے حکومت اپنی طاقت کے سہارے کسی بھی وقت کچھ بھی کر سکتی ہے ھندوستان کو بچانا ہے تو عوام کو آگے بڑھ کر کام کرنا ہوگاجلدی کرو جلدی کرو جلدی کرو۔*

*ہم کویہ بتاناہےکہ مودی حکومت کی تانا شاہی اب نہیں چلے گی ،منفی سوچ والے اس قدر ڈرپوک اور احساس کمتری کا شکار ہوجاتے ہیں کہ وہ اپنے سائے سے بھی ڈرنے لگتے ہیں ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ہماری لڑائی بہت لمبی ہے، آئین و جمہوریت کو سخت خطرہ ہے ، اس لیے اب متحدومنظم ہوکر مسلسل احتجاج کرنا ضروری ہو چکا ہے ، رکاوٹیں آئیں گی ، طاقت کا استعمال کیا جائے گا، لیکن اگر آئندہ نسلوں کو غلامی سے بچانا ہے اور جمہوریت و آئین کو ہوس کے پجاریوں کی ہوس کے بھینٹ چڑھنے سے بچانا ہے تو پوری طاقت سے پورے ملک میں حکومت کی مخالفت کرنا ، عوام کو بیدار کرنا اور ہر حال میں اس تحریک کو جاری رکھنا بے حد ضروری ہے ، یہاں تک کہ فاشزم توبہ کرے اور جمہوریت و آئین کا تحفظ یقینی ہو۔کیونکہ موجودہ حکومت میں نہ کچھ انسانیت ہے اور نہ طلبہ وطالبات کے مستقبل کا خیال ان کی حکومت میں کہیں حملہ ہے لاٹھی سے تو کہیں حملہ ہے گولی سے،یہی حکومت چلانے والے طلباء پر حملہ کرواکے یہ باورکرانا چاہتے ہیں کہ اس ملک میں جہالت کوعام کرنا ہی ان کا مطمح نظر ہے، طلباء کے تابناک مستقبل سے کھلواڑ بنا کر ان پڑھ اورگنواروں کے ہاتھوں میں بندوقیں اور لاٹھیاں دے کر علم اوراہل علم کا خاتمہ کرناہی ان کا اصل مقصد ہے -*
*ان ظالموں کی سوچ یہ ہے کہ امبیڈکر اور آزاد جیسے لوگ اس دیش میں جنم نہ لینے پائیں، اللہ ان کے بد ارادوں کو ان کے لئے وبال جان بنائے اور ان کی کرسی جانے کا سبب بنائے آمین۔*
*تمام مذاہب کے پیروکاروں سے میری یہی اپیل ہے کہ اس وقت ظالموں کے ظلمی ہاتھ کوروکنا نہایت ضروری ہے، وگرنہ یہ لوگ ملک کے حالات بد سے بدتر کرگزر جائیں گے ،آج کی عدالتیں ان کےسموم ذلالت کے جھونکوں سے مرجھا گئی ہیں اگر آپ کے دل میں ایک عدد انسانی دل دھڑک رہا ہے اور اس پر زندگی پرستی کا مرض مسلط نہیں ہوا ہے تو اٹھیے اور للکاریے، ہندوستان میں قانون کی بالادستی کو جانوروں سے بچائیے، اپنی نسل کو آگ کے انگاروں میں دہکنے سے بچائیے، جے این یو، جامعہ ملیہ اسلامیہ اور علی گڑھ مسلم یونیورسٹی کے بچوں اور بچیوں پر جو ظالمانہ اور وحشیانہ قیامت برپا کی گئی ہے اس کو محسوس کیجیے اگر آپ واقعی انسان ہیں ۔ ان پر ظلم و ستم اسی لیے برپا کیا گیا ہے کیونکہ انہوں نے آپ کے وجود کی لڑائی کو بلند کیا اور ملک میں حیوانیت کو قبول نہیں کرنے کا اعلان کیا۔*

*اے غفلت پرستو!*
*03 / جنوری 2020ء کو بھارت کے وزیر داخلہ نے ایک جلسہ کو مخاطب کرتے ہوئے حکومت کے عزم کا اظہار کیا کہ ہم CAA پر ایک انچ بھی پیچھے نہیں ہٹیں گے ایسے میں کچھ لوگوں کی نظریں سپریم کورٹ سے 22/ جنوری کو آنے والے فیصلے پر لگی ہیں لیکن حالیہ معاملات میں سپریم کورٹ کے یک طرفہ فیصلوں سے کچھ خاطر خواہ توقع نہیں ہے. کیونکہ ملک عزیز کو ہندو راشٹر بنانا آر ایس ایس کا مرکزی بنیادی ایجنڈا ہے.*

*صوبہ اتر پردیش کے تمام بڑے شہروں جیسے کانپور، رامپور، بجنور، گورکھپور، وغیرہ میں پولیس کی بربریت کی وجہ سے لوگوں کے حوصلے پست ہو چکے ہیں اور شاید آنے والے کئی سالوں تک وہ اس صدمہ سے نہ ابھر پائیں لہذا دوسرے صوبوں میں لوگ زیادہ سے زیادہ کوشش کریں اور بشمول اتر پردیش کے سیاسی، سماجی، مذہبی قائدین اپنی قوم کی قیادت کا بار اٹھائیں اور امن کے ساتھ اپنی صدائے احتجاج بلند کرتے رہیں.*
*اگر اب بھی ہم بیدار نہ ہوے تو ہم اپنی آنے والی نسلوں کو منہ دکھانے کے قابل نہیں رہیں گے اور ہم جواب نہیں دے پائیں گے کہ جب اتنے حساس موضوع پر جس کا راست تعلق مستقبل میں ہماری جان، مال، ایمان اور آئین سے متعلق اتنا برا فیصلہ لیا جا رہا تھا اس وقت ہم کیا کر رہے تھے؟*
*ابھی بھی لوگ خواب غفلت میں ہیں تو جو لوگ با شعور ہیں ان کی ذمہ داری ہے کہ وہ عوام کے بیچ میں جا کر چاہے دس بیس ،پچاس ،سو لوگوں کی محفل ہو اس مسئلے کی وضاحت کریں اور اس کے لئے ضروری ہے کہ ہم میں سے بہت سے لوگ اس قانون کی آئینی حیثیت کو خوب جان لیں اور پھر عوام تک عام کریں۔*
*تمہیں کیا ہوگیا ہے کہ خزاں کی پامالیوں پر نہیں روتے ؟*
*اور اپنے حال و مستقبل کیلئے کوئی فکر و تدبیر نہیں کرتے ؟*

*نوجوانو!*

*تم نے قانون کے ساتھ کھلواڑ کرنے والوں کی سازشوں کے بھیانک نتائج کو بھانپ لیا ہے اور تم اس کی مخالفت میں سینہ سپر ہو گئے ہو اور اس مشن میں اس ملک کا ہر با شعور شہری تمہارے کارواں کے ساتھ جڑتا جا رہا ہے ۔مجھے نہیں معلوم کہ آزادی کی لڑائی کو چھوڑ کر جس نے ملک کو آزاد کرانے کے لئے ہندو مسلم اتحاد کا تاریخی نظارہ دنیا والوں کو دکھایا تھا آزاد ہندوستان میں ہندو مسلم اتحاد اوردلکش برادرانہ منظر دیکھا ہو گا۔ یقینی طور پرآئندہ نسلیں نہ صرف یہ کہ تم پر فخر کریں گی بلکہ تمہاری آج کی یہ کوششیں ان کے لئے نشان راہ بن جائیں گی۔ اب تمہارے یقین و ارادے میں ذرا بھی کمزوری نہ آ نی چاہئے ،کوئی آندھی ، کوئی ہتھکنڈہ ، کوئی لالچ اور کسی بھی طرح کا ٹارچر تم کو راہ سے پیچھے ہٹا نہیں سکے گا ۔ اب تمہارا سفراسی وقت رکے اور تم اسی وقت آرام کرو جب تمہارا یہ مشن کامیابی سے ہم کنار ہو جائے ۔*

*آج پچھڑ ے لوگ اپنے حق کیلئے پُرامن احتجاج کر رہے ہیں تو اس کو کمزوری مت سمجھو دلت و پچھڑے اپنے دیش بھارت کی لاج کو خوب سمجھتا ہے اور اس دھرتی سے محبت کا ثبوت یہ ہے کہ وہ پُرامن احتجاج کررہا ہے اس دھرتی سے محبت کے جذبہ نے پچھڑوں کو پُرامن بنا رکھا ہے وہ اس لئے کہ کبھی انگریزوں سے اس دیش کو بچانے کیلئے انگریزوں سے اس دیش کو چھیننے کیلئے قطار در قطار اپنا خون بہایا ہے ،اور ہم بھی اس لئے پُرامن ہیں کہ اس دیش کی گنگا جمنا تہذیب باقی رہے اس دیش کا امن اور بھائی چارہ قائم رہے اگر اُس وقت مسلمانوں کی صفوں میں کھڑے ہوکر تم بھی اپنا خون بہاتے تو آج یہ احمقانہ حرکت نہیں کرتے ۔ یہ وہ قوم ہے جو کل بھی گھروں سے باہر نکلی تو آزادی لیکر اپنے گھروں کو لوٹی تھی، اور آج بھی اگر اپنے گھروں سے نکلی ہیں تو آزادی لیکر گھروں کو واپس لوٹیں گی اس وقت بھی قافلہ در قافلہ تھا کچھ آزادی کی راہ میں قربان ہوگئے تو سمٹے ہوئے مسلمان اپنے گھروں کو واپس ہوئے تھے آج پھر قافلہ در قافلہ نکلا ہے تو سمٹا ہوا واپس اپنے گھروں کو نہیں جائے گا بلکہ قافلہ نکلا ہے اپنے گھروں سے تو آزادی لیکر قافلہ ہی واپس اپنے گھروں کو جائے گا اُس وقت قبضہ کرلینے والوں کیلئے مسلمانوں کا قافلہ سمٹ گیا تھا آج تو یہ آزادی دلا کر تمہیں تحفہ دیا ہے آج تم بھارتی مسلمانوں کو سمیٹ نہیں سکتے اور نا ہی منتشر کرسکتے ہو آزادی لینے کا ہنر مسلمانوں کو اپنے باپ داداؤں سے ملا ہے آج بھی وقت ہے کل ماضی کو مسلمان بُھول چکا تھا۔*
*آج بھی مسلمان تمام دیش واسیوں کے ساتھ پھر سب کچھ بھول کر آپسی بھائی چارگی پر اتفاق کرنے کا ایمان رکھتا ہے بھارت کسی کے باپ کی جاگیر نہیں اس جملے کو خوب اچھی طرح یاد رکھتے ہوئے حکومتی نمائندوں کو اپنے بنائے ہوئے کالے قانون کو واپس لینا چاہیے اور اس ملک کی آزاد فضاء کو واپس برقرار رکھنا چاہیے اسی میں ہم سب کی خیر چھپی ہے ورنہ جس راہ پر آج حکومت چل رہی ہے اس راہ پر اب کوئی ایک بچے گا یا تم یا ہم اگر ہم سر پر کفن کو باندھ لئے تو اسی مٹی میں دفن ہوجائیں گے اور تمہاری راکھ ہواوں میں اڑتی نظر آئیں گی جیسے اس ملک کی مٹی بھی قبول نہیں کریں گی آج بھارتی مسلمان سڑکوں پر اتر آئیں ہیں تو کرو یا مرو جیسی صورت حال کو حکومت نہ بنائے دنیا کے نقشے میں اس دھرتی کو ذلت کی سمت نہ دیکھائیں اور اُن کو ہنسنے کا اور دوبارہ اس دھرتی پر نظر ڈالنے کا موقع نہ دیں جنہیں مسلمانوں نے مار بھگایا تھا۔*

*بھلائی اسی میں ہے کہ اس ملک کی بھائی چارگی کی فضاء کو قائم رہنے دیں اور تم سکون سے حکومت کرو اور اس میں بسنے والے دیش واسیوں کو سکون کے ساتھ رہنے دو یہ موقع مت لاؤ کہ جس قوم کو تم اس دیش سے باہر کرنے کا سوچ رہے ہو وہی تمہارے لئے اس زمین کو تنگ نہ کردیں مسلمان اگر مرے گا تو اسی مٹی میں دفن ہوگا اور جئے گا تو اسی دھرتی پر شان سے جئے گا مسلمان اپنوں سے ہرگز ہرگز لڑائی نہیں چاہتا بلکہ اس دھرتی پر بسنے والے مسلمان کا یہ ایمان ہے کہ جتنا حق ہمارا ہے اُتنا ہی حق تمہارا بھی ہے جبکہ تاریخ اس بات کو نہیں مانتی پر مسلمان اپنے مذہب کے اعتبار سے یہ حق تم کو دیتا ہے اس دیش کا امن ہر حال میں مسلمانوں کو عزیز ہے۔*

*اے قوم کے غیور دیش واسیو! اپنی حالت کے بدلنے کے لیے خود ہی میدان عمل میں اترنا ہوگا ۔ ۔ ۔ کوئی غیبی مسیحا کہیں سے نازل نہیں ہوگا، جو کسی قوم یا فرد کی حالت بدل کر رکھ دے ، اپنے آپ کو معطل اور مفلوج بنا کر بیٹھے رہنا اللہ پر توکل نہیں موجودہ ذرائع، توانائی ہمت و طاقت اور ذہانت کے استعمال کے بعد مثبت نتائج کے لیے اللہ کی مدد کا منتظر ہونا ہی حقیقی عبادت اور کامیابی کا راز ہے ۔ جب ہم اپنے خالی ہاتھوں کو درازکر کے آسمانوں کی طرف دیکھتے ہیں کہ شاید کوئی ابابیل آجائے ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ گویا کوئی عیسی ہمارا منتظر ہو !!!!!*
*یاد رکھیں ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔*
*خدا نے آج تک اس قوم کی حالت نہیں بدلی*
*نہ ہو جس کو خیال آپ اپنی حالت کے بدلنے کا*

*ان مشکل ترین، اعصاب شکن حالات میں دیش واسیوں کو جوش و طیش سے زیادہ ہوش اور گہری سوجھ بوجھ سے کام لینے کی ضرورت ہے ۔ یہ وقت اشتعال انگیز بیان بازی، فرقہ واریت کو ہوا دینے والے زوردار بھاشن، سادہ لوحوں کی واہ واہی بٹورنے والے پرجوش اور غیر منطقی خطاب، "کی ہرگز ضرورت نہیں*
*یہ وقت دیش واسیوں کو مشتعل بنانے کا نہیں، ان کے جذبات و احساسات کو پامردی وثبات قدمی پر ابھارنے کا ہے ۔صحیح اور درست عقیدہ یہ ہے کہ آدمی اللہ واحد کو مانے اور اسی سے ہر قسم کے خیر کی امید رکھے، ساری طاقت کا مالک اللہ ہے، کسی کو جو کچھ ملتا ہے، وہ صرف اللہ سے ملتا ہے، نہ کہ کسی اور سے ۔*
*یہ وقت اپنی صفوں میں اتحاد کے ساتھ ساتھ ملک کے سیکولر غیرمسلموں ،عیسائیوں ،سکھوں،پارسیوں،جینیوں،بدھسٹوں کے ساتھ تعلقات استوار کر کے اس کالے قانون کے خلاف مسلسل احتجاجات کرنے کا ہے ۔اگر فریقِ ثانی کوئ اشتعال انگیز بات کہے تو آپ اس کے جواب میں مشتعل نہ ہوں، بلکہ مثبت انداز میں اس کا جواب دیں، فریقِ ثانی کی طرف سے خواہ کچھ بھی کیا جائے*
*آپ کا طریقہ مثبت ردعمل کا طریقہ ہونا چاہئیے ۔نہ کہ منفی ردِعمل کا طریقہ ۔منفی ردعمل آدمی کے نفس کو آلودہ کرتا ہے ۔اور مثبت ردعمل آدمی کے نفس کو پاک کرنے کا ذریعہ بنتا ہے*
*یہ وقت ضمیر فروشوں کے دجل وفریب اور ان کی عیاری و مکاری میں آنے کا نہیں، ان کی اصلیت و حقیقت کو پہچاننے کا ہے ۔یہ وقت آپسی اتحاد ویگانگت کا متقاضی ہے ۔*
*یہ وقت چاہتا ہے کہ ہم ہوشیار محتاط ہو جائیں اور غفلت کو اپنے قریب پھٹکنے بھی نہ دیں ۔*
*بند کرو ہندوستان میں اپنا دوکان کچھ دیر کے لئے اپنا کام، بند کرو اپنی نیند، فکر کرو اپنے مستقبل کی، دین و ایمان و شریعت پر عمل کرتے ھوئے انتہائی خاموشی اور امن و امان کے ساتھ ھر ریلی ھر احتجاج میں شریک ھونے کی کوشش کریں*
*مایوسی کفر ہے، مشکل وقت میں یقین سب سے بڑی دولت ہے، کسی چیز کا یقین آدمی کو عمل کی دعوت دیتا ہے، یوسف علیہ السلام کو بھیڑیے کے کھانے کا پروپیگنڈہ، اور ان کی گمشدگی پر سالوں گزر جانے کے بعد بھی یعقوب علیہ السلام کا یقین متزلزل نہیں ہوا، اور یہی یقین انہیں یوسف علیہ السلام کی تلاش پر آمادہ کرتا تھا، اور اپنے بیٹوں کو تلاش کرنے پر ابھارتے تھے۔*

*دیش واسیو:*
*چاہے جتنا پرپیگنڈہ ہو کہ تمہیں ہندوستان سے نکال دیا جائے گا، لیکن تم ان پروپیگنڈوں پر دھیان مت دینا، یقین جان لو کہ یہ تمہارا بال بیکا نہیں کر سکتے، اس لئے پر عزم اور با ہمت رہو، حکومت چاہے جتنی سختی سے کہے کہ ہم شہریت ترمیمی قانون کو واپس نہیں لیں گے، لیکن تم مایوس مت ہونا، سنگھرش کی مدت چاہے جتنی لمبی ہو یعقوب علیہ السلام کے انتظار سے زیادہ طویل لمبی نہیں ہو سکتی، لہذا اس بات پر کامل یقین رکھو کہ اگر تمہاری کوشش جاری رہی تو حکومت قانون واپس لینے پر مجبور ہو گی۔گزشتہ کئی دنوں سے ملک کے اکثر خطوں میں ہزاروں احتجاجات جاری ہیں مگر ظالم حکمرانوں کے سروں پر جوں تک نہیں رینگی،ہاں اس دوران انہوں نے کوششیں کی تو مظاہرین کےحوصلے توڑنے یا ملک کی کروڑوں عوام کو بےقوف بنانے کی ناپاک کوشش کی گئی۔*
*جمہوریت مخالف بھگوا تنظیموں کو اکٹھا کرکے سیاہ قانون کی حمایت میں ریلیاں نکال کر حق پسند مظاہروں کو سبوتاژ کرنے کی ناپاک کوششیں کی گئیں۔علاوہ ازیں تشدد کا راستہ اختیار کر کے نہتے لوگوں پر لاٹھیاں برسائی گئیں،آنسو گیس کے گولے داغے گئے،اور کئی مقامات پر گولیاں تک چلائی گئیں۔جس سے بیسیوں افراد اب تک شہید ہوچکے۔*
*تشدد کے علاوہ مظاہرین کے مخصوص افراد کو خرید کر یا انہیں ڈرا دھمکا کر خود انہیں کو مظاہرین کے خلاف استعمال کرکے مثالی وتاریخی مظاہروں کو منتشر کرنے کی تگ ودو کی گئی۔ تاہم حکمران اپنے موقف اور عزائم سے ایک قدم بھی پیچھے نہ ہٹے۔اور ہٹیں بھی کیوں؟ٓ*
*انہیں تو پچھلے سینکڑوں برس سے اسی دن کا انتظار تھا کہ مرکز میں ان کی حکمرانی ہو، میڈیا ان کی زر خرید لونڈی ہو،فوج اور پولس ان کے ماتحت ہوں اور وہ وقت آگیا چنانچہ وہ اپنے فیصلوں پر شرمندہ نہیں بلکہ سو فیصد مطمئن ہیں ۔*
*لہذا اگر ملک کے سیکولر دیش واسی اب بھی سنبھلنا چاہتے ہیں نیز اپنی پردہ نشیں خواتین اور اپنے معصوم بچوں کو آئندہ ہونے والی درندگی سے بچانا چاہتے ہیں تو انہیں اب اپنی حکمت عملی کو بلاتاخیر بدلنا ہوگا۔*

*کوئی بہت زیادہ کام نہیں ہے بلکہ قوم کا ہر فرد جس شعبہ سے وابستہ ہے وہ اگر مندرجہ ذیل طریقے پر صرف اپنی ذمہ داری نبھائے تو پوری قوم کیلئے مفید ہوگا۔ اور بدلے کی امید صرف اللہ سے رکھے۔*
*آپ اپنا کام خود تلاش لیں۔*
*ملک کے بدلتے حالات پر گہری گرفت ہو۔*
*جن راہ نماؤں کو خریدا جا چکا ہے اور وہ باتوں کو گول مول کر کے پیش کر رہے ہیں ان کو پہچاننا ہوگا۔*
*عوامی بیداری کو ماند نہ پڑنے دیں۔*
*دیش کے سیاسی رہنما نکڑ میٹنگوں کے ذریعہ اس سیاہ قانون کے عظیم قومی نقصانات سے عام لوگوں کو آگاہ کرتے رہیں۔*
*زخمیوں کے اہل خانہ سے ملاقات کر کے ان کی تعزیت کریں اور ہو سکے تو ان کا مالی تعاون بھی کریں۔*
*دیش کے نیک دل وکلاء کی ایک ٹیم ہر جگہ تیار کی جائے جو بے قصور لوگوں کی رہائی کے لئے اپنی خدمات پیش کریں۔*
*دیش کے ڈاکٹروں کی ہر جگہ ایسی ٹیم تیار رہے جو زخمیوں کیلئے اچھے اور بروقت علاج کا انتظام کر سکیں۔
دیش کے اصحاب ثروت قوم و ملت کے درد کو سمجھیں اور *مریضوں،زخمیوں کے مالی تعاون کے علاوہ ایک ٹیم بناکر مظاہرین کے لئے رفاہی ریلیف کا انتظام کریں۔*
*تمام تنظیموں اور جماعت و جمعیت کے ذمہ داران ایک ساتھ مختلف سیکولر پارٹیوں کے ہمراہ تمام یونیورسٹیوں کے طلباء سے مل کر کل جماعتی طرز پر ان کو حوصلہ دیں۔*
*قوم کے پڑھے لکھے افراد لاکھوں کی تعداد میں ملک کی عدالت عالیہ سپریم کورٹ میں قانون کے خلاف پیٹیشن دائر کریں۔*
*اسکول کے اساتذہ اپنی اسکولس میں مختلف کاؤنٹرس لگاکر بچوں کے پیرینٹس کو اپنے مکمل ڈاکو مینٹس منگواکر ان کی رہنمائی کریں کہ این آر سی اگر نافذ ہوا تو کون سے کاغذات ضروری ہیں؟*
*یہ چند اہم کام اگر ہم نے ابھی نہیں کئے تو آئندہ سینکڑوں برس تک بنی اسرائیل سے کہیں زیادہ ہماری معصوم نسلوں کو ان کالے انگریزوں کی غلامی کرنا پڑے گی جس سے نجات ملنا مشکل ہوگا۔۔۔۔۔۔۔۔*
*یقین جانئیے : آپ ہی کے بیچ کوئی محمد بن قاسم، کوئی صلاح الدین ایوبی ہے بس صرف اپنی قدر و قیمت پہچاننے کی دیر ہے۔۔۔*

*خدارا ! اس نازک وقت میں فوری طور پر کچھ عملی اقدام کرتے ہوئے اس بِل کو روکنے کے لئے کوشش کر لیجئے۔ ہو سکتا ہے ہم میں سے کسی کو آپ میں سے کسی سے کسی مسئلے میں اختلاف ہو, لیکن ہم آپ کی قیادت کو تسلیم کرتے ہیں, آپ کو رہنما مانتے ہیں, ملک کے طول وعرض میں آپ سب کے تعلقات ہیں۔* *حکومتیں, میڈیا سب آپ کی آواز پر لبیک کہتے ہیں, آپ لوگ اگر اس وقت کھڑے ہو گئے اور ملک کے انصاف پسند لیڈران کو ساتھ لے کر ہنگامی طور پر صرف ہر صوبے کی راجدھانی کو ٹارگیٹ کر کے وہاں کی ملکی اور صوبائ تمام پارٹیوں کے دفاتر میں پہنچ کر صاف صاف گفتگو شروع کر دی تو ایک نیا منظرنامہ سامنے آ سکتا ہے۔ ابھی مواقع ہیں کام ہو سکتا ہے۔ لیکن وقت بہت کم ہے, ہمارا اللہ کی تقدیر پر ایمان ہے, کوشش کے باوجود بھی نتیجہ نہ نکلا تو یہ مشیئت الہی ہے اور ہم اُس پر راضی رہیں گے, لیکن اگر خدانخواستہ کسی کوشش کے بغیر یہ وقت نکل گیا اور کچھ منفی ہو گیا تو پورے دیس واشیوں کو تکلیف پہنچے گی, تمام دیش واسیوں کا اعتماد آپ قائدین ونیتاؤں پر سے متزلزل ہو جائے گا۔ نہ جانے کتنے قلم اور کتنی زبانیں ہیں جو ابھی تک نہیں بولیں وہ سب چیخ اٹھیں گے اور ہم کسی قیمت پر وہ منحوس وقت دیکھنا نہیں چاہتے۔ پھر بھی مؤدبانہ اور عاجزانہ گزارش کرتے ہیں کہ خدارا ! قانونی دائرے میں کچھ کوشش کر ڈالئیے, وقت کی نزاکت کو آپ ہم سے بہتر سمجھتے ہیں, ہماری آوازیں صدا بصحرا ہیں, اللہ سن رہا ہے وہ اجر بھی دے گا, لیکن آپ اگر بولیں گے تو اللہ اجر بھی دے گا, دیس واسی متوجہ بھی ہوگا اور قوم کا اعتماد بھی آپ سب پر بڑھے گا۔*
*ملت تو اب یہ طے کر چکی ہے کہ ہمارا مستقبل میں کسی کے ساتھ بھی رشتہ اب تازہ ترین صورت حال میں اس کے کام کو دیکھ کر طے ہوگا۔ کس سے قرب رکھنا ہے اور کس سے بُعد ؟*
*آج جو دیس واسی خود کو ڈرا ہوا اور خوف زدہ محسوس کرتے ہیں انکی مطالعہ کے لیئے مولانہ ابولکلام آزاد کی یہ تحریر پیش خدمت پے:*

*آج زلزلوں سے ڈرتے ہو۔کبھی تم خود ایک زلزلہ تھے۔ آج اندھیرے سے کانپتے ہو۔ کیا یاد نہیں رہا کہ تمہارا وجود ایک اُجالا تھا۔ یہ بادلوں کے پانی کی سیل کیا ہے کہ تم نے بھیگ جانے کے خدشے سے اپنے پائینچے چڑھا لئے ہیں۔ وہ تمہارے ہی اسلاف تھے جو سمندروں میں اُتر گئے, پہاڑوں کی چھاتیوں کو روند ڈالا, بجلیاں آئیں تو اُن پر مسکرائے, بادل گرجے تو قہقہوں سے جواب دیا۔ صرصر اُٹھی تو رُخ پھیر دیا, آندھیاں آئیں تو اُن سے کہا تمہارا راستہ یہ نہیں ہے, یہ ایمان کی جانکنی ہے کہ شہنشاہوں کے گریبانوں سے کھیلنے والے آج خود اپنے ہی گریبان کے تار بیچ رہے ہیں اور خدا سے اِس درجہ غافل ہو گئے ہیں کہ جیسے اُس پر کبھی ایمان ہی نہیں تھا۔*
*رہا ہم ہندوستانی مسلمانوں نے جناح کی فکر کو اسی وقت رد کردیا تھا اور آج بھی اسے رد کرتے ہیں اور رد کرینگے۔ ہم نے تو مولانا ابو الکلام آزاد جو آزاد ہندوستان کے پہلے وزیر تعلیم تھےان کی باتوں کو تسلیم کیا تھا اور کررہے ہیں، کرتے رہیں گے ان شاءالله.*
*یقیناً ابھی سویرا ہے ۔ ہم متحد ہو کر انہیں اپنا پیغام پہنچا سکتے ہیں۔*
*آپ خود سنویدھان کو پڑھو اسے بچاؤ ،سب اس دیس کے باشندے ہیں اور پولیس کو غنڈہ کردی سے روکو ان کو بیدار کریں کہ اپنا ایمان جگائیں اور سنویدھان کا ساتھ دیں ،غنڈوں کا ساتھ نہ دے۔*

*پروردگار عالم ہم سبھی لوگوں کو دشمنوں کی شر سے محفوظ رکھے، برادرانِ وطن کو اعداء کی گندی پا لیسیوں سے محفوظ رکھتے ہوئے ان کے ناپاک عزائم کو ملیامیٹ کردے،ملک و ملت کی بقاء کے لئے اللہ تعالی ہمیں متحرک اور فعال کردار ادا کرنے کی توفیق عطا فرمائے ،ہم سب کوحق گوئی و بے باکی کے ساتھ قلمی اور لسانی خدمات کی توفیق عطا فرمائے اور تمام رکاوٹوں سے محفوظ آمین ۔ آمین تقبل یا رب العالمین۔*

*و ما توفیقی الا باللہ ۔۔*

تحریر: افروز عالم ذکر اللہ سلفی،گلری,

afrozgulri@gmail.com

*7379499848*

*12/01/2020*